Daily Mashriq


شجرکاری مہم ، پودوںکی نگہداشت اور تحفظ بھی یقینی بنایا جائے

شجرکاری مہم ، پودوںکی نگہداشت اور تحفظ بھی یقینی بنایا جائے

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے سبز پاکستان شجرکاری مہم کے افتتاح کے موقع پر دعویٰ کیا ہے کہ بلین سونامی ٹری منصوبے کے تحت صوبہ بھر میں ساٹھ کروڑ پودے لگائے جا چکے ہیں اور 2017ء کے آخر تک ایک ارب پودے لگانے کا ہدف پورا کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت ایک ارب پودے لگا سکتی ہے تو وفاقی حکومت کو پانچ ارب پودے لگانے چاہیئں ۔ واضح رہے کہ وفاق کی جانب سے دس کرورڑ پودے لگانے کا پروگرام وضع کیا گیا ہے۔ بلین ٹری سونامی کے تحت صوبے میں ایک ارب پودے لگانے کے پروگرام کی افادیت اور اس کے احسن ہونے سے کسی کو انکار نہیں لیکن اس امر کا یقین نہیں آتا کہ خیبر پختونخوا میںاتنے بڑے پیمانے پر پودے لگانے کا ہدف پورا کیا جائے گا۔ شاید ا س لئے اس پروگرام کے حوالے سے شک و شبہ کا اظہار ہوتا ہے ۔ بہر حال جو ہدف صوبائی حکومت نے عمران خان کے وژن کی تکمیل کیلئے مقرر کیا ہے اس کو پورا کرنا نہ کرنا ان کی منصوبہ بندی اور کارکردگی کا مظاہرہ ہوگا۔ ابتک ستر کروڑ پودے لگائے جانے کے دعوے کا جائزہ لیا جائے تو اس کی حقیقت بھی مشکوک دکھائی دیتی ہے ۔ہم نے قبل ازیں بھی انہی کالموں میں اس طرح کی تنقید سے بچنے اور عوام کی تسکین کیلئے صوبائی حکومت اور محکمہ جنگلات کو ان بڑے مقامات پر شجرکاری کی ایک ویڈیو اور تصاویر کے اجراء کا مشورہ دیا تھا جہاں اتنے بڑے پیمانے پر شجر کاری ہوئی ہے۔ اس امر کا سوچ کر ہی دل باغ باغ ہوتا ہے کہ ہمارے صوبے میں ستر کروڑ پودے لگائے جا چکے ہیں جن میں سے تیس فیصد ضائع ہونے کے باوجود ستر فیصد پودے ابھی تک سر سبز ہیں ۔اس رو سے اب تک تقریباً کوئی پینتا لیس سے پچاس کروڑ کے لگ بھگ پودے سر سبز ہوں گے۔ اگر دیکھا جائے تو شجر کاری کے بعد پودوں کی زندگی کیلئے ابتدائی تین دن پہلا ہفتہ اور پہلا مہینہ نازک ہوتا ہے۔ اگر یہ تین دورانیہ پودے نکال جائیں تو پھر شاذو نادرہی ان کے سوکھنے کے امکانات ہوتے ہیں ۔اگر کوئی پودا سال بھر سر سبز رہتا ہے او رجانوروں کی خوراک نہیں بنتا تو گویا وہ نازک پودا جوانی کے دور میں داخل ہوتا ہے ۔ اب ہمیں دیکھنا ہوگا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے بقول جو ستر فیصد پودے ابھی تک سر سبز ہیں وہ کہاں ہیں اور کس مرحلے میں ہیں۔ اگر صوبائی حکومت ان کی ایک ویڈیوجاری کر ے تو بڑے بڑے ناقدین کی زبانیں خود بخود گنگ ہو جائیں گی ۔ بہر حال اب جبکہ شجرکاری مہم کا آغاز ہو چکا ہے ہمارے تئیں اس مہم کے دوران صرف پودے زمین میں لگانا ہی کافی نہیں بلکہ یہ تو ابتدائی اور آسان مرحلہ ہے اس حد تک تو چند دن جو ش و خروش دکھائی دے گا سرکاری محکموں کے اہلکارپہلے ہی دن اس کا کافی مظاہر ہ کر تے دکھائی دیئے مگر اسے افسوسناک ہی قرار دیا جائے گا کہ بلین سونامی ٹری مہم کے افتتاح سمیت مختلف ادوار میں شجر کاری کی جو مہمات چلائی جاتی رہی ہیں سرکاری اہلکاروں نے انہی گڑھوں میں دوبارہ سے پودے لگائے ہیں جہاں سال میںدومرتبہ ہونے والی شجرکاری میںوہ پودے گاڑھ کر بھول گئے تھے ۔ پودوں کی آبیاری نگہداشت ان کو جانوروں اور حتیٰ کہ انسانوں سے محفوظ رکھنا کوئی آسان کام نہیں جو پودے نئی زمین پر لگنے کے بعد سوکھ جائیں وہ اپنی جگہ مگر دیکھا جائے تو پودے بلاوجہ سوکھ کر ضائع نہیں ہوتے بلکہ زمین کی مناسب تیاری اور احتیاط سے پودے لگائے جائیں تو ان کی زندگی کو خطرات کم ہی لاحق ہوتے ہیں جس کے بعد ان کی آبیاری و تحفظ پر توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے دیہات میں عام لوگوں کے ہاتھوں لگائے گئے پودے سال دوسال میں تو تناور درخت بن جاتے ہیں مگر محکمہ جنگلا ت اور سرکاری اہلکاروں کے لگائے گئے پودے ابتدائی دنوں ہی میں سوکھ جاتے ہیں اور ہر سال موسم بہار کی شجرکاری کی جگہ ان کو موسم برسات میں دوبارہ سے پودے لگانے کیلئے گڑھے میسر آتے ہیں ۔ ہماری تجویز ہوگی کہ صوبائی حکومت اگر 60کروڑ پودوں میں سے جو ستر فیصد سرسبز ہیں اولاً ان کی حفاظت یقینی بنائے جس کے بعد ایک ارب پودے لگانے کے ہدف کی طرف بڑھے ۔ اگر ایک ارب پودوں میں سے نصف ہی سر سبز باقی رہ جائیں تو شاید خیبر پختونخوا کا کوئی علاقہ بھی پودوں سے محروم نہ رہ جائے ۔ بہتر ہوگا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک محکمہ جنگلات کے ٹمبر مافیا سے ملی بھگت رکھنے والے عمال کی رپورٹوں پراکتفا نہ کریں اور نہ ہی پی ڈی اے اور دیگر اداروں کے دعوئوں کو اس وقت تک درست تسلیم کرنے پر تیارہوں جب تک وہ اس کے بارے میں اپنے ذرائع سے قابل اعتماد رپورٹ حاصل نہ کریں۔ تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اور اس کے نوجوان کارکن کافی متحرک ہیں۔ ان کو شجرکاری کی تصاویر اور ویڈیوز بنا کر میڈیا پر شیئر کرنا چاہیے اور جو پودے گزشتہ شجرکاری مہم کے دوران لگائے گئے تھے اور اب وہ پودے بڑھوتری کے مرحلے میں ہیں ان کی تصاویر اور ویڈیوز زیادہ سے زیادہ شیئر کی جائیں تاکہ جہاں اس سے شجر کاری کی حوصلہ افزائی ہووہاں مخالفین کی تنقید کا مدلل او ربا ثبو ت جواب بھی دیا جا سکے ۔

متعلقہ خبریں