Daily Mashriq


ضمیروں کی خرید و فروخت کیلئے سجی منڈیاں

ضمیروں کی خرید و فروخت کیلئے سجی منڈیاں

ضمیروں کی منڈیاں سج گئی ہیں جہاں ایک طرف ضمیروں کے خریدار مول کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور دوسری جانب ضمیر برائے فروخت کی تختیاں سینوں پر سجائے بکائو مال ''چمک '' سے آنکھیں خیرہ کرتے دل ہی دل میں خوش ہورہے ہیں ، ادھر کراچی میں ایم کیو ایم کی صفوں میں جو ہلچل مچی ہوئی ہے اور جس کی وجہ سے پارٹی میں دراڑیں واضح سے واضح ہوتی نظر آرہی ہیں تاہم حالات کس کروٹ بیٹھنے والے ہیں اس کا پتہ تو اس کالم کے چھپنے تک لگ چکا ہوگا جبکہ ایم کیو ایم کی تقسیم (؟) کو سیاسی سطح پر گزشتہ دنوں بلوچستان اسمبلی میں تبدیلی کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے اور اگر صورتحال اسی سمت جاتی دکھائی دے تو اس جماعت کو زیادہ فائدہ ملنے کے امکانات روشن ہوجائیں گے جس کے سربراہ پر بلوچستا ن اسمبلی میں ''جادوگری '' دکھانے کے الزامات سامنے آرہے ہیں ۔ تب شاید پیپلز پارٹی کے بعض رہنمائوں کے یہ دعوے درست ثابت ہوں کہ موجودہ صورتحال میں ایم کیو ایم کو سینیٹ کی ایک سیٹ بھی مل جائے تو غنیمت سمجھ لیں ۔ اس کے بعد ایم کیو ایم کے رہنما شاید کہنے پر مجور ہو جائیں کہ

بساط وقت یہ جو کھیلنا تھی جم کے مجھے

وہ بازی ہار گیا تھا میں پہلے دائو میں

ضمیروں کی خرید و فروخت کیلئے فاٹا میں بھی خریداروں کا رش بڑھتا جارہا ہے ، جبکہ عوام یہ سب کچھ بے بسی سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ یہ جو ''سیاست کو عبادت سمجھنے '' اور عوام کی خدمت کے دعوے بڑے دھڑلے سے کئے جاتے ہیں تو ذرا اس قسم کے دعویدار وں سے کوئی پوچھنے کی اتنی جرأت تو کوئی کرے کہ حضور اربوں خرچ کرکے سینیٹ کی رکنیت حاصل کرنے سے بھلا آپ کو کتنے نفلوں کا ثواب ملے گا ؟ کیونکہ مفت میں اربوں لٹانے اور صرف عوام کی خدمت کی نیکی کمانے کا مطلب تو یہی ہو سکتا ہے کہ ''نیکی کردریا میں ڈال ''۔ کیونکہ ہر کام کے کچھ اصول و ضوابط ہوتے ہیں اورہر شخص جانتا اہے کہ آج جو کچھ ''عوام کی خدمت ''کے نام پر لٹا یا جارہا ہے آنے والے چھ سال میں اس کا کیا اور کتنا فائدہ ہو سکتا ہے ۔ جبکہ مبینہ طور پر بکنے کیلئے تیار ''مال '' کیلئے (آخرت تو نہیں البتہ ) دنیا کمانے کا یہ آخری موقع ہے کہ اس کے بعد اسمبلیوں کی مدت ہی کتنی رہ جاتی ہے اور اگر اس سنہری موقع کو بھی ضائع کردیا گیا تو پھر ہاتھ ملنے کے سوا کچھ بھی نہیں رہے گا ۔

