Daily Mashriq


گئے دنوں کی چند یادیں

گئے دنوں کی چند یادیں

قیام پاکستان کے بعد تب صوبہ سرحد کے کم وبیش ہر علاقے میں غربت نے ڈیرے ڈالے تھے‘ لیکن بعض علاقے حد سے زیادہ غربت کا شکار تھے۔ ایسے علاقوں میں ضلع کرک وسائل کے لحاظ سے بہت پسماندہ تھا لیکن اس علاقے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اس لحاظ سے بہت ممتاز رکھا کہ ہر بچہ جب شعور سنبھالتا تو اپنے بے آب وگیاہ علاقے کی غربت اسے بقائے حیات کیلئے زندگانی کی حقیقت کوہکن کی طرح بہت جلد سیکھ کر جہد مسلسل پر اُبھارتے ہوئے جوئے شیر لانے کیلئے تیشہ اور سنگ گراں کا عادی بنا دیتا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک زمانے میں ضلع کرک تعلیمی لحاظ سے پختونخوا کے سارے اضلاع سے آگے نکل گیا اور اس علاقے کے لوگ اپنی تعلیمی محنت کی بدولت دو شعبوں میں امتیازی حیثیت حاصل کرنے لگے۔ یہ دو شعبے محکمہ تعلیم اور پاک افواج کے تھے۔ خٹک بچے کی تربیت اس لحاظ سے فطرت خودبخود کرتی تھی کہ اسے سنگلاخ پہاڑوں اور خشک ریگستانی علاقوں پر مشتمل خطے میں جہاں پینے کا پانی بمشکل میسر آتا ہے‘ صرف ایک ہی راستہ نظر آتا تھا کہ شدید شب وروز محنت کرکے تعلیم حاصل کی جائے تو شاید زندگی کے دن پھر جائیں اور یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے قبیلہ خٹک کے ان جفاکش قوم کو تیل وگیس کے وسائل سے نواز کر روزی روٹی کمانے کے اور بھی وسیع ذرائع فراہم کئے۔ اس پر مستزاد انڈس ہائی وے نے اس خشکی کے علاقے کے لوگوں کی غربت اب امارت میں تبدیل کردی اور اب اس وقت حال یہ ہے کہ ضلع کرک میں شاید ہی کوئی ایسا گھرانہ ہوگا جن کا اپنا گھر نہ ہو اور اسے دو وقت کا کھانا میسر نہ آجائے لیکن جیسا کہ ابن خلدون نے لکھا ہے کہ جب عرب لوگوں کے پاؤں میں ببول کے لمبے لمبے کانٹے پھنسے رہے تو ایک دنیا ان کے سامنے سرنگوں رہی لیکن جب دنیا کے خزانے سمٹ کر ان کے محلات میں سمٹ آئے تو ان کی وہ نسلیں جو سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوئیں تو وہ اتنے نازک اندام ہوگئے کہ محلات میں نرم قالینوں پر بھی ان کے پاؤں چھیلے جانے لگے۔

یہی حال کم وبیش اس وقت میرے علاقے کا ہونے لگا ہے۔ بالخصوص تعلیمی میدان میں‘ ضلع کرک کے مشرق کے بالائی علاقے صابرآباد سے اکنامکس کے ریٹائرڈ پروفیسر جناب بخت جمال نے میرے نام اپنے خط میں دل کے پھپھولے پھوڑ ڈالے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان کے دل میں اپنے علاقے کے تعلیمی زیاں پر جو درد کی ٹھیسیں اُٹھی ہیں اسے محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا اس لئے ان کے درد کو ان سطور میں بیان کرنے پر علامہ اقبال کا سہارا لیتے ہوئے مجبور ہوں۔

کیوں زیاں کار بنوں‘ سود فراموش رہوں

فکر فردا نہ کروں‘ محو غم دوش رہوں

آپ لکھتے ہیں کہ آج ضلع کرک میں بھی دیگر شہروں کے دیکھا دیکھی نجی تعلیمی ادارے مشروم کی طرح اُگ آئے ہیں اور ان سکولوں اور کالجوں میں پڑھانے والے اکثر اساتذہ نان پروفیشنل ہوتے ہیں۔ اس لئے دوران ملازمت وہ کبھی بھی دل جمعی کیساتھ نہیں پڑھا سکتے۔ اس کے علاوہ ان اداروں کے مالکان طلباء سے بورڈ کی طرف سے متعین امتحانی فیس سے زیادہ رقم لیتے ہیں اور اس کا جواز یہ بتایا جاتا ہے کہ اس اضافی رقم سے امتحانی عملہ کی خاطر ومدارت ہوگی تاکہ امتحانی ہال کا ماحول آپ لوگوں کیلئے خوشگوار بنایا جا سکے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ محنت اور ذہانت کیلئے مشہور اس علاقے کے طلباء نے محنت کرنی چھوڑ دی ہے اور نقل کی فراہمی کی ضمانت پر مطمئن ہوکر امتحان گاہ جاتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں سائنسی مضامین کے پریکٹیکل کیلئے نہ تو مناسب اساتذہ میسر آتے ہیں اور نہ ہی لیبارٹریاں اور نہ ہی مواد یعنی (آلات اور کیمیکلز)۔ طلباء کتابوں سے نقل کرکے پریکٹیکل کی کاپیاں پر کر لیتے ہیں اور استاد سے دستخط کرا لیتے ہیں۔ پروفیسر بخت جمال صوبائی حکومت اور خصوصاً ضلع کرکے سے تعلق رکھنے والے منتخب اراکین اسمبلی‘ انتظامیہ اور مشران اور اصحاب دل ودرد سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس علاقے کے تعلیمی اداروں میں نقل کے سبب تعلیم کے گرتے معیار کو سنبھالا دیا جائے تاکہ اس علاقے کے ذہین وفطین طلباء ایک بار پھر محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھیں۔ آپ لکھتے ہیں کہ نجی تعلیمی اداروں میں دوران امتحان ہر پرچے کے استاد کی اس دن حاضری لازمی ہوتی ہے تاکہ طلباء کیلئے حل شدہ مواد کی فراہمی میں آسانی ہو اور اب نجی اداروں کی دیکھا دیکھی سرکاری سکول کالج بھی اس میدان میں برابر کے شریک ہوگئے ہیں البتہ ان کے ریٹس کم ہوتے ہیں۔ میں پروفیسر صاحب کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ والدین ان باتوں کا سخت نوٹس لیں کیونکہ ان کے بچوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔ جب تک طلباء کا ویژن واضح نہیں ہوگا تب تک زیادہ نمبر لینے کے باوجود ایٹا کا کلیئر کرانا اور مستقبل میں کوئی اچھا ڈاکٹر اور انجینئر بہت مشکل ہوگا۔

متعلقہ خبریں