Daily Mashriq


دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

انگریزی کا مقولہ کیرٹ اینڈ سٹک تو سنا تھا جسے یار لوگوں نے مشرف بہ اُردو کرکے گاجر اور چھڑی بنا دیا ہے۔ ایسا اکثر ہوتا ہے کہ دوسری زبانوں کے مقولے اور محاورے اُردو زبان میں ڈھالے جاتے ہیں مگر ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ جو لطف کسی مقولے یا محاورے کا اس کی ’’مادری زبان‘‘ میں ہو ویسی ہی برجستگی ترجمہ شدہ میں ہو‘ اس لئے کیرٹ اینڈ سٹک والی صورتحال اُردو زبان کے گاجر اور چھڑی میں کہاں یعنی بقول شاعر مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی‘ بہرحال یہ تو چند جملہ ہائے معترضہ تھے جو برسبیل تذکرہ آگئے جبکہ آج اسی انگریزی مقولے کو ہمارے ہم نام اور جماعت اسلامی کے صوبائی امیر اور سینیٹر مشتاق احمد خان نے ایک نئی جہت سے آشنا کیا ہے یہ کہہ کر کہ ڈنڈے والوں نے عوام پر انڈے والوں کو مسلط کردیا ہے۔ اب ذرا غور سے دیکھیں تو کس خوبصورتی سے انہوں نے قافیہ پیمائی کی ہے‘ یعنی ڈنڈے اور انڈے کے قافیوں کو خوبصورتی سے جملے میں استعمال کیا ہے‘ اس سے ہمیں کم ازکم یہ اندازہ ضرور ہوا ہے کہ دور طالب علمی میں مشتاق احمد خان امتحانی پرچوں میں ان سوالات کے جوابات بھی بڑے سلیقے اور قرینے سے دیتے رہے ہوں گے جن میں کہا جاتا ہے کہ فلاں فلاں الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجئے اور ہو سکے تو ان پر مختصر نوٹ بھی تحریر کیجئے وغیرہ وغیرہ‘ اب اس کے کلیے کے مطابق تو جس نے بھی سب سے پہلے کیرٹ اینڈ سٹک کا ترجمہ گاجر اور چھڑی کے الفاظ سے کیا ہے اس نے شاید وہ لطیفہ نہیں سنا ہوگا کہ دو دوستوں میں کسی بات پہ تکرار ہوگئی تو ایک جو تیلی تھا، نے دوسرے کو جو شیخ تھا (اس کا شیخ رشید سے کوئی تعلق نہیں) کہا‘ شیخ رے شیخ تیرے منہ میں میخ‘ اب شیخ کو بھی غصہ آگیا اور اس نے جھٹ سے جواب دیا‘ تیلی رے تیلی تیرے منہ میں کولہو‘ اس پر تیلی نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا یہ کیا‘ نہ قافیہ نہ ردیف‘ شیخ کا قافیہ تو میخ بنتا ہے مگر تیلی کا قافیہ تو کولہو ہرگز نہیں ہو سکتا۔ شیخ نے کہا‘ قافیہ ردیف کی چھوڑ یہ دیکھ کہ کولہو سے تیرا منہ تو پھٹ گیا نا۔ اب یہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ کیرٹ اینڈ سٹک کے ترجمے گاجر اور چھڑی میں وہ لطف ہے یا نہیں مگر شاید وہ مقصد پورا ہوتا ہو جو مترجم نے حاصل کرنا چاہا۔ اس سے البتہ ایک اور روایت یاد آگئی ہے اگر آپ اس کے اندر چھپے حقائق کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوگئے تو سمجھیں نہ صرف گاجر اور چھڑی کا مطلب جان جائیں گے بلکہ وہ جو شیخ اور تیلی کا لطیفہ ہم نے آپ کے گوش گزار کیا اس میں چھپے اصل الفاظ کی تہہ تک بھی آپ کی رسائی آسان ہوجائے گی اور جس روایت کی ہم بات کرنے لگے ہیں اس کی حقانیت کے حوالے سے ہم تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر اس میں خدا نخواستہ دروغ گوئی کا کوئی شائبہ ہو تو ایسے موقعوں پر آزمودہ جملہ ہم بھی استعمال کر دیتے ہیں یعنی دروغ برگردن راوی‘ کیونکہ ایک بار اسی قسم کی ایک روایت ہم نے کسی کالم میں درج کی تھی تو ہمارے ایک محترم قاری نے اس پر ناگوار سا تبصرہ فرمایا تھا کہ یہ غلط ہے‘ حالانکہ روایتیں ضروری نہیں کہ درست ہوں بس سینہ بہ سینہ چلتی ہوئی ایک سے دوسرے تک پہنچتی ہیں اور ان میں سے بعض میں تفنن طبع کا سامان ہوتا ہے۔ اگر روایت میں شگفتگی کا عنصر موجود ہو تو اس سے لطف اُٹھانا چاہئے نہ کہ بحث کے دریچے کھولے جائیں۔ ہاں تو روایت گاجروں کے حوالے سے یوں ہے کہ افغانستان کے بادشاہ نادرشاہ کے دربار میں ایک سادہ لوح شخص اپنی زمین میں اُگنے والی سبز مرچیں ساتھ لیکر گیا‘ بادشاہ اچھے موڈ میں تھا‘ پوچھا مرچیں کیوں لائے ہو؟ کسان سادہ آدمی تھا‘ کہنے لگا حضور اس سے معدے کی تیزابیت ختم ہوتی ہے اور کھانے میں لطف پیدا ہوتا ہے‘ نادرشاہ نے اس کی سادگی سے متاثر ہوکر انعام و کرام سے نوازا‘ وہ خوش خوش اپنے گاؤں آیا تو راستے میں اسے ایک دوست ملا‘ اسے خوش دیکھ کر ماجرا پوچھا تو ساری بات سن کر سوچنے لگا اگر بادشاہ نے اسے مرچیں تحفے میں پیش کرنے پر اتنا انعام واکرام دے دیا ہے تو کیوں نہ میں اپنے کھیت کی گاجریں دربار میں لے جا کر بادشاہ کو خوش کردوں۔ اگلے روز گاجروں کی ایک بوری اُٹھا کر اس نے بھی دربار کا رخ کیا‘ بدقسمتی سے نادرشاہ کسی وجہ سے غصے میں تھا اس نے گاجر لانے والے سے آمد کا سبب پوچھا تو کہا حضور اس سے بینائی تیز ہوتی ہے‘ دل کو فرحت ملتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ نادرشاہ کا موڈ ویسے بھی آف تھا‘ غصے سے بولا گویا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہماری نظر کمزور ہے‘ ہم اندھے ہونیوالے ہیں؟ پھر اس نے دربان کو حکم دیا کہ یہ گاجریں اسکے منہ میں ٹھونسو‘ حکم پر عمل ہونے لگا تو ہر گاجر کے بعد کسان یہ الفاظ ادا کرتا‘ آخر بہ خیر‘ آخر بہ خیر‘‘۔ بادشاہ یہ الفاظ سنتا رہا‘ اس نے دربان کو روکا اور کسان سے پوچھا‘ یہ تم کیا آخر بہ خیر کے الفاظ کی تکرار کر رہے ہو؟ کسان نے ڈرتے ڈرتے کہا حضور‘ بوری میں اوپر تو چھوٹی چھوٹی گاجریں ہیں جبکہ نیچے بتدریج بڑی اور بہت بڑی موٹی موٹی گاجریں موجود ہیں‘ وہ کیسے برداشت کروں گا۔ یہ سن کر نادرشاہ بے ساختہ ہنس پڑا اور اس کا موڈ ٹھیک ہوگیا۔ اس نے گاجروں والے کسان کو بھی انعام واکرام دے کر رخصت کیا۔ بقول میر تقی میر

حال بد گفتنی نہیں‘ لیکن

تم نے پوچھا تو مہربانی کی

خیر وہ بات تو ادھوری رہ گئی جو کالم کے آغاز میں سینیٹر مشتاق احمد خان کے ایک برجستہ تبصرے سے شروع ہوئی تھی‘ یعنی کیرٹ اینڈ سٹک کے اُردو ترجمے گاجر اور چھڑی کو موجودہ حالات بر بات کرتے ہوئے انہوں نے قافیہ پیمائی کرتے ہوئے ڈنڈے اور انڈے کا استعمال کیا تھا‘ مگر اب اس پر مزید کیا بات کی جائے کہ کالم کی تنگ دامنی آڑے آرہی ہے بس اتنا ہی کہہ دیتے ہیں کہ

تردامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو

دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

متعلقہ خبریں