Daily Mashriq


ایک سوچ

ایک سوچ

زندگی اور پانی کا بہاؤ دونوں ایک جیسے ہیں۔ پانی بھی اپنی روانی میں آگے کی منزلوں میں بڑھتا ہے اور زندگی بھی کہیں نہیں رکتی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ زندگی اور وقت کا رشتہ بھی گہرا ہے کہ وقت زندگی کو جسٹی فائی کرتا ہے۔ وقت انسان کیساتھ سائے کی طرح چلتا ہے مگر جیسے سایہ گرفت میں نہیں آتا اسی طرح وقت کو بھی کوئی قابو نہیں کر پاتا۔ اتنا چکنا ہے یہ وقت کہ پھسل پھسل جاتا ہے۔ انسان جب وقت کی قدر نہیں کرتا تو وقت کو کیا پڑی ہے کہ وہ انسان کی قدر کرے۔ بہت سے دکھ انسان اور انسانوں کے گروہ اسی وقت کی ناقدری کی وجہ سے اٹھاتے ہیں اور جو وقت کے قدم کیساتھ قدم اٹھاتا ہے وہ سکندرکہلاتا ہے۔ انسان ہوش مند سمجھا جاتا ہے لیکن زندگی پوری مدہوشی میں گزار جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ کیا کررہا ہے اور کیا ہو رہا ہے۔ بڑی سامنے کی چیزیں اسے دکھائی نہیں دیتیں جن باتوں پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے انہیں انسان کم توجہ دیتا ہے اور جن باتوں پر بے توجہی کا تقاضا لاگو ہوتا ہے ان کو انسان حد سے زیادہ توجہ دے دیتاہے۔ ہر سماج کے اپنے تقاضے، اپنے رجحان اور اپنے میلانات ہوتے ہیں۔ یہی سماجی تقاضے، رجحانات اور میلانات اس سماج کو بہتر یا برا بنانے میں مددگار ہوتے ہیں۔ یہی سماج کسی قوم کی ساخت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ظاہر ہے قومیں یونہی تو نہیں بن جایا کرتیں۔ اس کے پس منظر میں بہت سے سماجی اداروں کا بہت کردار ہوتا ہے۔ یہی ادارے پہلے اس سماج کی تربیت کرتے ہیں اور پھر انہی اداروں سے قوم ترتیب پاتی ہے۔ سماجی خوبیاں ہی انسان میں آدمیت کے اعلیٰ اوصاف کو جنم دیتی ہیں اور یہی اعلیٰ اوصاف کسی قوم کو اچھی، بہتر یا بہترین قوم کے زمرے میں لاتا ہے۔ جتنی بھی عظیم تہذیبیں گزری ہیں ان کا تاریخی مطالعہ کیا جائے تو یہ شواہد سامنے آئیں گے کہ ان شاندار تہذیبوں نے اپنے سماجی مسائل کو اپنی گرفت میں لیا اور اسی سماج سے جنم لینے والے ضابظہ اخلاق سے ایک ناقابل شکست قوم کی ساخت ہوتی ہے اور پھر یہی قومیں دنیا کو فتح کر لیتی ہیں۔ جو قومیں اپنے سماج کی تربیت نہیں کرتیں وہ بہترین جینیاتی صلاحیتوں کے باوجود ترقی کی منازل طے نہیں کرسکتیں۔ اخلاقیات وہ اہم اور کلیدی حوالہ ہے کہ جس سے سماج تہی دست ہوجائے تو خسارے کے گوشوارے ہی بنیں گے۔ اپنے سماج کو ہی دیکھ لیں کہ ہم اخلاقی طور پر کہاں کھڑے ہیں۔ کسی بھی سماج میں اخلاقی سماج کو دیکھنے کیلئے آپ اس کے بازاروں میں چلے جائیں۔ اس کی سڑکوں پر بہتی ٹریفک کو دیکھ لیں آپ بڑی آسانی کیساتھ اس سماج کے اخلاقی حوالوں کو دیکھ اور سمجھ بھی لیں گے اور جان بھی جائیں گے کہ یہ سماج اخلاقیات کے کس مقام پر کھڑا ہے۔ سڑک پر دوڑتی بھاگتی گاڑیاں کس طرح اوورٹیک کر رہی ہیں۔ کس طرح ہارن کی اعصاب شکن صدائیں گونج رہی ہیں اور ہارن سننے والا کس کرب سے گزر رہا ہے کیا اسے بجانے والے کو بھی اس کا احساس ہے یا نہیں۔ ہم خدا جانے کیوں اتنے جھگڑالو ہیں۔ لڑنے بھڑنے کیلئے ہمہ وقت تیار۔ ہمارے رویوں کی شدت سے دوسروں پر کیا گزرتی ہے ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی بس ہمیں تو بس وہی کرنا ہوتا ہے جو ہم کرنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہماری ان سماجی کجیوں کو کون سیدھا کرے گا۔ ظاہر ہے ماضی میں جب ہمارے تہذیبی حوالے بہتر تھے تو اس وقت سماجی ادارے اپنا کام غیرمحسوس انداز میں ٹھیک ٹھیک کر رہے تھے۔ سکول مدرسہ، حجرہ بیٹھک چوپال سب اپنا اپنا کام کر رہے تھے ایک نسل دوسری نسل کو اپنا تہذیبی ورثہ منتقل کر رہے تھے مگر اب تو سکولیں بھی ظاہری چکاچوند اور انگریزی رائمز اور ٹیکسٹ کی یادداشت سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اخلاقی مضامیں بھی امتحان کے تناظر میں یاد رکھنے تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ رہا سوال حجرے اور بیٹھکوں کا تو ان کا اللہ ہی حافظ ہے۔ اب کون حجرے میں بیٹھے۔ اب تو موبائل فون کا زمانہ ہے کہ جس میں اتنی وسیع دنیا پھیل چکی ہے کہ جسے ایک زندگی میں تو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ٹی وی اس سے بھی بڑا عذاب کہ دکھ ہی نشر کر رہا ہے اور ڈرامہ اور انٹرٹینمنٹ کے نام پر محرومیاں نشر کی جارہی ہیں سکون کے بجائے بے سکونی مائیکروویو کے ذریعے ہم تک پہنچ رہی ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہے کی باقی دنیا بھی ان ایجادات سے اتنا ہی متاثر ہورہی ہے کہ جتنا ہم۔ وہاں اب بھی کمیونٹی موجود ہے اور اس کمیونٹی کو وقت کیساتھ ساتھ ترقی دی گئی ہے۔ سکول میں ہی کاؤنسلنگ کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے نہ صرف بچوں کا بلکہ ان کے والدین کی بھی کاؤنسلنگ کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں کاؤنسلنگ کیا تعلیم کے بنیادی تقاضے پورے نہیں کیے جاتے۔ سماجی مسائل نے ہمارے ہاں جس بے مروتی کو جنم دیا ہے اس نے انسان کو انسان سے اتنا دور کردیا ہے کہ ہر شخص اپنے ہی مسائل کو مسئلہ سمجھتا ہے دوسروں کی تکالیف کو جب تک اون نہ کیا جائے تو ہماری مصیبتوں کا خیال کس نے رکھنا ہے۔ نہ ہی کسی کو پروا ہے کہ کمیونٹی سسٹم مرتب کیا جائے۔ لوگوں کو دھڑوں میں تقسیم در تقسیم میں اتنا الجھا دیا گیا ہے کہ کسی جوگے ہی نہیں رہے۔ فائن آرٹ اور ادب کسی کا مسئلہ ہی نہیں۔ سکون آور چیزوں کو کوئی لفٹ ہی نہیں کرواتا، بس پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ چاہے زندگی میں ایک آنے کا سکون نہ ہو بس پیسہ ہی کماتے جاؤ چاہے کتنا ظلم کیوں نہ کرو۔ ہم شاید اس احساس سے عاری ہوچکے ہیں کہ زندگی کی ایک انتہا بھی ہے۔ اگر اس انتہا کو سمجھ لیں تو شاید ہماری زندگیوںکی یہ شدتیں کچھ کم ہو جائیں اور کسی سکون کی وادی میں خود کو ٹہلتا محسوس کرسکیں۔

متعلقہ خبریں