جناب نواز شریف کچھ یاد تو کیجئے آپ بھی

جناب نواز شریف کچھ یاد تو کیجئے آپ بھی

معزز وزیر اعظم کی شائستہ زبان ملاحظہ کیجئے پھر اس پر تفصیل کے ساتھ عرض کرتے ہیں۔ جناب شاہد خاقان عباسی فرماتے ہیں '' نواز شریف کی قیادت میں ملک سے دہشت گردی ختم ہوئی' کراچی امن کا گہوارہ بنا' ملک نے ترقی کی' وہ ہمارے لیڈر تھے' ہیں اور رہیں گے۔ ان کے خلاف عدالتی فیصلہ ردی کی ٹوکری میں جائے گا''۔ آگے بڑھنے سے قبل ایک سوال ہے وہ یہ کہ کیا عدالتی فیصلوں اور ججوں کی ایسی درگت کے جملہ حقوق پنجاب ( وسطی اور سنٹرل پنجاب) کے نام محفوظ ہیں یا چھوٹے صوبوں اور قوموں کے لوگ بھی اپنے خلاف ہوئے فیصلوں پراس طرح کی زبان استعمال کرسکتے ہیں؟ فقیر راحموں پوچھ رہے تھے کہ یہ سہولت الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو بھی ملے گی؟ نواز شریف کے خلاف عدالتی فیصلے پر باپ بیٹی اور ملازمین کی زبان دانیاں پچھلے کئی مہینوں سے جاری ہیں۔ اب تو خیر وزیر اعظم نے بھی کہہ دیا ہے کہ عدالتی فیصلہ ردی کی ٹوکری میں جائے گا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاسی فیصلے عدالتوں میں نہیں بلکہ عوام میں ہونے چاہئیں۔ کیا انہیں مکرر یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ نون لیگ اس کے مالکان اور ملازمین نے 2008ء سے 2013ء کے درمیان پیپلز پارٹی کی منتخب حکومت کے خلاف کس کس کی مدد نہیں لی اور کس کس کا ساتھ نہیں دیا۔ کالعدم تنظیموں سے کس صوبے کے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ '' ہمارے اور آپ کے خیالات میں اختلاف نہیں ہے اس لئے پنجاب میں کارروائیاں نہ کیا کریں'' طالبان اور دوسری تنظیموں نے شہباز شریف کی اپیل مان لی اور خیبر پختونخوا و سندھ کے مرکزی شہر کراچی پر جہنم کے دروازے کھول دئیے۔ بلوچستان بھی لہو لہان ہوا۔
اسٹیبلشمنٹ کے گھڑے ہوئے میمو گیٹ سکینڈل کے خلاف کالا کوٹ پہن کر نواز شریف سپریم کورٹ میں گئے۔ جناب نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کی ملاقات کے بعد جے یو آئی(ف) کے اعظم سواتی سپریم کورٹ چلے گئے۔ حالانکہ جے یو آئی( ف) پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل تھی۔ چودھری نثار علی خان اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 2009ء سے 2013ء کے درمیان آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی سے لگ بھگ 37 ملاقاتیں فرمائیں اتفاق دیکھئے کہ 37 میں سے 35ملاقاتیں شب 10 بجے کے بعد ہوئیں۔
بہت ادب کے ساتھ یاد دلائوں جب چودھری کورٹس نے ایک بے بنیاد معاملے میں منتخب وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کو سزا دی تو نواز شریف فرمانے لگے یہ انسانوں کا سماج ہے گیلانی صاحب جنگل نہیں۔ ہم اسے جنگل نہیں بنانے دیں گے آ پ کو عدالت کا فیصلہ آگیا' انصاف کا بول بالا ہوا آپ گھر جائیں۔ شہباز شریف زرداری کو لاہور کی سڑکوں پر پیٹ پھاڑ کر انتڑیاں پکڑ کر گھسیٹنے کے بلند و بانگ دعوے کرتے تھے۔ لوڈشیڈنگ کی آڑ لے کر پنجاب میں پیپلز پارٹی والوں کے گھروں پرحملے ہوئے۔ یہ سب یاد دلانے کا مقصد یہ ہے کہ جو کھائی آپ نے کھودی تھی اس میں سر کے بل گریں ہیں تو رونے دھونے 'گالیاں دینے اور انتقام کے نعرے لگانے کی ضرورت نہیں۔ کیا نون لیگ جنرل ضیاء الحق کی پیداوار نہیں۔ وہ اسلامی جمہوری اتحاد کس نے بنوایا تھا' بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی رسک کس نے کہا۔ کون تھا جو یہ کہتا پھرتا تھا ذوالفقار علی بھٹو کا نام سنتے ہی میرا خون کھولنے لگتا ہے۔ میرا بس چلے تو پیپلز پارٹی کو سمندر میں پھینک دوں۔ جناب وزیر اعظم اور وزیر اعظم کے مالک حقیقی نواز شریف کل آپ لاڈلے تھے۔ پیارے ایسے پیارے کہ آپ کے لئے 1988ئ' 1990ء اور1997ء کے انتخابات میں گھوسٹ پولنگ اسٹیشن بنوائے گئے۔ پوری ریاست ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہی۔
یہی ریاست انہیں آخری وقت پر امیدوار بدل کر2013ء میں اقتدار میں لائی۔ 2013ء میں نواز شریف کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ اصل میں عمران خان کی چند حماقتوں کی وجہ سے کیاگیا۔ کرن تھا پرکو دیاگیا انٹرویو بھی ایک وجہ بنا تھا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر آج نون لیگ کے خلاف عدالتی فیصلے غلط ہیں تو کل کیسے درست تھے؟ سیاسی معاملات عدالتوں میں لے جانے اور ریاست کا بغل بچہ بن کر مخالفین کو آئوٹ کرنے کی رسم شروع کس نے کی۔ ساری باتیں اپنی جگہ مگر اصل سوال یہ ہے کہ جب ایک ملک کا وزیر اعظم عدالتی فیصلوں بارے حقارت و نفرت بھری زبان استعمال کرے گا تو ہم کسی اور سے یہ توقع کیسے کریں گے کہ وہ عدالتوں کا احترام کرے۔ ثانیاً یہ کہ نون لیگ کو اپنے معاملات کے ساتھ ان مسائل پر بھی غور کرنا چاہئے جو بہر طور اس کے پیداکردہ ہیں۔
یہاں ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر سانحہ ماڈل ٹائون میں جاں بحق ہونے والے شریف خاندان کے رشتہ دار ہوتے تو پھر بھی پرویز رشید' رانا ثناء اللہ' طلال اور مریم اورنگزیب کا لب و لہجہ یہی ہوتا۔ مروجہ سیاست کی کوئی کل سیدھی نہیں نواز شریف کا رد عمل وہی ہے جیسا مغل بادشاہ ہمایوں کا تھا اقتدار سے محرومی پر۔ کاش انہوں نے اپنے چار سالہ دور میں ایسی قانون سازی کی ہوتی کہ پارلیمان اپنا کام کرتی اور ادارے اپنا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پانامہ والے معاملے میں سپریم کورٹ کو خط کس نے لکھا تھا۔ اس سے آگے کی بات یہ ہے کہ عمران خان کے دھرنا 2 کے معاملے میں جناب نواز شریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے درخواست نہیں کی تھی کہ وہ معاملے طے کر وا دیں؟ کسی دن جرأت رندانہ کا مظاہرہ کیجئے عوام کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیجئے اور یہ تو بتائیے کہ انہوں نے ریاست کے پرجوش ہرکارے کے طور پر خود کو ماورائے آئین و قانون سمجھتے ہوئے وہ سب کچھ کیوں کیا جو انہیں اس موڑ پر لایا ہے جہاں وہ تنہا کھڑے ہیں۔

اداریہ