Daily Mashriq


کیا دھرتی ماں بانجھ ہو گئی ہے

کیا دھرتی ماں بانجھ ہو گئی ہے

اور پھر مجھے یوں لگا جیسے میری دھرتی ماں بانجھ ہو گئی ہے۔اس کے پاس اپنے سینے پر پلنے والوں کو زندہ رکھنے کے لئے کچھ باقی نہیں رہا۔یہ صرف ایک دن کی بات نہیں جب میں روزانہ کے استعمال کی چیزیں خریدنے بازار جاتا ہوں یہی احساس مجھے کچوکے دیتا ہے۔وہاں دھرتی ماں کی کوکھ کی کوئی دین نہیں ملتی۔سوچتا ہوں کیا میری دھرتی پر صرف بھوک اور افلاس کی ہی فصل اگتی ہے۔نفرت دھوکہ دہی اور فریب کے جھکڑ چلتے ہیں۔کرپشن کا طوفان بدتمیزی ہی برپا رہتا ہے ۔کیا ہماری دھرتی پر امن کے سکون آور لمحے ناپیدہو چکے ہیں۔ معذرت چاہتا ہوں بات کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گئی ہے ۔میرا ہر گز یہ مطلب نہ تھا ،میں حسب روایت اپنی تحریر کو ایک خوشگوار نوٹ سے شروع کرنا چاہتا تھا ،گرد و پیش کے یہ واقعات جس میں کسی بھی ہوش مند انسان کو اپنے اعصاب پر قابورکھنا دشوار ہو جاتا ہے،میری کوشش ہوتی کہ تلخ نوائی سے احتراز کیا جائے۔ویسے میرے ناتواں کاندھوں پر اصلاح معاشرہ کا کوئی بوجھ نہیں لادا گیا چنانچہ میں نے بھی کبھی خدائی فوجدار بننے کی کوشش نہیں کی۔ابھی یہی کل پرسوں کی بات ہے ایک برقی مراسلہ موصول ہوا جس میں ہمارے ایک معزز قاری نے جو جامعہ پشاور کے شعبہ صحافت میں پڑھتے ہیں ہماری دانشورانہ شہرت اور صحافیانہ خدمات کے پیش نظر ہم سے انٹرویو کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔انہوں نے لکھا تھا کہ آپ کی تحریریں بڑی توجہ سے پڑھتا ہوں۔ سماج کے موجودہ حالات پر آپ کی بڑی گہری نظر ہے جس کی جھلک آپ کے اخباری کالموں میں نظر آتی ہے وغیرہ وغیرہ۔یقین جانئے مرید پور کے پیر کی طرح پہلی بار ہمیں اپنی صلاحیتوں کا پتہ لگا۔اور ہمیں اپنی بستی کے لوگوں پر غصہ بھی آیا کہ انہوں نے آج تک ہمیں پہچانا کوئی نہیں ۔ بے اختیار حافظ الپوری کاشعر یاد آ گیا 

باز پہ جالا کے چانہ دے پیژندلے

د حافظ سہ قدر نشتہ الپورئے کے

مطلب اس کا یہ ہوا کہ باز کو جیسے کوئی اس کے آشیانے میں نہیں پہچانتا اسی طرح میں اپنے گاؤں میں گمنامی کی زندگی بسر کر رہا ہوں ۔ہم نے شعبہ صحافت کے اس نوجوان طالب علم کو جواب میں لکھا۔شکر گزار ہوں آپ نے مجھے اس قابل سمجھا لیکن یقین جانئے میں اپنے کالموں کے ذریعے شیخ سعدی کی طرح گلستان اور بوستان تصنیف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ میں مصلح نہیں ہوں اور نہ کوئی کالم نگاری اصلاح معاشرہ کے لئے کسی آسمانی اشارے کی تعمیل میں کرتا ہوں ۔یہ خود کو مصروف رکھنے کا ایک بہانہ ہے اور کالموں کو میں نے اپنے ذہنی دبائو کو کم کرنے کا وسیلہ بنا رکھا ہے ۔ ہمارے محترم ومعزز قاری اگر زیا دہ اصرار کرتے تو ہم اُن کے سامنے بابا بلھے شاہ کے کلام کانمونہ پیش کردیتے جو ہمارے دوست انجینئر جان نیاز خان نے ہمیں بھیجا ہے ۔ بابا کے یہ اشعا ر ہم اس تحریر کے آخر میں قارئین کی نذر کرینگے۔

ہم بابا بلھے شاہ جیسے انسان دوست اور انسان پرست شاعر کے خاک پا بھی نہیں البتہ انہوں نے زندہ رہو اور زندہ رہنے دو کا جو درس دیا ہے کوشش ہوتی ہے کہ اسکی روشنی میں زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں ۔ ہم نے آج کی زیر نظر تحریر کی ابتداء دھرتی ماں کے بانجھ ہونے کے ذکر سے کی تھی۔ بات پھیل کر دوسری طرف نکل گئی ، بتا نا یہ مقصود تھا کہ ہم غلاظت کے آلودہ جس ماحول میں زندہ ہیں اُسکے نتیجے میں قدرت نے ہمیں اپنی نعمتوں سے محروم کر دیا ہے اور یہ احساس ہمیں جیسے کہ عرض کر چکے ہیں روزانہ بازار میں اشیاء صرف خرید تے وقت ہوتا ہے۔ سبزی منڈی میں جب ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ پوچھتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ ہماری فصل ابھی نہیں آئی ، یہ ہندوستانی ٹماٹر ہیں تو یہ پیاز کیوں اتنی مہنگی ہے ، جواب ملتا ہے یہ بھی بھارت سے منگوائی جاتی ہے۔ لہسن کا سوروپے پائو کا سن کر حیرت سے پو چھتے ہیں گزشتہ سال تو یہ ڈیڑھ سو روپے کلو فروخت ہوتی تھی ، ھغہ جی دخپل ملک فصل وو، جناب وہ اپنے ملک کی فصل تھی ۔ یہ ہم چائنا سے منگواتے ہیں۔ ایک پھل فروش نے تین سوروپے کلو کی انار کی وجہ یہ بتائی کہ ایران کے ہیں دوسرے دکاندار نے آسٹریلیا کے بتائے ۔ سیب غالباً توران یا سیستان سے درآمد کئے گئے تھے ۔ ہمیں پھلو ں کے خرید نے کی ہمت تو نہیں پڑی ، البتہ سوچنے لگے کہ کیا ہمارے ملک میں صرف کرپشن کی فصل اگتی ہے ۔دھوکہ دہی اور فریب کاری کی باتیں ہوتی ہیں استحصالی نظام ہی ہم پیدا کرتے ہیں۔ اسی صورت میں اگر ہم خود کو مصروف رکھنے اورذہنی دبائو کی کمی کے لئے اپنی تحریرروں کا سہار انہ لیں تو کیا کریں۔ ہم نے بالیقین اصلاح معاشرہ کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا البتہ بابا بلھے شاہ کے فرمودات پر ضرور عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے کہ انہوں نے فرمایا ۔

غصے وچ نہ آیا کر

ٹھنڈا کر کے کھایا کر

دن مرے وی پھر جائینگے

ایویں نہ گھبرایا کر

پیار دے ایسے بوٹے لا

سارے ہنڈ تے سایا کر

اپنے اندر جھوٹ مکا

سچ د ڈھول بجایا کر

من اندر نوں جھاڑودے

اندر باہر صفایا کر

نہ کر جھولی لوگاں آگے

رب آگے کر لایا کر

متعلقہ خبریں