Daily Mashriq

بلوچستان کی سیاست بحران کی زد میں

بلوچستان کی سیاست بحران کی زد میں


نظر بہ ظاہر تو بلوچستان کے ( سابق) وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے وزارت اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد بحران ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے تاہم شاید یہ پورا سچ نہ ہو بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بحران کی تہہ میں پوشیدہ ارتعاش ابھی مکمل طور پر تھما نہیں اور صوبے میں نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے ہنگام مزید سیاسی بھونچال آنے کے خدشات سر اٹھا رہے ہیں کیونکہ ایک جانب صوبے کی نئی قیادت کے حوالے سے فیصلہ اگر اصولی طور پر لیگ (ن) کی قیادت کو کرنا ہے تو دوسری جانب جو تین نام بطور ممکنہ وزیراعلیٰ سامنے آرہے ہیں ان میں سرفراز بگٹی' صالح بھوتانی' چنگیز مری کے علاوہ میر جان جمالی بھی شامل ہیں اور ان میں سے کم از کم دو افراد نے نئے وزیر اعلیٰ کے نام کا فیصلہ باہمی مشاورت سے کرنے کا عندیہ دیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بلوچستان میں پارٹی قیادت کے فیصلے کو مزید تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے جو پارٹی قیادت کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ اس صورتحال کا اندازہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے دورہ بلوچستان سے بھی آسانی کے ساتھ لگایا جاسکتا ہے جنہوں نے بہت کوششیں کیں کہ نواب ثناء اللہ زہری کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو ناکام بنائیں تاہم اس مقصد میں انہیں کامیابی حاصل نہ ہوسکی جس کے بعد انہوں نے بھی نواب ثناء اللہ زہری کو مستعفی ہونے ہی کا مشورہ دیا۔ اس صورتحال میں نواب ثناء اللہ کے پاس اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے سوا کوئی دوسرا راستہ رہ بھی نہیں گیا تھا جبکہ انہوں نے بھی حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے یہ کہہ کر ا ستعفیٰ دینے ہی میں عافیت سمجھی کہ اراکین کی اکثریت چونکہ ان کی قیادت سے مطمئن نہیں تھی اس لئے زبردستی اقتدار سے چمٹے رہنا مناسب نہیں تھا۔ میری وجہ سے صوبے کی سیاست خراب ہو یہ اچھا نہیں ہے۔ درپیش حالات میں نواب ثناء اللہ زہری کے فیصلے کو سراہا جانا چاہئے اس لئے کہ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اقتدار سے چمٹے رہنے کی روایت بھی بہت پرانی ہے۔ مگر جو لوگ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وقت کے تقاضوں پر لبیک کہتے ہیں اور درست فیصلہ کرلیتے ہیں تاریخ ان کو اچھے الفاظ سے یاد رکھتی ہے۔ صوبہ بلوچستان کی تاریخ سیاسی افراتفری کے حوالے سے کچھ اچھی روایات نہیں رکھتی جس کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع ہے نہ محل تاہم موجودہ سیاسی بحران میں تجزیہ نگاروں نے بعض ایسے عوامل کی نشاندہی کی ہے جن پر اظہار افسوس کئے بنا چارہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ایک دینی سیاسی جماعت کے حوالے سے کہاجاتا ہے کہ 2015ء میں لیگ (ن) کے اراکین نے سینٹ انتخابات میں خیبر پختونخوا میں محولہ جماعت کے برعکس اس کی حریف جماعت کے ساتھ جاتے ہوئے ووٹ دئیے جس کی وجہ سے ناراض جماعت کو ایک نشست سے محروم ہونا پڑا۔ یوں لیگ(ن) کی اس گٹھ جوڑ کا حساب بلوچستان میں چکا دیاگیا۔ تاہم چونکہ ملکی سیاست میں ایسے مواقع آتے رہتے ہیں اس لئے اس (غیر اصولی) پر اصولی طور پر کوئی اعتراض نہیں بنتا۔ تاہم بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام کے اراکین کو فنڈز کی عدم فراہمی پر رنجش کی وجہ سے جمعیت کے اراکین نے تحریک عدم اعتما د میں اپنا کردار ادا کیا جو آئینی طور پر تو غلط نہیں ہے لیکن ایک بار پھر اس صورتحال نے ہمارے جسد سیاست کے کھوکھلے پن کو عیاں بلکہ عریاں کردیا ہے اور وہ ہے حکومتی خزانے کی ترقیاتی فنڈز کے نام پر بندر بانٹ۔ جس کی ابتداء آمر ضیاء الحق نے کرکے اراکین پارلیمنٹ کو سیاسی رشوت کی لت لگائی اور تب سے اب تک اس غیر آئینی 'غیر قانونی اقدام کو ختم نہ کرکے جس طرح سیاسی کرپشن کو بڑھاوا دیا جا رہاہے اور اراکین پارلیمنٹ بھی قومی خزانے کو باپ دادا کی جاگیر سمجھتے ہوئے اس پر چپ ہیں۔ یہ نہایت قابل اعتراض صورتحال ہے حالانکہ اس طرح اراکین خود کو بلدیاتی نمائندوں کی سطح پر لا کر بھی کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ایک جانب ملک میں کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف تحریک چلائی جا رہی ہے سابق وزیر اعظم کو اقامہ پر نا اہل کرکے ان کے پورے خاندان کے خلاف نیب نے مقدمات قائم کر رکھے ہیں مگر دوسری جانب اس غیر آئینی اقدام کے خلا ف کوئی آواز اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔دیکھا جائے تو یہ بھی ''کرپشن'' ہی کی ایک قسم ہے جس کے آگے بند باندھنے کی ضرورت ہے خود پارلیمنٹ کو غیر آئینی اقدام کا نوٹس لے کر قومی خزانے میں اس ''نقب زنی'' کو روکنا چاہئے اور اراکین پارلیمنٹ کو اپنے آئینی کردار یعنی قانون سازی پر توجہ دینے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے اقدام کرنے تک خود کو محدود کرنا چاہئے۔ اس کے بعد کم از کم فنڈز کی تقسیم کے نام پر حکومتوں کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ تھم جائے گا۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ بلوچستان کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ اراکین صوبائی اسمبلی نئے قائد ایوان کے انتخاب سے آسانی کے ساتھ عہدہ برآ ہوتے ہیں یا پھر عدم اتفاق کی صورتحال کاشکار ہو کر بالآخر اسمبلی ہی کو تحلیل کرنے کی (غلط) روایت قائم کرتے ہیں جس کے بعد شاید گورنر راج کی نوبت آسکتی ہے۔ سو دیکھنا ہے کہانی کدھر کو جاتی ہے۔

اداریہ