Daily Mashriq

وزیر اعظم اور آئی ایم ایف کی سربراہ کی ملاقات

وزیر اعظم اور آئی ایم ایف کی سربراہ کی ملاقات

آج اتوار کے روز وزیر اعظم عمران خان دوبئی میں آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارڈے سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ آئی ایم ایف سے امدادی پروگرام حاصل کرنے کی بات چیت ایک عرصہ سے چل رہی ہے۔ آئی ایم ایف کی ٹیم موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے سے پہلے ہی پاکستان میں معیشت کا جائزہ لینے کے لیے موجود تھی کیونکہ سابقہ حکمرانوں نے جس طرح بے دریغ طریقے سے معیشت کو قرضوں میں جکڑ دیا تھا اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں تھا کہ ملک کو ادائیگیوں کے بحران کا سامنا ہو گا۔ پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت بھی اگر تفصیلات اور جزئیات سے آگاہ نہیں بھی تھی تو بھی اسے متوقع بحران کی شدت کا اندازہ تھا کیونکہ پی ٹی آئی کی حکومت انتخابی مہم کا محور ہی سابقہ حکومت کی کرپشن ‘ منی لانڈرنگ اور معیشت کو قرضوں میں مبتلا کرنے کی پالیسیاں تھیں۔ اس کے باوجود یہ نظر نہیں آتا کہ حکومت کے پاس برسراقتدار آنے سے پہلے اس متوقع بحران سے نکلنے کا کوئی واضح پروگرام تھا۔

آئی ایم ایف سے باقاعدہ معاملت شروع کرنے سے پہلے حکومت نے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کم کر دی‘ درآمدات پر پابندی عائد کر دی ۔ گیس ‘ بجلی اور تیل کی قیمتیں بڑھا دیں تاکہ آئی ایم ایف سے معاملت میں آسانی پیدا ہوا اور کوئی ایسا پیکیج لیا جا سکے جو ادائیگیوں کے توازن کے بحران سے نمٹنے میں مدد کر سکے ۔ لیکن گزشتہ چھ ماہ کی خبروں سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ حکومت نے جو اصلاحاتی اقدام کیے وہ آئی ایم ایف کے تقاضوں کے مطابق نہیں تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کی امدادی پیکیج دینے کی شرائط حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کی نسبت زیادہ سخت ہیں۔ اگرچہ یہ شرائط منظر عام پر نہیں آئی ہیں تاہم کہا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط مان لی جائیں تو ڈالر کا بھاؤ ڈیڑھ سو روپے تک جا سکتا ہے۔ بجلی اور گیس مزید مہنگی کرنے پڑے گی۔ وزیر خزانہ اور آئی ایم ایف کے ارکان کے درمیان کئی بار روبرو اورٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعے بات چیت کے باوجود اتفاقِ رائے سامنے نہیں آیا ۔ ایک طرف آئی ایم ایف کے پیکیج کو ناگزیر کہا جا رہا ہے دوسری طرف یہ بھی کہا جار ہا ہے کہ آئی ایم ایف کا پیکیج حکومت کو معاشی پالیسی سازی کے حوالے سے مجبور محض کر دے گا اور عوام کے لیے مہنگائی اتنی بڑھ جائے گی کہ برداشت سے باہر ہو جائے گی۔

وزارت خزانہ کہتی ہے کہ آئی ایم ایف سے رابطہ مسلسل ہے تاہم جن دنوں مذاکرات تواتر کے ساتھ ہو رہے تھے تو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئی ایم ایف کو تنبیہ کی تھی کہ پاکستان کے لیے امدادی پیکیج میں امریکہ کا سرمایہ استعمال نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس امدادی پیکیج سے پاکستان چینی قرضوں کی ادائیگی کرے گا۔

اگرچہ یہ کہا گیا کہ چینی قرضوں کی ادائیگی تو شروع ہی اس وقت ہو گی جب امدادی پیکیج کی مدت ختم ہو چکی ہو گی تاہم ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی کہ ڈونلڈ ٹرمپ پر اس وضاحت کا کوئی اثر ہوا۔ اس دوران یہ خبریں شائع ہوچکی ہیں کہ پاکستان نے سعودی عرب ‘ متحدہ عر ب امارات اور چین سے کچھ قرضے لیے تاہم ان قرضوں کے بارے میں بعض مبصرین کی رائے ہے کہ یہ ایک سال تک سانس لینے کی گنجائش فراہم کر سکتے ہیں مزید قرضوں کی ضرورت ہو گی۔ حکومت کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ آئی ایم ایف کے پیکیج کی اشد ضرورت نہیں رہی ۔ البتہ آئی ایم ایف کا پروگرام اس لیے ضروری ہے کہ اس کی بنا پر پاکستان کی معیشت پر جس اعتماد کا اظہار ہو گا اس کی بنا پر دیگر عالمی اداروں سے قرض حاصل کرنے میں آسانی ہو جائے گی۔

گزشتہ چھ ماہ سے صورت حال یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے ایسی شرطیں طے نہیںہو رہی ہیں جن کی بنا پر پیکیج حاصل کرکے حکومت اپنی ترجیحات پر عمل درآمد کر سکے اور نہ ہی آئی ایم ایف سے مذاکرات ختم کیے جا رہے ہیں۔ اس دوران ایک طرف عوام شدید مہنگائی تلے پس رہے ہیں دوسری طرف حکومت کا کام بھی قرضوں سے چل رہا ہے۔ سٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق حکومت کے ذمے ادائیگیوں میں گزشتہ ایک سال کے دوران ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس صورت حال میں آئی ایم ایف کی سربراہ سے وزیر اعظم عمران خان کے مذاکرات کے حوالے سے امید کی جا سکتی ہے کہ ان کے لیے ’’مسلسل رابطوں‘‘ کے دوران یقینا راہ ہموار کی گئی ہو گی جس میں دونوں طرف سے کسی قدر لچک کا مظاہرہ کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہو گی۔ امید کی جانی چاہیے کہ یہ مذاکرات فیصلہ کن ہو ں گے ۔ فنڈ کی سربراہ اور حکومت پاکستان کے سربراہ کی ملاقات کے بعد اس سے کوئی اونچی سطح باقی نہیں رہتی۔ اس لیے جو بھی ہونا ہے وہ اس ملاقات میں ہو جانا چاہیے۔ آئی ایم ایف اگر اس ملاقات میں بھی سخت تر شرائط پر ہی اصرار کرتا ہے تو ان سے انکار ہی کرنا مناسب ہو گا کیونکہ سخت تر شرائط کا بوجھ پاکستان کے عوام برداشت نہیں کر پائیں گے ۔ سخت تر شرائط سے پاکستان کی برآمدات میں اس قدر اضافے کی آس نہیں لگائی جا سکتی کہ قرضوں کی ادائیگی میں معاون ہو سکے کیونکہ پہلے ہی اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں پیداواری لاگت میں اضافہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا ادائیگی کا بوجھ ٹیکسوں کے ذریعے عوام ہی کو برداشت کرنا پڑے گا۔ جن کی آمدنی کی قوتِ خرید بعض اندازوں کے مطابق تیس فیصد تک کم ہو چکی ہے۔ سخت تر فیصلہ کے بارے میں عوام کو اعتماد میں لیا جا سکتا ہے لیکن گومگو کی کیفیت برقرار رہنے سے عوام کا اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں