Daily Mashriq


کرپشن کے خلاف جنگ

کرپشن کے خلاف جنگ

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپشن کرنے والے کسی بھی شخص کو این آر او نہیں ملے گا، کسی کرپٹ کو این آر او نہیں ملے گا، کسی کرپٹ کو این آر او دینے کا مطلب ملک سے غداری کرنے کے مترادف ہے، بلوکی میں 10بلین ٹری مہم2019ء کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تحریک انصاف حکومت نے قبضہ گروپوں سے جنگلات کی زمینیں چھڑائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ جنگلات بنائے جاسکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج کل این آر او کی بڑی باتیں ہورہی ہیں، این آر او کا مطلب ہے کہ بڑے بڑے مجرموں کو معاف کر دیا جائے، پہلے بھی ملکی تاریخ میں دو این آر او سے ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا، پہلا این آر او جنرل (ریٹائرڈ) مشرف نے 2000ء میں نوازشریف کیساتھ کیا اور حدیبیہ پیپر مل کرپشن کیس میں اسحاق ڈار کے اعترافی بیان کے باوجود مشرف نے اپنی کرسی بچانے کیلئے نواز شریف کو سعودی عرب بھیج دیا، دوسرا این آر او امریکیوں کے کہنے پر آصف علی زرداری کیساتھ سرے محل کا کیا اور2 ارب روپے بھی سویٹزرلینڈ کیس لڑنے پر ضائع کئے، ان دو این آر او کے نتیجے میں دونوں کرپٹ لیڈر پانچ پانچ سال کیلئے دوبارہ اقتدار میں آئے اور6ہزار ارب کا قرضہ 30ہزار ارب روپے تک پہنچا دیا، آج پوری قوم اس خسارے کی وجہ سے مہنگائی کا سامنا کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کسی کرپشن کرنے والے کو نہیں چھوڑے گی، چاہے یہ اسمبلی میں کتنا ہی شور کیوں نہ مچالیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی جمہوریت میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی جیل سے اُٹھ کر سیدھا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بن جائے اور پھر نیب کو طلب کر لے ہم پارلیمنٹ کو چلانے کیلئے ایسا کر رہے تھے لیکن اب ایسا نہیں چلے گا۔ وزیراعظم نے آخر میں بلوکی وائلڈ لائف پارک کو باباگرونانک کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہاں پر بابا گرونانک کے نام سے یونیورسٹی بھی بنائیں گے۔ پاکستان میں تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق دیئے جائیں گے تاکہ ان کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کسی کو بھی این آر او نہ دینے کا اعلان کر کے کرپشن کیخلاف جس اصولی جنگ کا آغاز کیا ہے اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے بانیان پاکستان خصوصاً بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی کا بغور مطالعہ کیا جائے اور پھر خاص طور پر قیام پاکستان کے بعد ان کے بطور گورنر جنرل کے دور کو پرکھا جائے تو کرپشن کو چھوڑیئے ایک طرف سرکاری وسائل کے استعمال میں بھی حد درجہ احتیاط اور قومی خزانے پر ناجائز مصارف کا بوجھ ڈالنے کی بھی کوئی ایک مثال سامنے نہیں لائی جاسکتی، بابائے قوم کے کردار کا جائزہ لینے والے سوانح نگار ان کی دیانتداری کی جو مثالیں ضبط تحریر میں لاچکے ہیں ان کی روشنی میں بابائے قوم کا کردار ایک بلندمینار بن کر چمکتا دکھائی دیتا ہے، بدقسمتی سے ملکی سیاست میں کرپشن کا ناسور پہلے مارشل لاء کے بعد سرایت کرتا چلا گیا جبکہ اس میں اضافہ خصوصی طور پر ضیاء الحق کی غیرجماعتی اسمبلیوں کے قیام کے بعد مجلس شوریٰ کے تمام ایوانوں کے ممبران کیلئے صوابدیدی فنڈز کے غیرآئینی اجراء کے نتیجے میں ہوتا چلا گیا اور آج پورا معاشرہ کرپشن کے ناسور میں اس قدر جکڑا ہوا ہے کہ جس کی کوئی مثال ہی نہیں مل سکتی۔ زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت اس لئے نہیں کہ تمام تر تفصیل مع جزیات کے قوم اچھی طرح جانتی ہے اور ماضی میں جن لوگوں کو این آر او دیا گیا اگرچہ ان کیخلاف بعض صورتوں میں قائم مقدمات بوجوہ حتمی نتائج تک نہیں پہنچ سکے یا پھر دیگر وجوہات کی بناء پر ان لوگوں کو لوٹی گئی دولت کی واپسی پر مجبور نہیں کیا جاسکا جبکہ بعض اب بھی مقدمات بھگت رہے ہیں اور چونکہ ان دنوں ایک بار پھر سیاسی فضا میں مزید این آر اوز کے حوالے سے ارتعاش پیدا کیا جارہا ہے جبکہ وزیراعظم باربار اس حوالے سے تردید کر رہے ہیں جس پر تجزیہ نگار اپنی اپنی سوچ کے مطابق تبصرے بھی کررہے ہیں۔ لیکن وزیراعظم کے گزشتہ روز کے بیان کے بعد امید ہے کہ یہ ساری افواہیں دم توڑ دیں گی اور کرپٹ افراد کو قانون کے مطابق عدالتوں سے سزا دلوانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ البتہ یہاں ایک اہم سوال ضرور اٹھتا ہے کہ کرپشن کیخلاف اقدامات کے ضمن میں جنرل مشرف کیخلاف کب اقدامات کئے جائیں گے جن کیخلاف بقول وزیراعظم عمران خان، حدیبیہ پیپر مل کیس میں سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کا اعترافی بیان بھی موجود ہے جبکہ جنرل مشرف نے اپنی کرسی بچانے کیلئے نواز شریف کیساتھ این آر او کر کے سعودی عرب بھجوا دیا تھا۔ وزیراعظم نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا نام لئے بغیر ان پر جو اعتراضات کئے ہیں اس حوالے سے گزارش یہ ہے کہ رولز میں تبدیلی کئے بغیر وہ کسی بھی قائد حزب اختلاف کو آنے والے دنوں میں بھی چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنائے جانے کے عمل کو روک نہیں سکتے اس لئے بہتر ہے کہ رولز میں ترامیم کر کے ہی وہ یہ سلسلہ روکنے کی تدبیر کریں۔

متعلقہ خبریں