Daily Mashriq


فرائض منصبی

فرائض منصبی

چیف جسٹس مسٹر جسٹس ثاقب نثار نے گزشتہ روز ججوں سے خطاب کرتے ہوئے انہیں یاد دلایا کہ انہیں اپنے منصب کی کارکردگی کے لیے تنخواہ ملتی ہے ۔ اس لیے انہیں سوچنا چاہیے کہ آیا انہوں نے اس تنخواہ کا حق ادا کر دیا یا نہیں۔ چیف جسٹس نے تو یہ بات ججوں کو مخاطب کر کے کہی تھی لیکن یہ سارے پاکستان کے سرکاری ملازمین کے لیے بالخصوص قابلِ غور ہونی چاہیے۔ کیا سرکاری ملازمین جو سہولتیں' مراعات اور مشاہرہ انہیں اپنے منصب کی کارکردگی کے لیے ملتا ہے وہ اس کا حق ادا کرتے ہیں یا نہیں۔ سرکاری ملازموں تک اس مشورے کو کیوں محدود رکھا جائے۔ یہ ہر اس شخص کے سوچنے کے لیے سوال ہے جو کسی مشاہرے پر کام کرتا ہے۔ مشاہرہ، سہولتیں اور مراعات ارکانِ پارلیمنٹ کو بھی ملتی ہیں ۔ چیف جسٹس نے تو منصفوں کی کمیونٹی کو ایک صائب مشورہ دے دیا لیکن ایسا مشورہ کسی اسمبلی کے اسپیکر یا سینیٹ کے چیئرمین کی طرف سے سننے میں نہیں آیا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اسمبلیوں اور سینیٹ میں سب اچھا ہے اور ان اداروں کے ارکان اپنے منصب کے تقاضے پوری دیانتداری اور تندہی سے ادا کرتے ہیں؟ لیکن میڈیا میں اکثر یہ خبریں آتی رہتی ہیں کہ اسمبلیوں اور سینیٹ میں ایسے بل نہایت آسانی سے پاس ہو جاتے ہیں جن میں ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ تجویز کیا گیا ہو۔ ایسے بلوں میں بحث نہایت کم ہوتی ہے۔ دیگر بل ایوانوں میں دیر تک معلق رہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کا بل ۔ یہ بل چند ماہ پہلے خود حکومت کی طرف سے پیش کیا گیا تھا لیکن پھر میڈیا کے مطابق جمعیت العلمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ایک ٹیلی فون کال سننے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے جو اس وقت بیرون ملک دورے پر گئے ہوئے تھے بذریعہ ٹیلی فون اپنی پارٹی کے وزراء سے کہہ دیا کہ یہ بل واپس لے لیاجائے۔ اور یہ بل واپس لے لیا گیا ۔اور آج تک یہ بل پاس نہیں ہوا ۔ایک دوسری مثال انتخابی اصلاحات کے متعلق قانون کی ہے ۔ قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں میں یہ بل دو سال تک زیرِ بحث رہا ، اس کے بعد قومی اسمبلی میں حکومت کی طرف سے پیش کر دیا گیا اور حکمران پارٹی کی اکثریت کے باعث منظور بھی ہو گیا ۔ اس کے بعد باری تھی سینیٹ میں اس بل کی منظوری کی۔ جہاں حکمران مسلم لیگ کو اکثریت حاصل نہیں تھی بلکہ اپوزیشن کو اکثریت حاصل تھی۔ سینیٹ میں اس بل کی منظوری کی کہانی جو میڈیا کے ذریعے موصول ہوئی وہ اپنی جگہ ایک عجیب کہانی ہے۔ سینیٹ کے ایک رکن نے کہا کہ انہیں اس بل کے انتخابی گوشواروں میں ختم نبوت پر ایمان کے اعلان کے حوالے سے شق پر تحفظات ہیں۔ ان تحفظات پر بحث نہ ہو سکی۔ تاہم حکمران مسلم لیگ کے وزراء کی سینیٹ میں عدم حاضری کے باعث چند دنوں سے چیئرمین سینیٹ برہمی کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ جب یہ بل زیرِ غور آیا اس وقت بھی سینیٹ میں بالخصوص وزراء کی حاضری بہت کم تھی۔ چیئرمین سینیٹ شاکی تو پہلے ہی تھے اس روز اور بھی غصے میں آ گئے اور روٹھ کر اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔سوال یہ ہے کہ اگر وزراء کی غیر حاضری یا عدم دلچسپی توہین تھی تو کیا وہ چیئرمین صاحب کی توہین تھی یا سینیٹ کی ۔ اگر یہ سینیٹ کی توہین سمجھی جاتی تو چیئرمین سینیٹ رضا ربانی سینیٹ کا اجلاس ہی ملتوی کر دیتے اور کہتے کہ جب تک کورم پورا نہیں ہو گا اور ذمہ دار وزراء اجلاس میں حاضر نہیںہوں گے وہ اجلاس کو ملتوی کرتے رہیں گے لیکن انہوں نے اسے اپنی توہین قرار دیا اور وہ روٹھ کر اجلاس چھوڑ چھاڑ کر چلے گئے اور منانے کے باوجود واپس نہیں آئے۔ ان کی عدم موجودگی میں ڈپٹی چیئرمین کی صدارت میں اجلاس ہوا اور متذکرہ بالابل سینیٹر حافظ حمد اللہ کے تحفظات کے سامنے آنے اور ان پر بحث کے بغیر محض ایک ووٹ سے پاس ہو گیا۔ بعد میں ہا ہا کار مچ گئی کہ اس بل میں ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامے میںتحریف کر دی گئی ہے۔ باقی حالات و واقعات قارئین کو یاد ہوں گے کہ کس طرح حکمران پارٹی نے ختم نبوت کا پرانا گوشوارہ بحال کر کے یہ بل باقی تمام موشگافیوں سمیت پاس کروا لیا۔ چیئرمین سینیٹ پارلیمان کا سب سے بڑا منصب ہے۔ صدر پاکستان کی پاکستان میں عدم موجودگی کے دوران چیئرمین سینیٹ صدر کی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ان سے کون پوچھے گا کہ آیا انہوں نے اپنے منصب کے فرائض اس کے تقاضوں کے مطابق ادا کیے؟ کیا روٹھنا ان کے منصب کے فرائض منصبی میں شامل تھا؟ انہیں یہ مشورہ دینے والا کوئی نہیں کہ ارکان پارلیمنٹ کو بھی اپنے فرائض منصبی ' ذمہ داریاں تندہی سے ادا کرنے چاہئیں۔ چیئرمین سینیٹ وزراء کی عدم حاضری پر برہم ہوتے ہیں لیکن حکومت کے سربراہ وزیر اعظم اپنے وزراء کو فرائض منصبی کی ادائیگی پر قائل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ خود ارکان اسمبلی قومی ہوں یا صوبائی کیا باقاعدگی سے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں؟ کیا زیر نظر مسودہ قوانین کے بارے میں تیاری کر کے آتے ہیں؟ ٹی وی سکرینوں پر بالعموم اسمبلیوں کی نشستیں خالی ہی نظر آتی ہیں۔ عوام کے ٹیکسوں سے ان کے مشاہرے ادا ہوتے ہیں ۔ کوئی ان سے حساب لینے والا نہیں کہ ان میں سے کتنے ایسے ہیں جنہوں نے اجلاسوں کے دوران بلوں پر اظہارِ خیال کیا اور کتنے ایسے ہیں جنہوں نے صرف بلوں کے حق میں یا ان کے خلاف ووٹ دیا۔اس پر مستزاد یہ کہ منتخب ہو جانے کے بعد یہ کوئی آسمانی مخلوق ہو جاتے ہیں جو اپنے ووٹروں سے کبھی کبھار ہی ملتے ہیں۔ پبلک دفاتر میں ان کا رعب چلتا ہے ۔ یہ عوام کا منتخب چہرہ ہوتے ہیں ، ان کا حساب کون کرے گا۔ کورم پورا نہ ہونے پر چیئرمین سینیٹ صرف روٹھ جانے پر قادر ہونے کا ثبوت دیتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا احتساب پانچ سال کی مدت کے بعد ووٹر کرتے ہیں ۔ کیا ووٹر احتساب کرتے ہیں؟ ۔

متعلقہ خبریں