Daily Mashriq

پتنگ لوٹ کے لائے مگر اڑا نہ سکے

پتنگ لوٹ کے لائے مگر اڑا نہ سکے

ماضی میں جھانکنا پڑے گا ، شاید صدیوں پہلے جب انسان نے زمین سے رزق کے حصول کے طور طریقے سیکھے اورپیداوار کے وافر ذخائر پانے پر خوشی سے جھوم اٹھا تھا ، گندم کے کھلیان کاٹنے کے بعد اجتماعی خوشی اور مسرت کے لمحات کو رنگین یوں بنایا گیا کہ جب ان کھلیانوں سے گندم کے دانے الگ کرنے کیلئے اجتماعی طور پر کوششوں کو ''غوبل '' قرار دیا گیا کیونکہ سب مل کر ان کھلیانوں سے بھو س الگ اور دانے الگ کرتے ہوئے ہائو ہوکر کے جشن کا سماں پیدا کر رہے تھے تو عورتیں خوشی کے گیت گا رہی تھیں اور نغمے جنم لینے لگے۔ یوں یہ تقریب ہر سال باقاعد گی کے ساتھ معاشرتی سر گرمیوں کا حصہ بنتی چلی گئی ، پھر یوں ہوا کہ بسنت رت میں جب ہر سوسرسوں کے پھولوں کی بہار سے مہکارفضا کا حصہ بنی تو اس موسم میں بسنت کے گیت تو بجنے لگے یوں زندگی کا سفر جاری رہا اور ان مواقع پر میلوں ٹھیلوں کا رواج پڑتا رہا ۔ بسنت نے تو رنگوں کی بہار سے اجتماعی تقریبات کو گلرنگ کر دیاتھا ، لوگ بستی رنگ کے کپڑے پہن کر اجتماعات میں شرکت کرتے رہے اور جب انسان نے پتنگ اڑانے سیکھ لیئے تو آسمان میں بھی رنگ برنگے پتنگوں سے ایک اور طرح کی خوشی اور مسرت کے لمحات کشید کئے جانے لگے ۔جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان معاشرتی سرگرمیوں میں کچھ ایسی تبدیلیاں بھی رونما ہوتی چلی گئیں جنکی وجہ سے بسنت کی ان بے ضرر سرگرمیوں پر اعتراضات بہت حد تک درست تھے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند سالوں سے خصوصاً پنجاب کے بڑے شہروں میں بسنت میں پتنگیں اڑانے پر سر کاری طور پر پابندی لگائی گئی ہے ، اگر چہ اس پابندی پر عمل در آمد بھی نیم دلی سے کیا جا رہا تھا اور اس سال حکومت پنجاب نے سخت نوٹس لیکر یہاں تک کہہ دیا ہے کہ بسنت میںدیگر سرگرمیوں پر کوئی پابندی نہیں البتہ پتنگ اڑانے کی اجازت قطعاً نہیں دی جائے گی ۔ اور پنجاب پولیس نے مختلف شہروں میں پتنگ بنانے والوں کے خلاف کریک ڈائون کرتے ہوئے ان لوگوں کو گرفتا رکر نا بھی شروع کردیا ہے ۔ بقول سجاد بابر 

وہ لمس ڈور کی مانند بدن سے لپٹا رہا

پتنگ لوٹ کے لائے مگر اڑا نہ سکے

پتنگ بازی تو اپنے لڑکپن میں ہم نے بھی کی ہے اور ہماری عمر کے بہت سے لوگ اس کام سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں ۔ یوں تو پتنگوں کے ساتھ بازار سے مانجھا بھی گولوں کی صورت میں مل جاتا تھا جو تقریباً سو گز دھاگے پر مشتمل ہوتا تھا ، جب ذرا زیادہ اس کام میں دلچسپی لی تو پھر مانجھا ہم خود ہی تیار کرنے لگے ، اس مقصد کیلئے کئی طریقے اپنائے جاتے ، اور مچھلی شریش ، سمند ر جھاگ ، کانچ کو باریک پیس کر اس میں ملا کر ان تمام چیزوں کو آگ پر پکا کر اور مختلف رنگ ڈال کر ایک محلول بنایا جاتا ، پھر اس میں اس دور میں زنجیر مارکہ دھاگے کی بڑی نلکی ڈال کر اس دھاگے کو دیوار میںگڑی ہوئی لمبی سیخوں کے گرد ایک جانب سے دوسری جانب بار بار لپیٹ کر سوکھنے کے لیے ڈال دیا جاتا اور جب یہ مانجھا سوکھ جاتا تو اسے چرخی کے گرد لپیٹ کر پتنگ بازی کی جاتی ، خوشی کا اس وقت کوئی ٹھکانہ نہ رہتا جب آسمان میں اڑنے والی پتنگوں کی ڈور کاٹ کر ہم لوگ بو کاٹا کے نعرے لگاتے ۔ جن کی پتنگیں کٹ جاتیں ان کی حالت دیدنی ہوتی یعنی بقول داغ دہلوی

