Daily Mashriq

وزیر خارجہ کا درست مطالبہ

وزیر خارجہ کا درست مطالبہ


امریکا کی جانب سے امداد روکے جانے کے ایک ماہ بعد وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے اخراجات واشنگٹن کو اٹھانے چاہئیں۔غیر ملکی میڈیا بلوم برگ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ امریکا کو زیادہ مہنگی نہیں پڑے گی۔ان کا کہنا تھا کہ افغان جنگ امریکا کو زیادہ مہنگی پڑ رہی ہے۔خیال رہے کہ پاکستان آرمی نے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے مشکل ترین کام کا گزشتہ سال آغاز کردیا تھا۔حکومت کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد دہشت گردوں سمیت غیر قانونی افراد کا ملک میں داخلہ روکنا ہے۔باڑ کی تنصیب کا بنیادی مقصد دہشت گردوں کی پاکستان میں آمد کا سلسلہ ختم کرنا ہے۔وزیر خارجہ نے20لاکھ افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ پناہ گزین کیمپ دہشت گردوں کی افزائش کی جگہ بن رہے ہیں اور یہ فیصلہ خطے میں امن کی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔وزیر خارجہ نے زور دیا کہ سرحد پر باڑ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان یا پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی تحریک سے عدم اعتماد اور ہماری یا ان کی زمین پر دہشت گرد پیدا ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روزانہ تقریباً 7لاکھ کے قریب افراد بغیر اطلاع کے سرحد پار کرتے ہیں جو دونوں ممالک کے لئے ایک بڑا خطرہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملات دہشت گردی کی معاونت کرتے ہیں۔واضح رہے کہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کو دہشت گرد تنظیموں کی پناہ گاہ بننے کے الزامات کے باوجود پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان کی جانب سے سرحد پر باڑ لگانے کے عمل پر کابل حکومت نے شدید غصے کا اظہار کیا تھا کیونکہ افغانستان ڈریونڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد کے طور پر ماننے کو تیار نہیں ہے۔وزیر خارجہ کے مطالبے کے صائب ہونے کی کئی وجوہات میں اولاً یہ کہ امریکہ ہی کو نہیں پاکستان کو بھی دہشت گردوں کی سرحدی دراندازی اور مراجعت سے سنگین مسائل اور مشکلات کا سامناہے۔ مشکل امر یہ ہے کہ دہشت گرد افغانستان میں موجود اپنی پناہ گاہوں میں تو محفوظ ہیں جہاں سے وہ منصوبہ بندی کرکے پاکستان میں ایسے لوگ بھجواتے ہیں جو ان کے مذموم مقاصد کو پورے کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب بھی کسی بڑے واقعہ کی تحقیقات ہوتی ہیں تو اس کے ڈانڈے ہی سرحد پار سے نہیں ملتے بلکہ ان دہشت گردوں کو براہ راست واٹس ایپ کالز کے ذریعے رہنمائی اور ہدایات بھی سرحد پار سے مل رہی ہوتی ہیں۔ علاوہ ازیں فطری امر یہ بھی ہے کہ ان عناصر کو کسی جگہ خطرے کا احساس ہو تو وہ سرحد کی دوسری جانب چلے جاتے ہیں جن کی روک تھام پاکستان' افغانستان اور خود امریکہ کے بھی مفاد میں ہے۔ پاکستان ویسے بھی اپنے وسائل سے سرحدوں پر باڑ لگا کر اپنا علاقہ محفوظ کرنے اور الزامات سے بچنے کی سنجیدہ مساعی پر عمل پیرا ہے۔ لیکن بہر حال ہزاروں میل کی سرحد پر باڑ لگانے اور خندقتیں کھودنے کے لئے وسائل کی ضرورت کو پورا کرنا پاکستان کے لئے مشکل امر ہے۔ امریکہ نے افغانستان میں جو جنگ شروع کی تھی اس کے اثرات کے سرایت کر جانے سے پاکستان بڑی مشکل صورتحال سے گزرا ہے جبکہ دوسری جانب امریکہ کو ہر وقت اس امر کا گلہ رہتا ہے کہ پاکستان مخصوص نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے۔ ہمارے تئیں ان سارے معاملات کا اس سے بہتر حل کوئی نہیں کہ امریکہ پاکستان کی سرحدی باڑ لگانے میں مدد دے اور دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں کو محفوظ اور غیر قانونی آمد و رفت سے پاک کرکے غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے۔ پاکستان نے جب سے سرحدی آمد و رفت کو باضابطہ بنانے کی کوششیں شروع کی ہیں اس کے نتائج سامنے آرہے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے مغربی سرحدوں کو محفوظ بنانے کیلئے اقدامات سلامتی کی مجبوری اور قومی ضرورت ہے ۔ طورخم سرحد پر گیٹ کی تنصیب اور آمد ورفت کو قانونی اور باقاعدہ بنانے کے بعد طورخم سرحد سے دہشت گردوں مشکوک عناصر اور غیر قانونی طور پر آنے والوں کی روک تھام کا تجربہ خاصا کامیاب رہا لیکن طویل پاک افغان سرحد پر غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنے کے خاتمے کیلئے صرف سرحد ی گیٹ اور معروف راستے سے آمد ورفت کی چیکنگ کا انتظام کافی نہیں بلکہ غیر معروف اور دشوار گزار مقامات سے دہشت گردوں سمیت دیگر افراد کی بھی چھپ کر آمد ورفت روکنے کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں ۔دوسرے مرحلے پر سرحد پر باڑلگانے کا جو منصوبہ جاری ہے یہ ایک قابل عمل اور قابل اعتماد طریقہ ہے جسے اختیار کرکے غیر قانونی آمد ورفت اور خصوصاً مذموم مقاصد کے حامل عناصر کی روک تھام ممکن ہوگی ۔سرحد پر باڑ لگانے کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں بعض عناصر تو مغربی سرحد کو سرے سے سرحد ماننے ہی پر تیار نہیں اور اسے پختونوں کی تقسیم کا نام دیتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دو الگ ممالک اور دونوں ملکوں کی سرحد ایک حقیقت ہے جو صدی قبل انگریزوں کے دور میں بھی موجود تھی اور تقسیم بر صغیر کے بعد بھی اسے سرحد تسلیم کیا گیا ۔ ہمارے تئیں افغانستان کو سرحد پر باڑ لگانے کے اقدام میں تعاون کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ اس کے بھی مفاد میں ہے۔ ایسا ہونے کی صورت میں صرف پاکستان کو غیر قانونی آمد ورفت روکنے میں آسانی ہوگی بلکہ افغانستان کو بھی پاکستان کی جانب سے جن شکایات کا سامنارہتا ہے اس کے بھی ممکنہ حد تک ازالہ کی صورت نکل آئے گی ۔

اداریہ