Daily Mashriq

پانی کے مسائل

پانی کے مسائل

پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کی ذیلی کمیٹی میں فاٹا سیکرٹریٹ پر پانی کی مختلف سکیموں میں کروڑوں روپے کے گھپلے کے الزامات کا انکشاف کیاگیا ہے جس پر کمیٹی نے سات دنوں کے اندر تحقیقاتی رپورٹ مانگ لی ہے۔ ادھر چیف جسٹس آف پاکستان نے جیلوں میں پینے کا صاف پانی نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے چاروں صوبوں کے آئی جی جیل خانہ جات سے رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ سپریم کورٹ ہی کے احکامات کی روشنی میں خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبے بھر کے تمام ہسپتالوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے اور اس حوالے سے تمام ہسپتالوں میں موجود سہولیات سے متعلق رپورٹ طلب کرلی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ملک کے اندر غلط پالیسیوں کی وجہ سے پانی کے ذخائر کی تعمیر میں غفلت اور ناقص منصوبہ بندی عوام کو مشکلات سے دو چار کر رہی ہے۔ آنے والی صدی کے بارے میں ماہرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ یہ پانی پر جنگ کی صدی ہوگی جبکہ پاکستان کے حصے کے دریائو ں پر بھارت نے جس طرح تسلط جمانے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے اس کے حوالے سے بھی یہ پیشگوئیاں کی جا رہی ہیں کہ دونوں ملکوں کے مابین پانی ہی کے مسئلے پر محدودجنگ کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا تاہم یہ تو خیر دور کی کوڑی لانے کی بات ہے مگر موجودہ حالات میں خود ہماری اپنی غفلت سے جو صورتحال جنم لے رہی ہے وہ انتہائی قابل افسوس ہے۔ ملک کے کسی بھی حصے میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ عوام کو آلودہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے مختلف خطرناک بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ خصوصاً ہیپا ٹائٹس ' ٹی بی' کینسر' پولیو وغیرہ۔ حد تو یہ ہے کہ اب ہسپتالوں اور جیلوں کے اندر بھی صاف پانی دستیاب نہیں حالانکہ ہسپتالوں میں تو صحت کے اصولوں کے مطابق احتیاط حد درجہ لازم ہے مستزاد یہ کہ بوتلوں میں بند کرکے پانی فروخت کرنے والے اداروں کے حوالے سے بھی اکثر و بیشتر اس قسم کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں کہ ان بوتلوں میں بند پانی میں بھی آلودگی موجو دہوتی ہے جس پر اظہار حیرت کی بجائے اظہار تاسف ہی کیاجاسکتا ہے۔ یہ کوئی عام مسئلہ نہیں بلکہ انسانی مسئلہ ہے۔ ملک میں پہلے ہی خطرناک بیماریوں کے حوالے سے منفی اطلاعات عام ہیں اور آلودہ پانی کے استعمال سے ان میں اضافہ تشویشناک ہے۔ اس لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس حوالے سے جامع پالیسیاں تشکیل دے کر ان پر عملدرآمد کرنے پر توجہ دینا چاہئے تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ پانی کے وافر ذخائر بھی فراہم کئے جاسکیں۔

اداریہ