کچھ دیکھ رہے ہیں دل بسمل کا تڑپنا

کچھ غور سے قاتل کا ہنر دیکھ رہے ہیں

اگر اس معاشرتی سرگرمی کو صرف وقتی خوشی کے حصول تک محدود رکھا جاتا تو شاید اس کے خلاف اس قدر غو غا آرائی کبھی نہ کی جاتی ، مگر اہل لاہور نے خوشی کے ان لمحات میں کئی قسم کی قابل اعتراض سرگرمیوں کو داخل کرکے عام لوگوں کی نظروں میں اسے مطعون کر دیا ۔ چند برس پہلے لاہور کی فضائوں میں پتنگ بازوں نے گھرو ں کی چھتوں پر اونچی آوازمیں موسیقی کو شامل کر نے کے ساتھ ساتھ مخالفین کی پتنگ کٹنے کی صورت میں ہوائی فائرنگ کا عنصر داخل کیا ، اور ساری ساری رات ہائو ہو کر کے ہمسایوں کی زندگی عذاب بنادی ، پھر شنید ہے کہ پتنگ بازی پر بھاری شرطیں لگانے کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ۔ یوں جوافروغ پاتا رہا ، اس دوران بعض جگہوں سے تصادم کی خبریں بھی آتی رہیں ، اور پھر گزشتہ پندرہ بیس برس سے اس کھیل کا سب سے خطرناک پہلو یو ں سامنے آیا کہ پتنگ کی ڈور عام دھاگے کی بجائے ایسی تار سے بنائی جانے لگی جس سے لوگوں کے گلے کٹنے لگے ، یعنی جب کوئی پتنگ کٹتی تو اس کی باریک سٹیل سے بنائی گئی ڈور سڑکوں گلیوں میں گرتے ہوئے سامنے آنے والے موٹر سائیکل سواروں یا پھر گھروں کی چھتوں پر پتنگ بازی کا تماشہ دیکھنے والوں کے گلوں کو کاٹتے ہوئے گزرجاتی اور اموات میں اضافہ سے کئی گھر ماتم کدہ بنتے چلے گئے۔ حکومت پنجاب نے بہت کوشش کی کہ اس قسم کی سرگرمی کو روکا جائے مگر پتنگ باز سٹیل کی تار کے بنے ہوئے مانجھے کو اپنی وقتی خوشی کیلئے استعمال کرنے سے بازنہ آئے ، اور ہر سال بے گناہ افراد خصوصاً چھوٹے چھوٹے بچے بچیاں اس صورتحال کا شکار ہوتے اور عوام احتجاج کرتے مگر کسی کے بھی کان پر جوں تک نہ رینگتی نہ ہی قاتل کا سراغ ملتا ہے۔ جب اس ضمن میں میڈیا پر عوام کے احتجاج میں اضافہ ہونا شروع ہوا تو حکومت پنجاب نے چند بر س پہلے بسنت پر ہی پابندی عاید کر دی ، اگرچہ پتنگ اڑانے والے پھر بھی باز نہ آئے اور چوری چھپے اپنی سر گرمیاں جاری رکھیں ، یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ کئی ممالک میں پتنگ بازی کی جاتی ہے تاہم وہاں یہ سرگرمی کھلے میدانوں اور سمندر کنارے ہوتی ہے تاکہ کسی کو نقصان نہ پہنچے ، مگر لاہور ملتا ن ، وغیرہ میں لوگ گھروں کی چھتوںپر چڑھ کر پتنگیں اڑاتے ہیں اور کئی پتنگوں کے ساتھ جو ''قاتل ڈور''منسلک ہوتی ہے ، وہ کئی گھروں میں صف ماتم بچھا دیتی ہے اس لیے حکومت پنجاب کی جانب سے اس سرگرمی پر پابندی کی کسی بھی طور مخالفت نہیں کی جاسکتی ۔

متعلقہ خبریں