Daily Mashriq

فوری انصاف کی کاوش

فوری انصاف کی کاوش

کورٹ کچہری کے معاملات تو ویسے ہی پیچیدہ ہوتے ہیں لیکن جب بات آجائے دیوانی مقدمات کی تو اچھے اچھوں کی سیٹی گم ہوجاتی ہے جس کا سبب ہے ان مقدمات کی طوالت جو ایک پیڑھی سے دوسری اور بسا اوقات تیسری پیڑھی تک بھی چلتے رہتے ہیں ۔ دیوانی مقدمات کی طوالت کے بارے میں تو ہر شخص کو علم ہے جن کے ختم ہونے میں عمر بھر کی نقدی ختم ہوجاتی ہے۔عدالتوں میں زیر سماعت زمین جائیداد کے مقدمات اکثر وبیشتر کسی وراثت کی صورت میں ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں ۔سائلین میں اکثریت ایسے افراد کی ملتی ہے جن کا مقدمہ باپ دادا نے دائر کیا لیکن انکی عمریں اور زندگی کی پونجی تمام ہو گئی لیکن مقدمے کا فیصلہ نہ ہوسکا ۔درخواستوں پر درخواستوں کے گھن چکر میں کبھی ایک عدالت سے دوسری عدالت میں پیروی چلتی رہتی ہے۔ اکثر و بیشتر مقدموںکے فریقین بھی غیر ضروری تاخیری حربوں کو استعمال میں لاتے ہوئے کیس کو کھینچتے ہی چلے جاتے ہیں ۔ ان ہی جھمیلوں کی وجہ سے دیوانی مقدمات سالہا سال لٹکے رہتے ہیں ۔۔ دیوانی مقدمات کی پیروی سول پروسیجر کوڈ 1908کے تحت کی جاتی ہے یعنی کہ سو سال پرانے قانون کے ذریعے لوگوں کو انصاف دینے کی کوشش۔وطن عزیز کو بنے70سال ہوگئے لیکن اس قانون کو بدلنے اور لوگوں کو سہل بنانے کیلئے کسی نے زحمت نہ کی ۔۔اس قانون میں موجود سقم کو بہت پہلے دور ہوجانا چاہئے تھا لیکن ایساکسی حکمران جماعت یا سیاستدان نے نہیں کیا۔اورشہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے حاکم وقت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر رہے ۔لیکن اب تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے تبدیلی کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس قانون میں ترامیم کی گئی ہیں جس کی رو سے سالہا سال چلنے والے ان مقدمات کے لیے وقت کی قید و بند تھی نہ ہی ان کے جلد از جلد نمٹائے جانے کے لیے کوئی قانونی سختی،لیکن نئے قانون میں ترامیم کے بعداب یہ تمام کیسز ایک سال کے دورانیے میں نمٹائے جائیںگے۔خیبر پختونخوا حکومت نے سی پی سی 1908ء کا ہر پہلو سے جائزہ لینے کے بعد اسے عوامی مفاد کے مطابق تبدیل کیا ہے۔۔ اٹھارھویں آئینی ترمیم کے تحت سول پروسیجر کوڈ اب صوبائی دائرہ اختیار میں ہے اس لئے اس میں ترامیم کیلئے صوبائی حکومت کو وفاق سے خط وکتابت اور اجازت کے جھمیلوں میں نہیں پڑناپڑا۔ محکمہ قانون خیبرپختونخوا کے مطابق تین سال قبل اس ضمن میں قانونی ماہرین کی کمیٹی بنائی گئی تھی جنہوں نے مجوزہ ترامیم کا مسودہ تیار کیا جسے بعد ازاں پشاور ہائیکورٹ کی کمیٹی کو ارسال کیا گیا جنہوں نے نوک پلک درست کرنے کے بعد اسے منظور کرلیا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بھی کابینہ کے اجلاس میں اس قانون میں ترامیم کی منظوری دی جاچکی ہے۔ اگر ان مجوزہ ترامیم کو دیکھا جائے تو اس سے عدالت و کچہری کے معاملات میں عوام کو کافی سہولت حاصل ہوگی۔وقت ،پیسہ اور توانائیاں جو عدالتوں کے چکروں میں صرف ہوتے ہیں اسکی بھی بچت ہوگی جبکہ انصاف بھی فوری میسر ہوگا۔لیکن اب سول کیسز کا فیصلہ ایک سال کے اندر سنایا جائے گا۔ نئے قوانین کے تحت کسی بھی مقدمے میں وکلا اور فریقین کی حاضری یقینی بنائی جائیگی۔ اور تاریخوں کا تعین بھی مشاورت سے کیا جائے گا۔ جس کے بعد 60دن میں پلیڈنگ کا عمل مکمل ہوگا۔ کسی بھی اضافی درخواست کا فیصلہ بھی انہی ساٹھ روز میں کیا جائے گا۔ یعنی متفرق درخواستوں کے دائر کرنے سے جس طرح عدالت میں کیس کی طوالت بڑھتی تھی اب اس کا سلسلہ رک جائے گا۔ پلیڈنگ کے بعد دستاویزات کی تفتیش اور تصدیق30دنوں میں ہوگی۔ ٹرائل کے مرحلے میں روزانہ سماعت ہوگی جو فریق عدالت کا حکم نہیں مانے گا اس پر جرمانہ عائد کیا جائیگا۔ عدالت کو کسی بھی مرحلے میں سمری فیصلہ سنانے کا بھی اختیار ہوگا۔ اپیلٹ عدالت کو اضافی شہادت سننے کا اختیار ہوگا۔ اور اس مقصد کے لئے کیس ماتحت عدالت ریفر نہیں ہوگا۔ سول عدالت اور اپیلیٹ عدالت 15 دن میںتحریری فیصلہ دینے کی پابند ہوں گی ، وکیل کو مقدمے میں غیر حاضری کے صرف دوچانس دئیے جائیں گے بلا مبالغہ قانون میں ان ترامیم کے ذریعے ہر لحاظ سے تاخیری حربوں کا راستہ روک لیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سول پروسیجر کوڈ میںترامیم کے باعث اب عدالتوں پر بھی کام بڑھے گا اسی لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس قانون کے بارے میں اپنی پریس کانفرنس میں مقدمات کی سماعت تیز کرنے کے لئے عدالتوں میں ججوں اور دیگر عملے کی تعدادبڑھانے کا عندیہ دیا۔وزیراعلیٰ پرویزخٹک کا کہناتھا کہ صوبائی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے اندر عدالتوں میں ججوں اور دیگر عملے کی کمی پورا کرنے کے لئے اقدامات کرے گی ۔انصاف کے معاملے میں رکاوٹوں کو دور کیا جائے تو بہت سے معاملات خود ہی احسن انداز میں چلیں گے۔ کیونکہ اگر عدالت میں کیس جائے اور فوری فیصلہ ہو تو ناجائز راستے اختیار کرنے والے خود بخود ہی قانون کے خوف سے اپنی درستگی کا خیال رکھیں گے۔جلد فیصلوں سے نہ صرف انصاف کا بول بالا ہوگا بلکہ شہری بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے سے دریغ کریں گے۔

اداریہ