Daily Mashriq

کل کا پاکستان

کل کا پاکستان

بچہ جب اس دنیا میں آتا ہے تو بالکل کورا کاغذ ہوتا ہے ، ہم جو چاہیں اس پر تحریر کر دیں۔ بچے کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہوتی ہے، مگر بچہ اپنے باپ سے بھی بہت اثر لیتا ہے ۔ بچے اپنی اخلاقی قدریں نہ صرف اپنے خاندانوں بلکہ اپنے اطراف سے بھی سیکھتے ہیں۔ بچوں کی تربیت میں لازمی ہے کہ بچے کے ساتھ محبت اور شفقت بھرا رویہ اختیار کیا جائے۔ ہر وقت بچوں پر ذہنی دباؤ نہ ڈالیں اس سے بچہ نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے، بچوںکی تربیت کرتے وقت یہ بھی لازم ہے کہ والدین اپنے رویوں کاجائزہ لیتے رہیں، کیونکہ بچے بہت ہوشیار ہوتے ہیںوہ آپ کی غلطیوں سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ بچے کے ذہن میں کسی قسم کے منفی خیالات نہ آنے دیں۔ ان سے ان کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں۔ اگر امتحان میں بچوں کے نمبرز کم آئیں تو ان سے سختی سے پیش آنے کے بجائے انہیں سمجھایا جائے کہ آپ کے بھی نمبرز اچھے آ سکتے ہیں ، بس اس کے لیے تھوڑی محنت کی ضرورت ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ گھریلو جھگڑے بھی بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں ، والدین کے درمیان تناؤ انہیں ڈپریشن میں مبتلا کردیتا ہے۔ والدین کا منفی رویہ بھی بچے کی شخصیت کومتاثر کرسکتا ہے۔ کمپیوٹر ' ٹی وی اور ویڈیوگیمزپررونے دھونے ، پرتشدد فلموں سے بچوں کو دور رہنے کی ترغیب دیں کیونکہ یہ بھی بچوں کے دل و دماغ پربراہ راست اثرانداز ہوتی ہیں۔ انہیں پرسکون ماحول فراہم کریں، اچھا کام کرنے پر شاباش دیں، آپ کی معمولی حوصلہ افزائی بھی بچے کو سرشار کر دیتی ہے اور وہ اپنے اندر بہت توانائی محسوس کرتے ہیں، جن بچوں کو ابتدائی عمر میں شاباش نہیں ملتی وہ سست رفتار بن جاتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھیں اور انہیں اعتماد دلائیں کہ وہ آپ کو اپنے مسائل بتاسکیں ۔ بعض اساتذہ اور والدین ایک وقت میں بہت سا کام بتادیتے ہیں، حالانکہ ایک وقت میں ایک ہی کام بہترانداز میں کیا جا سکتاہے، بعض بچے اپنی خراب کارکردگی کی رپورٹ گھر لے کر نہیں آتے ، کیونکہ وہ والدین سے ڈرتے ہیں اسے اعتماددیں تاکہ وہ اپنی خراب رپورٹ چھپانے کی کوشش نہ کرے، اگر بچے کی صلاحیت میں کوئی کمی ہے تو اس مسئلے کو دانش مندی سے حل کریں۔ بچے کو اس حد تک نہ ڈرایا کریں کہ وہ خوف زدہ ہو جائے ، اسکے برعکس خراب کارکردگی کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کریں، بعض اوقات بچے کو اپنے آس پاس یاسکول میں مختلف سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس پہلو پرنظر رکھیں ، یہ بھی جاننے کی کوشش کریں کہ اسے گھر میں کن مسائل کا سامنا ہے۔ دوسرے بچوںکے سامنے بچے کے ساتھ اچھا رویہ رکھیں۔آپ کا محبت بھرا طرز عمل بچے کی کارکردگی کو بہتربنائے گا۔ امتحان کی تیاری ہو یا عام حالات بچوں کو رٹالگانے سے منع کریں بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ہر چیز کو ذہن نشین کرنے اور غور و فکر سے کام کرنے کی تلقین کریں۔ اس حوالے سے ہمیں ایک مثالی نصاب تعلیم متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے نظام تعلیم کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم ابھی تک نصاب تعلیم کی کوئی سمت متعین نہیں کر سکے کہ ہمیں اپنے طالب علموں کو پڑھانا کیا ہے؟ اورکس طرح پڑھانا ہے؟ ہمارا نصاب تعلیم منطق کی بجائے جذباتیت پرمبنی ہے، جس میں قدیم کہانیوں کونصاب کا حصہ بنا کر طلباء کی سوچ کو محدود کردیا گیا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سائنس ترقی کر رہی ہے، اور دنیا ایک قدم آگے بڑھ رہی ہے۔ جس کا براہ راست اثر تعلیمی نظام اور نصاب پڑا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں آج بھی گزشتہ صدی کا نصاب رائج ہے جس میں کئی نسلوں سے ترمیم نہیں کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم تعلیم کے میدان میں اقوام عالم سے دو دہائیاں پیچھے ہیں۔ نئی نسل کی نفسیات اورماحول کے مطابق ایسا نصاب مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے جو جدید دور کے تقاضوں پرپورا اترتا ہو۔ مشہور فلسفی وہائٹ ہیڈ کا قول ہے کہ ''علم زیادہ ہے اور زندگی چھوٹی '' اس لیے زیادہ مضامین مت پڑھائیں لیکن جوکچھ پڑھائیں اسے بھرپور انداز میں پڑھائیں۔ اس کے برعکس ہمارے ہاں نصاب میںمعیار کے بجائے مقدار پرزیادہ زور دیا جاتا ہے۔ اس پرستم بالائے ستم یہ کہ نصاب میں اکثر ابواب خشک اور بور ہوتے ہیں۔ ان میں بچے کی دلچسپی کے لیے کوئی چیز نہیں ہوتی۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے نصاب مرتب کرنے والے اداروں کو پرائمری اورسکینڈری سطح کے طلباء کی ذہنی ' جسمانی اور نفسیاتی صورت حال کو سمجھنا ضروری ہے جس کو مدنظررکھتے ہوئے نصاب کو عام فہم اور دلچسپ انداز میں ترتیب دیا جائے تاکہ طالب علم اپنی صلاحیتوں کو بہترین انداز میں بروئے کار لا سکیں،کیونکہ بچے ہمارے کل کا پاکستان ہیں،ہم نے ہی اسے روشن اور محفوظ بنانا ہے۔

متعلقہ خبریں