Daily Mashriq

صحت سہولت پروگرام پر عملد ر آمد میں تاخیر

صحت سہولت پروگرام پر عملد ر آمد میں تاخیر

صوبے کے چاروں تدریسی ہسپتالوں میں دوماہ گزرنے کے باوجود صحت سہولت پروگرام کے تحت علاج معالجہ شروع نہ ہونا پروگرام کے منتظمین اور حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔اگر سرکاری تدریسی ہسپتالوں کی سطح پر صوبائی دارالحکومت میں یہ پروگرام دوماہ گزرنے کے باوجود بھی شروع نہ ہو سکا تو صوبہ بھر میں اس پروگرام پر عملدرآمد کے انتظامات میں کتنا وقت لگے گا۔ دوسری جانب حکومت نے جس انشورنس کمپنی سے معاہد ہ کر رکھا ہے اس کو دوماہ میں کسی مریض کو علاج کی سہولت دیئے بغیر کروڑوں کا فائدہ ملا ہوگا۔ بہرحال ممکن ہے معاہدے میں یہ بات شامل ہو کہ معاہدے پر عملدر آمد علاج معالجہ شروع ہونے کی تاریخ سے ہوگا لیکن عموماً انشورنس کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ سال کی مدت کا ہوتا ہے بہر حال اس سے قطع نظروہ کونسی مشکلات ہیں جن کے باعث یہ احسن منصوبہ شروع نہیں ہو پارہا۔ اس کی ایک عمومی وجہ تو یہ سمجھ میں آتی ہے کہ دیگر منصوبوں کی طرح اس منصوبے پر ابتدائی عملی تیاریوں کا فقدان ہوگا اور منصوبہ شروع کرنے کے بعد اس پر عملدر آمد کے طریقے وضع ہو رہے ہوں یا پھر وضع شدہ طریقہ کار کوبروئے کار لانے میں مشکلات کا سامنا ہے ہر دو صورتوں میں دو ماہ کا وقت کافی ہوتا ہے۔ ان دو ماہ کے دوران کتنے مستحقین کا انتقال ہو چکا ہوگا اور کتنے مستحقین نے قرضے لیکر علاج معالجہ کیاہوگا اور کتنے ایسے ہوں گے جو صحت کارڈ کے ذریعے مفت علاج کرانے کے انتظار میں بیماری اور انتظار کی اذیت سے گزر رہے ہوں گے ۔ سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کی جانب سے پیشگی رقم کی ادائیگی کا مطالبہ تو نامنا سب اور بلاوجہ نہیں بہر حال متعلقہ انشورنس کمپنی کو جلد سے جلد اس بارے میں کوئی متفقہ طریقہ کار تلاش کرنا چاہیے اور سرکاری ہسپتالوںمیں صحت کارڈ کے حامل مریضوں کو مفت علاج کی سہولتوں کی فراہمی میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے ۔

فاٹا اصلا حات پر مزید غور کی ضرورت

وزیر اعظم محمد نواز شریف کی طرف سے فاٹا اصلاحات کا پیکج کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی یقین دہانی خوش آئند ضرور ہے لیکن اس مرتبہ کا بینہ کے اجلاس کے ایجنڈے پر موجود ہونے کی بناء پر اسے ایجنڈے سے کن وجوہات کی بنا ء پر نکالا گیا وزیر اعظم اگر اس کی بھی وضاحت کرتے تو مغالطہ دور ہو سکتا تھا۔ اگر اس پر مزید مشاورت کی ضرورت ہے تو کیا قبل ازیں بغیر مشاورت کے اس معاملے کو ایجنڈے کا حصہ بنایا گیا تھا ۔ قبائلی عوام کی رائے کا منقسم ہونا کسی سے پوشیدہ نہیں اس ضمن میں یہ امر بھی خاص طور پرباعث تشویش ہے کہ اختیار کردہ موقف بھی قبائلی عوام کے مفادات اور ان کی تعمیر و ترقی کے تناظر میں کم اور مختلف سیاسی جماعتوں ، گروہوں اور قبائلی عمائدین کے اپنے مفادات کے تحفظ کا تاثر زیادہ ابھرتا ہے ۔ اس رو سے مختلف الخیال گروپوں میں سے کسی گروپ کو بھی قبائلی عوام کا خیر خواہ اور نمائندہ قرار دینا مشکل امر ہے ۔ ایسے میں قبائلی عوام سے رائے لینے ہی کا عمل زیادہ بہتر ضرور ہے بشرطیکہ اس عمل کو بھی محولہ گروپ یر غمال نہ بنالیں اور قبائلی عوام کو بہکاوے میں نہ لائیں ۔ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے ایسے ماہرین کی ٹیم تشکیل دے کر ان سے رائے لی جانی چاہیے جن ماہرین کے کوئی سیاسی عزائم اور مفادات نہ ہوں اور وہ خالصتاً انتظامی معاملات تعمیر و ترقی اور قبائلی عوام کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھ کر تجاویز دیں ۔ قبائلی عوام کی رائے اپنی جگہ محترم ہے لیکن ان کے مفاد میں کیا ہے اس حوالے سے ان کو اگر ماہرین کی رائے سے آزاد انہ طور پرآگاہ ہونے کا موقع دیاجائے تو کوئی بہتر فیصلہ سامنے آئے گا ۔ جو عناصر جلد بازی میں قبائلی عوام کے مستقبل کے فیصلے کے بارے میں کوشاں ہیں اور وہ آمدہ انتخابات اور مرد م شماری سے قبل کوئی فیصلہ دیکھنا چاہتے ہیں ان کے پاس بھی قبائلی علاقے کے عوام کے مستقبل کے بارے میں کوئی ٹھوس منصوبہ بندی اور تجاویز نہیں ، کوئی یہ بتانے کو تیا ر نہیں کہ مجوزہ صورتوں میں سے ان کی تجویز کے اختیار کئے جانے کے بعدفاٹا کی ترقی اور عوام کے مسائل کے حل میں کتنی بہتری آئے گی ۔ فاٹا اصلاحات پیکج کو کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کرنے سے قبل ایک مرتبہ پھر عوام کی رائے کی اکثریت کے ساتھ ان اصلاحات کے موثر ہونے کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور اصلاحات کے اعلان کے بعد ان اصلاحات کے نفاذ اور ان کو عوام کے مفادات میں مئو ثر اور کار آمد ثابت کرنے کیلئے بھی ٹھوس لائحہ عمل مرتب کیا جانا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ فاٹا کا معاملہ آدھا تیتر آدھا بٹیر اور نہ ادھر کے رہے اور نہ ادھر کے رہے کی تصویر بن کر رہ جائے اور عوام کو مایوسی کا سامنا ہو۔ توقع کی جانی چاہیے کہ معاملے کے تمام فریق تجاویز اور مساعی کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو اصلاحات کے نفاذ کیلئے ساز گار ہو اور اصلاحات کا مئو ثر نفاذ یقینی بن جائے ۔

متعلقہ خبریں