Daily Mashriq


ہر جگہ ایک ہی نوعیت کے شہری مسائل

ہر جگہ ایک ہی نوعیت کے شہری مسائل

مشرق ٹی وی کے زیر اہتمام عوامی مسائل و شکایات براہ راست نشر کرکے جو خدمات انجام دی جا رہی ہیں اسے سراہنا اپنے میاں مٹھو بننے کے مصداق ہوگا لیکن جہاں جہاں ان فورمز کا انعقاد ہوتا ہے عوام کے ساتھ ساتھ حکام بھی اس قسم کے پروگراموں کو مفید قرار دے کر سراہتے ہیں جو یقینا ہمارے لئے اطمینان کا باعث امر ہے۔ مشرق ٹی وی کے زیر اہتمام فورم کی روزنامہ مشرق میں جامع طور پر اشاعت اور اس پر ادارتی طور پر اظہار خیال کے بعد ان مسائل کا پوری طرح اجاگر ہونا اور ان کے حل کی جانب پیشرفت فطری امر ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری بنیادی ذمہ داری اور فرض ہے کہ جس فورم پر بھی ممکن ہو عوام کے مسائل اس امید کے ساتھ سامنے لائے جائیں کہ متعلقہ حکام متوجہ ہوں اور صوبائی حکومت ان مسائل کے حل کے لئے اقدامات کرے۔ یہ مسائل کوئی نا معلوم نہیں بلکہ ان مسائل سے متعلقہ اداروں کے حکام سے لے کر صوبائی حکومت سبھی واقف ہیں۔ ان مسائل کو بار بار سامنے لانے سے یاد دہانی اور اس امر کااعادہ ہوتا ہے کہ ان کے حل کے لئے نئے عزم کے ساتھ ایک مرتبہ پھر متوجہ ہوا جائے۔ حسب سابق اس مرتبہ بھی مشرق فورم میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پشاور کا مضافاتی علاقہ نحقی مختلف مسائل سے دوچار ہے جہاں بجلی اورگیس لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ مقامی کاشتکاروں کو آبپاشی کے لئے پانی کی قلت کا بھی سامنا ہے جس کی وجہ سے علاقے کی مشہور فصلیں اورپھلوں کے باغات تباہ ہورہے ہیں ۔اہالیان علاقہ کی یہ شکایت بجا ہے کہ یہ علاقہ ٹا ئون ٹو کا حصہ ہے مگر یہاں بلدیاتی ادارے کہیں نظر نہیں آرہے صفائی کاا نتظام ناقص ہے ، جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر پڑے ہیں جنہیں اٹھانے کے لئے اہلکار ہیں اور نہ بلدیاتی عملہ۔ اسی گندگی کی وجہ سے نکاسی آب کا نظام بھی درہم برہم ہے اورجگہ جگہ پانی کھڑا رہتا ہے جبکہ بارش کی صورت میں گلیوں میں چلنا محال ہوجاتاہے ۔گندگی اٹھانے کے لئے ٹائون انتظامیہ کو درخواست دی گئی تھی لیکن صرف ایک دن کے لئے بلدیہ کا ٹرالر آیا اور پھر کم فیول اور فنی خرابی کا بہانہ کر کے غائب ہوگیا ۔یہ زرعی علاقہ ہے اور اہل علاقہ کی اکثریت کا دارومدار کاشتکاری پر ہے ۔یہاں کی سبزیاں پورے پشاور کی ضروریات کیلئے کافی ہوتی تھیں مگر اب فصلوںمیں50 فیصد تک کمی آگئی ہے جس کی بڑی وجہ آبپاشی کے نظام کی خرابی ہے۔ نحقی کے علاقے میں بڑا مسئلہ پانی کا ہے یہاں پینے کے لئے پانی دستیاب ہے نہ آبپاشی کے لئے۔ مقامی نہر میں دوسال سے پانی نہیں ہے اور کاشتکار بارش کاانتظار کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ اہل علاقہ کی کاشتکاری متاثر ہوگئی ہے اور کم فصلوں کی وجہ سے نہ صرف مقامی لوگ پریشان ہیں بلکہ اس کا اثر پورے پشاور پر پڑاہے۔گائوں میں آبنوشی کے لئے دو ٹیوب ویل بنائے گئے جو کئی سالوں سے بند ہیں۔ علاقے میں امن امان کی صورتحال خراب ہے یہاں منشیات کی فروخت اور استعمال زوروں پر ہے۔ پولیس منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہی ۔منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کی وجہ سے نحقی کا گائوں بدنام ہوگیاہے اور اب ہر پولیس ناکے پر نحقی کے مکینوں کو گاڑی سے اتار کر ان کی جامہ تلاشی لی جاتی ہے اور یوں ان کی تذلیل ہو رہی ہے۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بارہ گھنٹے سے زائد ہے لوگ میٹر لگانے کے لئے تیار ہیں مگر پیسکو اہلکار وں نے طریقہ کار کو مشکل اور پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ علاقے میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کو تنگ کردیا ہے ، مگر بھاری بل بھجوائے جارہے ہیں۔میٹر لگوانے کے بعد کئی مہینوں تک بجلی کے بل نہیں آتے اور یکمشت بھاری بل جرمانہ سمیت بھجوائے جاتے ہیں جس کی ادائیگی یہاں کے غریب صارفین کے بس میں نہیں ۔اہالیان نحقی نے مشرق فورم میں ایک دلچسپ انکشاف یہ بھی کیا کہ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے گزشتہ دور حکومت میں دھرنے کے دوران بجلی بل ادا نہ کرانے کا اعلان کیا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے اہالیان نحقی نے بل جمع نہیں کئے لیکن پیسکو اہلکار اب ان بقایاجات کی ادائیگی کے نام پر لوگوں کو نہ صرف تنگ کر رہے ہیں بلکہ انہیں پولیس کے ذریعے گرفتار کرواکر تھانے میں بند کیا جارہا ہے اور ان کی تذلیل کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب عمران خان ملک کے وزیر اعظم ہیںوہ اپنے اعلان پر عمل کرنے والے عوام کی جان چھڑائیں اور بجلی بقایاجات معاف کریں۔مختلف علاقوں میں فورمز کے انعقاد میں سامنے آنے والے بیشتر مسائل کا تعلق تعلیم اور صحت کی سہولتوں کے فقدان، صفائی کے ناقص انتظام، تجاوزات اور پولیس سے ہوتا ہے۔ موقع پر متعلقہ حکام ان شکایات کے بارے میں اپنا موقف بھی دیتے ہیں جس میں ان مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ صرف اس قسم کی یقین دہانیاں کرانے والے ہی لمبی تان کر سو جاتے ہیں بلکہ متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام کو بھی توفیق نہیں ہوتی کہ ان مسائل کے حل کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات کریں۔ مستزاد صوبائی حکومت تمام تر دعوؤں کے باوجود ایسے اقدامات اٹھانے میں ناکام ہے جس سے ان مسائل کے حل کی امید پیدا ہو۔ اجلاس تو بہت ہوتے ہیں، کاغذوں میں اقدامات اور احکامات بھی صادر ہوتے ہیں لیکن معاملہ جوں کا توں رہتا ہے۔ بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی اورلوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے بعد ہی بلوں کی وصولی حق بنتا ہے ۔ امن وامان کی خراب صورتحال کے دنوں سے اس ضمن میں جو مسائل چلے آرہے ہیں اس کا بہترحل یہی نظر آتا ہے کہ متعلقہ حکام عوامی نمائندوں اور عمائدین علاقہ کے ساتھ مل کر اس کا کوئی درمیانی حل نکالیں اس کے بعد بجلی وگیس کی فراہمی اور بلوں کی وصولی کا دوطرفہ نظام رائج کیا جائے جس میں کوئی فریق کوتاہی نہ کرے۔ جس قسم کے مسائل بڈھ بیر کے فورم میں سامنے آئے تھے نحقی کے فورم میں بھی اس سے ملتے جلتے مسائل سامنے آئے ہیں۔ کئی مسائل تو ایک ہی نوعیت کے ہیں۔ مضافاتی علاقوں کے کم وبیش یہی مسائل ہیں جن کو حکومت اور متعلقہ اداروں کو سنجیدگی سے حل کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں