Daily Mashriq

کھیلوں کی سہولت حسب وعدہ پورا کرنے میں ناکامی

کھیلوں کی سہولت حسب وعدہ پورا کرنے میں ناکامی

تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولتوں کو ترجیح قرار دے کر جن اقدامات کا اعلان کیا تھا وہ پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ نوجوانوں کی پی ٹی آئی سے وابستگی اور توقعات کوئی پوشیدہ امر نہیں اس بناء پر موجودہ حکومت کی بجا طور پر ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ نوجوانوں کے مسائل کے حل اور کھیلوں کے فروغ پر خاص طور پرتوجہ دیتی۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے ہر ضلع اور بڑے قصبے میں کھیلوں کے میدان اور کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کا جو وعدہ کیا تھا وہ ہنوز پوری نہیں ہوسکیں اور نہ ہی صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوئی مثال قائم کی گئی ۔ اب تک خیبر پختونخوا میں ستر تحصیلوں میں اعلان کردہ کھیل کے میدانوں میں سے صرف چونتیس ہی مکمل کئے جاسکے ہیں اور 27پر کارروائی کاغذات سے آگے نہ بڑھ سکی ہے۔ کھیل کے بعض میدانوں کے لئے فنڈز کا عدم اجرائ' پی سی ون کی عدم تیاری اور منتخب اراضی کا متنازعہ قرار پانا جیسی مشکلات کے باوجود اگر دیکھا جائے تو ساڑھے چار سالوں کے دوران کھیلوں کے چونتیس میدانوں کی تکمیل گو کہ توقعات کے مطابق تو نہیں لیکن بہر حال یہ کم کارکردگی بھی نہیں۔ کھیلوں کے جن میدانوں کے منصوبہ جات ادھورے پڑے ہیں ان سے قطع نظر کھیلوں کے جو میدان پایہ تکمیل تک پہنچائے جا چکے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ان میدانوں میں نوجوانوں کو کھیلوں کے بھرپور مواقع فراہم کئے جائیں۔ ان کی ٹریننگ کا معقول انتظام ہونا چاہئے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان میدانوں کو اجڑنے سے روکنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی ہونی چاہئے کیونکہ عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ کھیلوں کے جو میدان بنائے جاتے ہیں اولاً ان کی دیواریں گرنے لگتی ہیں جنگلے اکھاڑے جاتے ہیں ' کھیلوں کے میدان چراگاہ بننے لگتے ہیں اور دھیرے دھیرے اجڑے دیار کا منظر پیش کرنے لگتے ہیں جہاں کھلاڑیوں کی جگہ سماج دشمن عناصر اور نشے کے عادی افراد نے ڈیرے ڈالے ہوتے ہیں۔ تو محکمہ کھیل اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ اس طرف متوجہ ہوتی ہے۔ مکمل شدہ میدانوں کے تحفظ اور ان کو کھیلوں کا میدان ہی رہنے دینے کو یقینی بنایا جائے تو بھی غنیمت ہوگی۔ جن منصوبوں میں مشکلات ہیں ان کو دور کرنے میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولتوں اور اس صحت مند رجحان کے فروغ کے لئے تحریک انصاف کے قائد عمران خان کی خواہش اور وژن کے مطابق کام جاری رہیں گے اور صوبے میں کھیلوں کے فروغ کے لئے نمایاں اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔

اداریہ