Daily Mashriq

اُلٹے بانس بریلی کو

اُلٹے بانس بریلی کو

اب تک تو افغان مہاجرین کے حوالے سے یہ شکایات عام تھیں کہ انہوں نے اپنے قیام پاکستان کے دوران نہ صرف پاکستانی شناختی کارڈز حاصل کر رکھے ہیں جن کے حصول میں نادرا کے اندر موجود کالی بھیڑوں کا کردار اہم رہا ہے جو مٹھی گرم کرنے سے مہاجرین کو رجسٹریشن کے عمل سے گزارتے ہوئے انہیں اور ان کے اہل خاندان کو پاکستانی شناختی کارڈ جاری کر دیتے تھے اور بعد میں جن کی بنیاد پر ہزاروں افغان مہاجرین پاکستان پاسپورٹ بھی حاصل کر چکے ہیں اور ان پاسپورٹوں کی مدد سے دنیا کے مختلف ممالک میں رہائش پذیر ہوچکے ہیں بلکہ ان ہی کی صفوں میں ایسے مہاجرین کی بھی کمی نہیں جو بیرونی دنیا میں غیر قانونی کاموں کی وجہ سے پاکستان کی بدنامی کا باعث ہیں۔ انہی حالات کی بناء پر گزشتہ کچھ عرصے سے نادراء کے حکام نے کریک ڈاؤن کر کے جعلی شناختی کارڈوں کو بلاک بھی کیا ہے حالانکہ اس اقدام کے دوران حقیقی پختون پاکستانیوں کے بھی لاتعداد شناختی کارڈز کو بھی بلاک کر کے متعلقہ خاندانوں کو عذاب سے دوچار کر دیا گیا اور اب وہ اپنے جائز شناختی کارڈز کو بحال کرنے کیلئے تگ ودکر رہے ہیں، تاہم اب الٹے بانس بریلی کو کے مصداق نادرا نے ایسے دس ہزار پاکستانیوں کا سراغ لگا لیا ہے جنہوں نے امداد حاصل کرنے کیلئے اپنا اندراج افغان مہاجر کی حیثیت سے کروائے رکھا، صورتحال یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر نے رضاکارانہ واپسی کی سکیم کے تحت اپنے آبائی وطن واپس جانے والے ہر افغان مہاجر کیلئے چار سو ڈالر کی رقم مختص کر رکھی ہے جو تقریباً 55ہزار پاکستانی روپے کے لگ بھگ ہے۔ جعلی شناخت کے یہ کیسز اس وقت پکڑے گئے جب کارڈز بلاک کئے جانے پر لوگوں نے نادرا سے شناختی کارڈز کے حصول کیلئے رابطہ کیا۔ کسی بھی ملک کے شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کے حصول کیلئے دھوکہ دہی کے طور طریقوں کی تمام دنیا میں حوصلہ شکنی ہوتی ہے اور اسی اصول کے تحت ہم نے بھی ہمیشہ پاکستان کے جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول اور اجراء پر تنقید کی ہے اس لئے افغان مہاجر کی حیثیت سے صرف رقم کے حصول کیلئے خود کو مہاجر ظاہر کرنے پر بھی کوئی سجھوتہ نہیں ہونا چاہئے اور ایسے لوگوں سے قانون کے مطابق برتاؤ کرنا ضروری ہے اس لئے کہ جب ہم پاکستانی شناختی کارڈ کے غیرقانونی اجراء کو جائز نہیں سمجھتے تو کسی پاکستانی کے جعلی طور پر افغان مہاجر بننے کو کیسے قبول کیا جاسکتا ہے۔

ناقابل قبول بیان بازی

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ممبرشپ کے حوالے سے ان دنوں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کے مابین جو بیان بازی چل رہی ہے اسے نامناسب اور ناقابل قبول قرار دیئے بنا کوئی چارہ نہیں ہے، اس حوالے سے شیخ رشید کا یہ کہنا کہ وزیراعظم کی جانب سے انہیں پی اے سی کا ممبر نامزد کئے جانے کے بعد وہ کمیٹی کے ممبر بن چکے ہیں جبکہ سپیکر نے معاملات رولز کے مطابق چلانے اور کسی سے ڈکٹیشن نہ لینے کی بات کی ہے، اصولی طور پر دیکھا جائے تو جب تک سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے کسی ممبر کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہو اسے پی اے سی کا ممبر تسلیم نہیں کیا جاسکتا، بہرحال اس معاملے پر آئین اور قانون کے مطابق آگے بڑھا جائے تو بدمزگی کی صورتحال جنم نہیں لے گی اور نہ ہی اختلافی صورتحال پیدا ہوگی، اس معاملے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ آئین اور قومی اسمبلی کے رولز کو مدنظر رکھ کر آگے بڑھا جائے۔

حیات آباد کیلئے پانچ سالہ ترقیاتی پروگرام

صوبائی حکومت نے حیات آباد کی ترقی کیلئے پانچ سالہ پروگرام ترتیب دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے وہاں کے رہائشیوں سے بھی تجاویز طلب کر لی ہیں، امر واقعہ یہ ہے کہ حیات آباد کی تعمیر اور اس میں مزید سیکٹروں کی شمولیت کے بعد وہاں عوام کو فراہم کی جانے والی سہولیات کے حوالے سے وہاں کے رہائشیوں کو اکثر شکایات رہتی ہیں خصوصاً صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے علاوہ سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اور دیگر کئی طرح کے مسائل روزبروز بڑھنے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، معمول کی مرمت وغیرہ تو جاری ہے تاہم بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کی جانب کسی منصوبہ بندی کے تحت توجہ دینے پر کم کم ہی توجہ دی گئی ہے۔ اب جبکہ صوبائی وزیرخزانہ تیمور خان جھگڑا نے ایک ٹویٹ پیغام میں بتایا ہے کہ حیات آباد کا نصف حصہ ان کے حلقے میں شامل ہے جہاں عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور وہ تجاویز دیں تو گزارش ہے کہ صرف نصف حیات آباد کیلئے نہیں بلکہ بقیہ نصف حصے کو بھی اس منصوبہ بندی کا حصہ بنا کر عوام کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