برادران سیاست کسی کے دوست نہیں

یہ بیچ دیں گے تمہیں کوڑیوں کے بھائو میں

عوام کو فروخت کرنے کا صرف یہ طریقہ ہی نہیں کہ ضمیر فروش اپنے لئے خریدار تلاش کریں اور چمک سے اپنی آنکھیں خیرہ کرائیں۔ یہاں تو پارٹیوں کی بنیاد پر بھی عوام کو بکائو مال سمجھنے والوں کی کمی نہیں۔ اس کا نظارہ ایم ایم اے دور حکومت میں بھی خیبر پختونخوا کے عوام نے یوں کیا کہ جماعت اسلامی والوں نے خیبر پختونخوا کے عوام کا حق غضب کرتے ہوئے سندھ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر خورشید احمد کو اس صوبے کا ٹکٹ دے کر یہاں کے عوام کو ''فروخت'' کرنے کی جو بنیاد رکھی تھی اب تحریک انصاف نے بھی نا انصافی کی حدیں پار کرتے ہوئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے فیصل جاوید کو یہاں سے سینٹ کا ٹکٹ ''تحفے'' میں دے دیا ہے مگر نہ تو اس وقت (سوائے راقم کے) کسی نے اس پر احتجاج کیا نہ اب تحریک انصاف کی نا انصافی پر پارٹی کی صفوں سے کوئی احتجاجی آواز اٹھی ہے۔ حالانکہ تحریک کے رہنمائوں نے مولانا سمیع الحق کو سینٹ ٹکٹ دینے پر تو شدید تحفظات کا اظہار کیا جس پر مولانا صاحب نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے دو یعنی ایک جنرل اور ایک ٹیکنو کریٹ کی نشستوں کے لئے میدان میں اتر نے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اگر تحریک مولانا صاحب کے ساتھ کئے ہوئے اپنے وعدے کا پاس کرکے انہیں ٹکٹ دے دیتی تو کم از کم ان کا صوبے کے ساتھ تعلق کی بناء پر یہ فیصلہ پھر بھی قابل قبول ہوتا۔اس صورتحال پر قومی وطن پارٹی نے الیکشن کمیشن سے رجوع کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس طرح سینٹ کے گزشتہ انتخابات کے موقع پر ایک خاص حکمت عملی کے تحت میڈیا کو باہر رکھ کر کھل کھیلا گیا یعنی تحریک انصاف کے ممبران اپنے ووٹ باہر لاکر اس بات کی تصدیق کرتے رہے کہ انہوں نے جماعت ہی کے نامزد امیدواروں کو ووٹ پول کر دئیے ہیں۔ اس بار یہ ''دھاندلی'' روکنے کی حکمت عملی اختیار کی جائے۔ تاہم وہ جو اربوں کے سوداگر چاروں جانب دندناتے پھر رہے ہیں وہ بھی کچی گولیاں نہیں کھیلتے البتہ یہ تو ان لوگوں پر منحصر ہے جو کسی بھی قیمت پر اپنے ضمیر کا سودا کرنے سے انکاری ہوں۔ وہ یہی جواب دیں کہ

جس کی قیمت لگانے کو آپ آئے ہیں

وہ کوئی اور ہے میں نہیں!! معذرت

اگر ضمیر کی منڈیاں ختم کرنی ہیں تو اس کے لئے چند اقدامات نا گزیر ہیں یعنی آئین میں ترمیم کرکے سینٹ کے انتخابات بھی عام انتخابات کی طرح ایک شخص ایک ووٹ کے اصول پر منعقد کرائے جائیں۔ ہر صوبے سے وہیں کے باشندوں کو ہی سینیٹر منتخب کرانے کا حق دیا جائے۔ ایک صوبے کی نشستوں پر دوسرے صوبے کے باشندوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہ دی جائے اور آزاد امیدواروں کو سینٹ کے انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہ دی جائے۔ صرف یہی ایک راستہ رہ گیا ہے جس سے ملک میں حقیقی جمہوریت کا قیام ممکن ہے۔ احمد فراز نے بھی تو کہا تھا

مرے ضمیر نے قابیل کو نہیں بخشا

میں کیسے صلح کروں قتل کرنے والوں سے

متعلقہ خبریں