Daily Mashriq


یہ ترجیحات کی بات ہے

یہ ترجیحات کی بات ہے

خوابوں اور خواہشوں کی کوئی حد نہیں ہوتی اور اس سے بھی زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ ان پرندوں کے پالنے پر کوئی قد غن بھی نہیں ۔ ایک غریب ملک میںجہاں بد عنوانی کی دھوپ پہاڑوں کی چوٹیوں سے پگھل کر تمام تروادی میںیوں پھیل چکی ہو کہ گھاس کی ایک ایک پتی اس دھوپ کا رنگ اپنی جڑ سے پی کر اسکے رنگ میں رنگی جا چکی ہو وہاں پاناما لیکس کی عدالتی چھان بین بھی ایک عمدہ اور خوبصورت خواب ہے اور فیتے کاٹنے سے جڑی خواہش بھی خوب ہیں ۔ ہم خواب دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ہماری ملجگی پژمردہ زندگیاں خوشیوں کی کسی سنہری کرن سے نہیں تمتما تیں ۔ تبھی تو ادھار مانگے خواب بھی آنگنوں میں جگمگا ئیں تو بھی دل کھل اٹھتا ہے ۔ ایک جانب سے عمران خان کی آواز آتی ہے کہ وزیر اعظم جتنے بھی فیتے کاٹیں پاناما سے بچ نہیں پائینگے ۔ ایک بار پاناما کا فیصلہ ہو گیا اسکے بعد ہر چیف ایگزیکٹو کرپشن سے خوفزدہ رہے گا ۔ ہم ان کی باتیں سن کر اطمینان سے آنکھیں موند لیتے ہیں ۔ عدالت عالیہ اس ملک کا ، عوام کا خیال رکھنے والی ہے ۔ وہ ہمارا بُرا کبھی نہیں ہونے دینگے ۔ وہ بد عنوانوں کو تلاش بھی کرلیں گے اور سزا بھی دینگے ۔ پھر دوسری جانب سے ایک اورکڑک دار آواز ابھرتی ہے ، ہم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے ہیں ، ابھی تو خواب شروع ہی ہوا تھا نیند سے کیوں جگا دیا ۔ میاں نواز شریف کہتے ہیں کہ محنت کرنے والے ہی فیتے کا ٹا کرتے ہیں ۔ مخالفین کو چاہیے کہ سازشیںچھوڑ کر ہاتھ بڑھائیں ۔ ہرطرف اچھی خبریں ہیں ۔ اگلے سال لوڈشیڈنگ مکمل ختم ہو جائے گی ۔ بجلی سستی کر دی جائے گی ۔ دنیا بھر کا میڈیا پاکستان میں ہونے والی ترقی کی مثالیں دے رہا ہے ۔ پھر اچانک ہی ایک مالیاتی ادارے پرائز واٹر ہائوس کو پرز کی رپورٹ نکال کر ہماری آنکھوں کے سامنے لہرائی جاتی ہے۔ اس ادارے کی رپورٹ ہمیں بتا رہی ہے کہ ہماری معیشت جو اس وقت دنیا کی 321طاقتور معیشتوں میں سے ایک ہے ، خواہ وہ بیسویں نمبر پر ہے ایسی کمال ترقی کر رہی ہے کہ 2030تک پاکستان کینیڈاسے آگے نکل جائے گا ۔ یاد رہے کہ ان معیشتوں میں پہلے نمبر پر چین ، دوسرے نمبر پر امریکہ جبکہ تیسرے نمبر پر بھارت موجود ہے ۔ یہ رپورٹ کہتی ہے کہ پاکستان کی معیشت ،کینیڈاکی معیشت کوپیچھے چھوڑ سکتی ہے ۔ 2016ء میں تو پاکستانی معیشت کینیڈااور اٹلی دونوں ہی سے آگے چلی جائیگی ۔ صرف پاکستان ہی نہیں مصر ، میکسیکو اور انڈونیشیا بھی ترقی کرینگے۔ اسی رپورٹ میںیہ دعویٰ بھی ہے کہ 2050تک بھارت کی معیشت امریکہ کی معیشت کو پچھاڑ چکی ہوگی اور دنیا میں دوسرے نمبر پر ہوگی ۔ اس رپورٹ میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہم تیرہ سالوں میں ایسی بیش بہا ترقی کرینگے کہ کینیڈاسے آگے نکل جائینگے اور اس وقت اس فہرست میں پاکستان بیسویں نمبر پر ہے جبکہ کینیڈا17ویں نمبر پر ہے۔ تیرہ سالوں میںکینیڈا18ویں نمبر پر آجائے گا اور پاکستان 17ویں نمبر پر ہوگا ، مصر اس وقت 15ویں نمبر پر ہوگا ۔ اس رپورٹ کا حوالہ دیا جانا ہی کما ل ہے ۔ اس کو بنیاد بنا کر دعوے کرنا اس سے بھی زیادہ حیران کن ۔ حکمرانوں کی ذہانت اور دور اندیشی پر انسان انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔ لیکن پھر دل کو تسلی دے لیتا ہے کہ چلو بات تو اچھی کر رہے ہیں ، اس میں سچائی کتنی ہے اور حقیقت کسی قدر ہوگی اس کا فیصلہ تو وقت ہی کرسکتا ہے ۔ ہم پھر منہ میں چوسنی ڈال کر اپنے پنگھوڑے میں کروٹ بدل لیتے ہیں ۔ 

