Daily Mashriq


اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

چند دن پہلے ہمیں ایک بارات میں شرکت کرنی تھی کارڈ میں آٹھ سے لیکر دس بجے رات تک کا وقت لکھا گیا تھا ۔ہم اپنی ترتیب درست کررہے تھے کہ کوئی ایسا طریقہ نکل آئے کہ کالم بھی لکھ لیا جائے اور شادی کی تقریب میں حاضری بھی ہو جائے کالم لکھنے میں ایسے محو ہوئے کہ جب گھڑی کی طرف نگاہ کی تو رات کے ساڑھے نو بج رہے تھے جانا بھی ضروری تھا ۔کپڑے تبدیل کرکے رواں دواں ہوگئے۔اس معاملے میں مرد حضرات خواتین کے مقابلے میں بڑے خوش قسمت واقع ہوئے ہیں ۔خواتین شادی سے چند مہینے پہلے ہی تیاری شروع کردیتی ہیں۔یہ جوڑا مہندی پر پہننا ہے اور یہ بارات پر۔ ولیمے کے لیے فلاں سوٹ مناسب رہے گا اسی طرح جوتے کپڑوں کی مناسبت سے خریدے جاتے ہیں ۔ زیورات کا خاص طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔ اگر ان میں کوئی کمی نظر آئے تو مصنوعی زیورات کو ساتھ ملا کر کام چلا لیا جاتا ہے۔بہت سے سفید پوش حضرات جن کی اچھی خاصی آمدنی ہوتی ہے لیکن اپنے ہوم منسٹر کے حد سے بڑھے ہوئے اخراجات کی وجہ سے کچھ بھی پس انداز نہیں کرسکتے اور ساری عمر سفید پوشی سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔اگر کوئی فرمائش پوری کرنے سے انکار کرتے ہیں یا نیک پروین کا کوئی مشورہ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے نہیں مان سکتے تو گھر میں ایسا گھمسان کا رن پڑتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔اس سے پہلے کہ ہمارا قلم فراٹے بھرنے لگے اور ہم حدود کو پھلانگتے ہوئے کچھ ایسی باتیں بھی لکھ جائیں جو لوگوں کو اچھی نہیں لگتیں ہم یہ سلسلہ یہیں پر روک لیتے ہیں کیونکہ ہمیں اس کا ایک تلخ تجربہ پہلے ہو چکا ہے ۔ہمارے ایک بہت ہی پیارے دوست کے بیٹے کی منگنی تھی جس پر موصوف نے بہت زیادہ اخراجات کیے ہم نے اصلاح معاشرہ کے جوش میں ایک کالم میں ان کا نام لیے بغیر ان کا ذکر خیر کردیا کہ منگنی کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے اگر اس کو سادگی سے کیا جائے تو بہتر ہے۔ تو جنا ب آج تک ہم سے ناراض ہیں۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا بات ہو رہی تھی شادی کی تقریب میں شرکت کے حوالے سے جب ہم بارات پر دیر سے پہنچے تو لوگ ابھی تک انتظار کی کوفت برداشت کررہے تھے ۔ ہمیں ایک دوست کہنے لگے کہ یا ر بڑے صحیح وقت پر آئے ہو میں تو پچھلے ایک گھنٹے سے انتظار کی اذیت برداشت کررہا تھا۔دراصل اب لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں رہا ۔وہ پہلے والی فراغت اب کہاں ہے جسے دیکھیے بھاگ رہا ہے ۔چند دن پہلے ایک ٹی وی چینل پر کچھ والدین بچے اور ٹیچرز ایک مباحثے میں شریک تھے ۔ایک خاتون کہنے لگیں کہ اب میاں بیوی دونوں جاب کرتے ہیں لیکن اخراجات ہیں کہ پورے ہی نہیں ہوتے۔ صرف بچوں کی سکول فیس اتنی زیادہ ہے کہ والدین کو سر کھجانے کی فرصت ہی نہیں ملتی ۔