Daily Mashriq

گیس لوڈشیڈنگ کیوں؟

گیس لوڈشیڈنگ کیوں؟


اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر حاجی غلام احمد بلور نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو گیس کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے لئے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر لوڈشیڈنگ کاخاتمہ نہ ہوا تو اے این پی بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم صوبے کے عوام کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ حاجی غلام احمد بلور کا وفاق سے احتجاج اپنی جگہ بالکل درست ہے تاہم اس میں صوبائی حکومت کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو اپنے صوبے کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 158 اور آرٹیکل 161 کی شق (1) اور (2) کے مطابق قدرتی گیس کی تقسیم اور اس کے منافع کے بارے میں واضح طور پر موجود ہے جس کے تحت جس صوبہ میں قدرتی گیس کا کوئی چشمہ واقع ہو اسے اس چشمے سے ضروریات پوری کرنے کے سلسلہ میں ان پابندیوں اور ذمہ داریوں کے تابع جو یوم آغاز پر ہوں پاکستان کے دیگر حصوں پر ترجیح ہوگی۔ اس طرح محولہ آرٹیکل کے تقاضوں کے مطابق خیبر پختونخوا میں پیداہونے والے قدرتی گیس کے چشموں سے پہلے صوبے کی ضروریات کو پورا کیاجانا چاہئے مگر بدقسمتی سے جس طرح صوبے کی پن بجلی کو پہلے قومی گرڈ پہنچا کر وہاں سے صوبوں کو ان کا مقرر کردہ کوٹہ دیاجاتا ہے (صوبہ خیبر پختونخوا کو وہ بھی پورا نہیں ملتا) ۔ اس طرح کرک' کوہاٹ اور دیگر علاقوں سے ملنے والی گیس کو صوبے کے تصرف میں دینے کے بجائے اس کی تقسیم کا نظام وفاق نے اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے جو آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مستزاد یہ کہ پشاور میں سوئی ناردرن گیس کمپنی کے اعلیٰ حکام لوڈشیڈنگ سے مسلسل انکار کرکے صورتحال کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ ایک تو صوبے کے عوام کو گیس سے محروم رکھا جا رہا ہے اور دوسری جانب اس حوالے سے متعلقہ حکام جھوٹ بول کر جلتی پر تیل چھڑکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لئے صوبائی حکومت کو یہ معاملہ فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھا کر صورتحال کے تدارک کی کوشش کرنی چاہئے یا پھر پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کرکے صوبے کے حقوق کے تحفظ کے لئے اقدام کرنا چاہئے۔

اداریہ