اچھے دن آنے والے ہیں ۔ ہم تبھی اٹھیں گے جب اچھے دن آجائینگے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ معاملہ آخر کب تک یونہی چلتا رہے گا ۔ عوام نے تو یہ ٹھان رکھی ہے کہ وہ خود اپنے دن سنوارنے کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن کیا خوابوں اور امید وں کے جس نگر میں ہم جی رہے ہیں اس میں کہیں سچائی کی کوئی آواز ، کبھی ، سنائی بھی دیتی ہے ؟ عمران خان کی باتیں دل کو بہت اچھی لگتی ہیں ۔ لیکن ایک ایسے ملک ایک ایسے نظام کا خواب دیکھنا جس میں کسی قسم کی کوئی بد عنوانی نہ ہو ممکن بھی ہے یا یہ وہی خوابوں کے جھولے ہیں جو ہم خواہشوں کے باغ میں ڈالے بیٹھے ہیں اور جھولنے کو ہر لمحہ تیار ہیں ۔ پاناما لیکس کا کیا فیصلہ ہوگا کوئی کیا کہہ سکتا ہے لیکن فیصلہ کچھ بھی ہو جائے اس سے عوام کی ذاتی ترجیحا ت کیسے بد ل جائینگی ۔ وہ پٹواری جو نہایت دھڑلے سے رشوت مانگتا ہے اور اس س کمی بیشی کی گنجائش پوچھنے پر آنکھیں دکھا کر کہتا ہے کہ یہی ریٹ طے ہے اگر نہیں دے سکتے تو اپنا راستہ ناپو۔ وہ لائن مین جس کا ماہانہ مختلف گھروں سے بندھا ہوا ہے تاکہ ان کی بجلی چوری کی اطلاع کسی کو نہ دے بلکہ ان کا حامی و مددگار ہو ، وہ پولیس والا جو ناکے پر اس آس کے ساتھ بیٹھا ہے کہ کب کوئی اسکے ہتھے چڑھ جائے اوریہ اس سے اپنی اس روز کی دیہاڑی وصول کرلے ۔ ان لوگوں نے الیکشن کے روز اپنے گھروں سے نکل کر کسی کو ووٹ بھی ڈالنے ہیں ۔ یہ لوگ سراج الحق کو ووٹ نہ ڈالیں گے ۔ یہ لوگ عمران خان کو بھی ووٹ نہ ڈالیں گے ۔ یہ لوگ ان نمائندوں کو ووٹ ڈالتے ہیں کہ اگر کبھی یہ کسی انکوائری میں پھنس جائیں تو انہیں چھڑ وا سکیں ۔ ان کا کسی ''ٹھنڈی سیٹ '' پر تبادلہ ہوجائے تو اچھی جگہ واپس تبادلہ کر وا یا جا سکے یہ لوگ اقلیت میں بھی نہیں ۔ جس ملک میں سچ بول کر سودا بیچنے والا دکاندار عنقاہو اس ملک میں ان جیسے لوگوں کی بہتات ہے ۔ یہ ان لوگوں کو ووٹ دیتے ہیں ، جو پیپلز پارٹی میں ہیں ، مسلم لیگ (ن) میں ہیں ایم کیو ایم میں ہیں ، اے این پی میں ہیں ۔ اصولی سیاست ، اصولوں کی بات چیت کا اس عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں ۔ وہ عام آدمی نواز شریف کے آدھی موٹروے کے افتتاح کے بارے میں نہیں سوچتا ، وہ چاہتا ہے کہ اسے اسکی وفاداری کا صلہ ملے اور یہ صلہ میرٹ کی لاش پر کھڑے ہو کر حاصل ہوتا ہے تبھی تو کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے کل بھی نوازشریف وزیراعظم تھے اور آج بھی ہیں ۔یہ بات خوابوں کی نہیں ترجیحات کی ہے ۔

متعلقہ خبریں