اسی طرح بجلی اور گیس کے بل اس کمر توڑ مہنگائی میںایسی ضرب لگاتے ہیں کہ چھٹی کا دودھ یا د آجاتا ہے۔ جب والدین تھکے ہارے شام کو گھر آتے ہیں تو ان کے پاس بچوں کو دینے کے لیے وقت کہاں ہوتا ہے اس لیے اب ضروری ہے کہ تربیت کا سارا بوجھ اساتذہ ہی برداشت کریں ۔ہم کیا کریں مجبور ہیں اخراجات پورے کرنے کے لیے دو دو شفٹوں میں کام کریں یا بچوں کی تربیت کا اہم فریضہ سر انجام دیں۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بچے کی تربیت کے پہلے سات سال بڑے اہم ہوتے ہیں بلکہ ماہرین کا تو یہ کہنا ہے کہ پہلے سات برسوں میں انسان کی جو شخصیت بن جاتی ہے وہ ساری عمر اسی کے زیر اثر رہتا ہے۔ یوں کہیے کہ پہلے سات برس انسانی زندگی میں تربیت کے حوالے سے اہم ترین ہیں۔جدید زندگی کے تقاضوں نے انسان کو اپنے آپ سے غافل کردیا ہے۔ وہ ہر کام کے لیے کھینچ تان کر کسی نہ کسی طرح تو وقت نکال ہی لیتا ہے لیکن اگر اس کے پاس وقت نہیں ہے تو اپنی ذات کے لیے ۔ انہی الجھنوں اور پریشانیوں میں ایک دن زندگی کی شام ہو جاتی ہے جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے ایک شدید قسم کا پچھتاوا اپنے حصار میں جکڑ لیتا ہے۔ شاید اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آج کا انسان فطرت سے بہت دور ہوچکا ہے۔ زندگی کا یہ غیر فطری پن اپنے منفی اثرات اس پر یقیناً ڈال رہا ہے ۔ایک دن ہمارے صبح کی سیر کے ساتھی دو تین دن کی غیر حاضری کر بیٹھے ۔جب ہم نے ان کی غیر حاضری کا سبب پوچھا تو کہنے لگے یار کام زیادہ ہے اس لیے دفتر سے فائلیں گھر لے آتا ہوں رات گئے تک فائلوں میں غرق رہتا ہوں اور صبح اٹھتے ہی پھر سے فائل ورک شروع کردیتا ہوں اس لیے تین چار دن نہیں آسکا ۔ یقین کیجیے ہمیں ان کی بات سن کر بڑا دکھ ہوا ہم نے ان سے کہا کہ اے اللہ کے نیک بندے یہ دنیا کے کام ہمیں تو ختم کردیتے ہیں لیکن خود کبھی بھی ختم نہیں ہوتے ۔بات تو شادی کی تقریب کے حوالے سے چلی تھی لیکن اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا ۔ذہن میں کالم کا خاکہ کچھ ہوتا ہے اور قلم ذہن کی گرفت سے ہاتھ چھڑا کر دوسری طرف نکل جاتا ہے۔ اپنے ارد گرد بکھرے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ بہت سی چھوٹی چھوٹی باتیںاپنے مثبت رویے سے ہی ٹھیک کی جاسکتی ہیں ۔لیکن کسی کے پاس سوچنے کے لیے وقت تو ہو۔ پھر چلتے ہیں اسی بارات کی طرف جس کا ذکر خیر شروع کیا تھا ۔ بیس منٹ میں ہم نے کھانا نوش جاں کیا ۔باہر نکلے تو ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہو چکی تھی۔ ہم نے ایک خالی رکشے کو ہاتھ دیا اور واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ ہم نے گھڑی دیکھی تو آنے جانے اورکھانا کھانے میں ہمارا صرف ایک گھنٹہ خرچ ہوا تھا۔ ہم بڑے خوش تھے کہ ہم نے اپنا قیمتی وقت بچالیا ہے۔

متعلقہ خبریں