Daily Mashriq


ناجائز سپیڈ بریکرز اور کیٹ آئیز سے کب چھٹکارہ ملے گا؟

ناجائز سپیڈ بریکرز اور کیٹ آئیز سے کب چھٹکارہ ملے گا؟

کبھی کبھی ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پر مجبور ہونا پڑ جاتا ہے۔ اس وقت بھی میری کیفیت اسی قسم کی ہے اور میں ماضی کے دو کرداروں کو یاد کرنے پر مجبور ہوں۔ ظاہر ہے اس کی کوئی نہ کوئی وجہ بھی تو ہوگی ناں، تو پہلے اس وجہ کی نشاندہی ہوجائے تو بات کو آگے بڑھانے کا جواز بھی بن جائے گا۔ ابھی چند ہفتے پہلے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا نے پشاور کی انتظامیہ کو حکم دیا تھا کہ وہ شہر کے مختلف علاقوں سے نہ صرف بلا جواز سپیڈ بریکرز، کیٹ آئیز کو ہٹا دیں بلکہ اس سے پہلے پشاور ہائی کورٹ نے بھی شہر اور صدر کے علاقوں میں قائم کردہ ناکے ہٹانے کے حوالے سے بھی حکم جاری کیا تھا۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر نے ان احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے سپیڈ بریکرز اور کیٹ آئیز کی صفائی کی مہم شروع کی تو اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے میں نے اپنے کالم مطبوعہ6 دسمبر2017 ء میں اسے قابل تحسین اقدام قرار دیا تھا اور گل بہار کالونی میں کیٹ آئیز کو ہٹانے کا تذکرہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا تھا کہ پورے شہر سے جلد ہی یہ ''ناجائز تجاوزات'' ختم کردی جائیں گی مگر ایسا لگتا ہے کہ ڈپٹی کمشنر پشاور نے بھی اس کام کو ''فضول'' سمجھتے ہوئے کہیں کہیں سے ابتدائی طور پر ان کا صفایا کرنے کے بعد اس سے ہاتھ کھینچ لیا جس کے بعد راوی سپیڈ بریکروں اور کیٹ آئیز کے حوالے سے چین ہی چین لکھتا ہے جبکہ ہائی کورٹ نے جس طرح سڑکوں سے ناکوں کو ختم کرنے کیلئے متعلقہ حکام تک (ان کے نمائندے کے توسط سے) پیغام پہنچانے کے بعد متعلقہ اداروں کا موقف طلب کیا تھا، ابھی تک شاید اس کی بھی عملی صورت دکھائی نہیں دیتی۔

میرے لڑکپن کے دور میں بھی اس شہر پشاور میں ایک ڈپٹی کمشنر سید فرید اللہ شاہ نام کا ہوا کرتا تھا جو بعد میں ترقی پا کر کمشنر اور پھر مزید ترقی کرتے کرتے نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچ گیا تھا، نہایت نیک نام اور عوام کی حقیقی خدمت کرنے پر یقین رکھنے والا تھا، بطور ڈپٹی کمشنر ان کے سنہری کارنامے گنوانے لگ جاؤں تو ایسے کئی کالم کم پڑ جائیں۔ پھر بھی انتظامی امور کی انجام دہی کے حوالے سے کبھی کبھی کوئی نہ کوئی شکایت پیدا ہو ہی جاتی تھی۔ ایسے موقعوں پر مقامی سطح پر قائم ایک سیاسی سماجی تنظیم ''غریب عوام پارٹی'' کے سربراہ غلام محمد گاما بانساں والے لوگوں کو اکٹھا کرکے نہ صرف جلوس نکالتے بلکہ چوک یادگار پر جلسہ منعقد کرکے ڈپٹی کمشنر سید فرید اللہ شاہ کو کھری کھری سناتے اور عوامی مطالبات کے حق میں تقریریں کرتے، غلام محمد کو بانساں والا اس لئے کہتے کہ قصہ خوانی کے شاہ ولی قتال میں ان کا بانسوں کا کاروبار تھا جو اب بھی ان کے خاندان کے پاس ہے جبکہ وہ بھارت کے مشہور فلمی اداکار شاہ رخ کے حقیقی چچا تھے۔ ایک بار آٹے کی قیمت میں کچھ اضافہ ہوا تو گاما صاحب نے جلسہ کر کے ہندکو زبان میں تقریر کے دوران کہا کہ ہم لوگ اچھے کام پر زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اور جب کوئی مطالبہ کرتے ہیں تو حکومت اس کے خلاف اقدام کرتی ہے۔

