Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات


ایک دن موسیٰ علیہ السلام کسی راستے سے گزر رہے تھے کہ ان کے دل میں خیال آیا کہ صرف میں ہی اللہ کا ذکر کرتا جارہا ہوں اور کوئی نہیں تو اللہ نے تمام جانداروں درختوں پتوں کو حکم دیا کہ ذکر کی آواز بلند کرو تو ہر طرف سے اللہ کے ذکر کی آواز بلند ہو گئی تو موسیٰ علیہ السلام سجدے میں گر گئے اور کہا کہ اے رب کائنات کیا زمین کے نیچے بھی تیرا ذکر ہوتا ہے تو اللہ نے کہا اپنا عصا زمین پر مارو تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر مارا تو زمین پھٹ گئی اور پانی نکلا تو اللہ نے کہا اس پر بھی عصا مارو آپ نے پانی پر بھی عصا مارا تو پانی پھٹ گیا اور پتھر نکل آیا تو اللہ نے کہا اس پر عصا مارو تو آپ نے پتھر پر عصا مارا تو ایک سبز رنگ کا جانور اللہ اللہ اللہ کا ذکر کر رہا تھا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ کب سے ذکر کر رہے ہو تو اس جانور نے کہا میں آج سے پانچ ہزار سال پہلے سے ذکر کر رہا ہوں تو آپ نے پوچھا کیا کھاتے ہو کیا پیتے ہو تو جانور نے کہا اے اللہ کے نبی میرا کھانا پینا اس اللہ کے ذکر میں ہے نہ مجھے بھوک لگتی ہے نہ پیاس اور اے اللہ کے نبی اب تم جا ئو کیونکہ جب سے اللہ نے مجھے بنایا ہے میں نے کسی سے بات نہیں کی کہیں ایسا نہ ہو اللہ مجھ سے ناراض ہو جائے یہ سن کر موسیٰ علیہ السلام سجدے میں گر گئے اور زمین برابر ہو گئی۔
حضرت بشر حافی رحمتہ اللہ علیہ کو کشف و مجاہدات میں مکمل دسترس حاصل تھی اور اصول شرع کے بہت بڑے عالم تھے اور اپنے ماموں علی حشرم کے ہاتھ پر بیعت تھے۔ مرو میں ولادت ہوئی اور بغداد میں مقیم رہے۔ آپ کی توبہ کا واقعہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک مرتبہ حالت دیوانگی میں کہیں جا رہے تھے کہ راستہ میں ایک کاغذ پڑا دکھائی دیا آپ نے وہ کاغذ اٹھایا اور دیکھا تو اس پر بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا ہوا تھا آپ نے اس کاغذ کو عطر سے معطر کر کے کسی بلند مقام پر رکھ دیا اور اسی شب خواب میں دیکھا کہ کسی درویش کو منجانب اللہ حکم ملا بشر حافی کو یہ خوشخبری سنا دو کہ ہمارے نام کو معطر کر کے جو تم نے تعظیماً ایک بلند مقام پر رکھا ہے اس کی وجہ سے ہم تمہیں بھی پاکیزہ مراتب عطا کریں گے اور بیداری کے بعد جب ان درویش کو یہ تصور آیا کہ بشر حافی تو فسق و فجور میں مبتلا ہیں اس لئے شاید میرا خواب صحیح نہیں ہے۔ لیکن دوسری مرتبہ اور تیسری مرتبہ بھی جب یہی خواب آیا تو وہ آپ کے گھر پہنچے وہاں معلوم ہوا کہ میکدے میں ہیں۔ انہوں لوگوں سے کہا کہ آپ سے جا کر کہہ دو کہ میں تمہارے لئے ایک ضروری پیغام لایا ہوں۔ چنانچہ جب لوگوں نے آپ سے کہا تو فرمایا کہ نامعلوم عتاب الٰہی کا پیغام ہے یا سزا کا۔ اور یہ کہہ کر میکدہ سے ہمیشہ کے لئے توبہ کر کے نکلے جس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم مراتب عطا فرمائے کہ آپ کا ذکر بھی قلوب کے لئے سکون بن گیا اور چونکہ آپ اس احساس کی وجہ سے ننگے پائوں رہا کرتے تھے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے فرش فرمایا ہے اسی لئے شاہی فرش پر جوتے پہن کر چلنا آداب کے منافی ہے یہی وجہ ہے کہ آپ کو حافی کہا جاتاہے۔(سبق آموز واقعات)

اداریہ