قصور:زینب قتل کیس سمیت 8کیسز میں ایک ہی شخص کے ملوث ہونے کے امکانات،،،

قصور:زینب قتل کیس سمیت 8کیسز میں ایک ہی شخص کے ملوث ہونے کے امکانات،،،

ویب ڈیسک:قصور میں7 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے بعد قتل کے المناک واقعے کی تحقیقات   میں 2015 سے ہونے والے اسی طرح کے 8 کیسز کے پیچھے ایک سیریل کلر کے ملوث ہونے کی نشاندہی کردی۔

پولیس حکام کے مطابق زیادتی کے بعد قتل کا پہلا کیس 2015 میں درج کیا گیا تھا جس میں ایک مقامی نے ملزم کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کمسن بچی کو زیر تعمیر گھر میں زیادتی کا نشانہ بنارہا تھا۔

تاہم ملزم جائے وقوع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا،کمسن بچی کو بازیاب کرنے والے شخص کی مدد سے پولیس نے ملزم کا خاکہ تیار کیا جسے ریکارڈ کا حصہ بنادیا گیا۔

سینیئر پولیس افسران کی ایک ٹیم نے گزشتہ سال تمام کیسز پر ایک تفصیلی تحقیقات کا آغاز کیا تھا جس میں تمام شواہد، ڈی این اے ٹیسٹس، زندہ بچ جانے والی دو لڑکیوں کے بیانات اور گواہان سمیت دیگر تفصیلات شامل تھیں۔

تحقیقات کا آغاز  جولائی2017 میں اسی طرح کے ایک اور کیس جس میں بچے کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا، کی پیروی میں کیا گیا تھا،

تحقیقات کے بعد افسران اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ ان تمام کیسز کے پیچھے ایک ہی شخص ملوث ہے،

اس مشاہدے کو مزید پذیرائی اس وقت ملی جب زینب کیس میں حاصل کی گئی ملزم کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کے ریکارڈ میں موجود خاکے میں مماثلت پائی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پانچ ڈی این اے سیمپلز ملے تھے جنہیں تشخیص کے لیے لیبارٹری بھیجا گیا اور ان کی رپورٹس نے بھی یہ اشارہ ملا کہ کیسز کے پیچھے ایک ہی شخص ملوث ہے۔

متعلقہ خبریں