ہم آٹے کی مہنگائی کے بارے میں یہی مطالبہ کرنے آئے ہیں کہ آٹے کو سستا کرو، مگر حکومت نے آٹا مہنگا کر دیا ہے۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت ہر بات کا الٹ مطلب لیتی ہے۔ اس لئے آؤ نعرے لگاتے ہیں کہ آٹے کو مہنگا کرو۔ ایسے موقعوں پر وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ''ڈپٹی کمشنر صاحب، یہ زبان گوشت کی ہے جو کسی وقت بھی لڑھک کر نامناسب الفاظ منہ سے نکال سکتی ہے، اس لئے آج اگر ہم ڈپٹی کمشنر زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں تو مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے یہ زندہ باد کے الفاظ مردہ باد بھی بن سکتے ہیں۔ میری عمر کے جن لوگوں نے ان کے جلسے سنے ہیں وہ گواہی دیں گے کہ ان کی تقریر کے دوران لوگوں کا ہنس ہنس کر پیٹ میں بل پڑ جاتے تھے مگر اب تو جو صورتحال ہے اسے ڈاکٹر اسلم فرخی کے الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ

شہر میں صرف رقص بسمل ہے

مور جنگل میں ناچتا ہوگا

آمدم برسر مطلب، جب ڈپٹی کمشنر پشاور نے چیف سیکرٹری کی ہدایت پر شہر سے یہ ناجائز سپیڈ بریکرز اور کیٹ آئیز کے خاتمے کا آغاز کیا تو میں نے اس کی تحسین اسی غرض سے کی تھی کہ عام لوگ اس عذاب سے بری طرح عاجز آچکے ہیں مگر خدا جانے پھر وہ کیا عوامل تھے جن کی وجہ سے اس نیک کام کو اچانک روک دیا گیا چونکہ میں خود گل بہار کالونی میں رہتا ہوں اس لئے ان جگہوں کی نشاندہی کر سکتا ہوں جہاں ادھورے اقدام کی وجہ سے عوام اب بھی مشکلات سے دو چار ہیں۔ گل بہار کی گلیوں کے اندر لوگوں نے ناجائز سپیڈ بریکرز اپنے گھروں کے قریب بنا رکھے ہیں، اس سلسلے میں رشید ٹاؤن کی سڑکوں، بخاری کالونی، گل بہار نمبر 1 کے ساتھ ملحقہ ذیلی گلیوں کا حال قابل توجہ ہے، اسی طرح ٹی ٹی سی کے سامنے نشتر آباد اور آگے سکندر پورہ تک بھی یہی حال ہے، اس لئے ڈپٹی کمشنر پشاور سے یہی گزارش کی جاسکتی ہے کہ اگر ان کے اچھے اقدام کی تحسین میں کالم لکھا جاسکتا ہے تو نہ صرف زبان گوشت کا لوتھڑا ہے بلکہ قلم بھی گوشت پوست سے بنے ہاتھوں اور انگلیوں میں پکڑا ہوتا ہے، اس سے بھی منفی جذبات ظاہر ہو سکتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہے کہ چیف سیکریٹری کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ان سپیڈ بریکروں اور کیٹ آئیز کو ختم کرنے پر توجہ دی جائے تاکہ لوگ زندہ باد ہی کے نعرے لگاتے رہیں۔

متعلقہ خبریں