Daily Mashriq

سرکاری تعلیمی اداروں کی ناکامی کی وجوہات

سرکاری تعلیمی اداروں کی ناکامی کی وجوہات

صوبائی حکومت کی تمام اضلاع میں سرکاری سکولوں میں ریشنلائزیشن پالیسی پر عملدرآمد میں مشکلات کاایک بڑا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ بعض اضلاع کے سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی اور طلبہ کی تعداد غیر معمولی ہے جس کے نتیجے میں محکمہ تعلیم خیبرپختونخواکو فوری طورپر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کردی گئی ہے ۔موجودہ حکومت نے سرکاری سکولوں میں بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی اور صوبہ بھر کے تمام پرائمری سکولز میں سٹوڈنٹس ٹیچرز کا تناسب 1-40 تک لانے کیلئے ریشنلائزیشن پالیسی متعارف کرائی تھی۔ صوبائی حکومت طالب علموں اور اساتذہ کا جو تناسب رکھ رہی ہے فی الوقت تو طلبہ کی تعداد کے باعث اس پر عملدرآمد ہی ممکن نہیں یہاں معاملہ چالیس پچاس طالب علموں کے لئے ایک استاد کا تناسب نہیں بنتا بلکہ پرائمری سکول کی پانچ چھ کلاسوں کے لئے دو اساتذہ کی تعیناتی حکام کے نزدیک کافی ہے جبکہ اصولی طور پر پانچ چھ کلاسوں کے لئے اگر ایک ایک استاد دستیاب نہ ہو تو دو دو کلاسوں کے لئے ایک استاد کی تقرری ہونی چاہئے۔ پرائمری کے طالب علموں کی عمر نا سمجھی اور انتہائی غیر ذمہ داری کی ہوتی ہے۔ ان جماعتوں کے طالب علم استاد کی موجودگی میں قابو میں نہیں آتے کجا کہ سو بچوں کو دو اساتذہ کے حوالے کر دیا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مزید پرائمری اساتذہ بھرتی کئے جائیں اور یہ شرح کم سے کم کی جائے تو بہترہوگا۔ علاوہ ازیں دیکھا جائے تو سرکاری سکولوں کا معیار نہ ہونے کی وجہ ہی یہی ہے کہ اساتذہ اولاً طالب علموں پر توجہ دینے والے ہی کم ہوتے ہیں اور اگر وہ پوری کوشش بھی کریں تو دو اساتذہ کے لئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ سو طالب علموں کو کنٹرول کرسکیں نتیجتاً پرائمری سطح پر تعلیم کا کوئی معیار قائم نہیں ہو پاتا جس کا اثرطالب علموں کی پوری زندگی پر پڑتا ہے اور کم ہی سرکاری اداروں سے اچھے اور قابل طالب علم نکلتے ہیں۔ جب تک اس قسم کی صورتحال درپیش اور جاری و ساری ہے سرکاری تعلیمی اداروں میں معیاری تعلیم اور بچوں پرتوجہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔

جہیز کی موثر روک تھام کے تقاضے

محکمہ سماجی بہبود کی جانب سے جہیز کے خلاف قانون پر عمل درآمد کرنے کیلئے محکمہ بلدیات سے تعاون طلبی اور ویلج و نیبر ہڈ کونسلوں میں نکاح کی رجسٹریشن کیلئے آنے والے جوڑوں کو قانون کے مطابق جہیز کا پابند بنانے کی درخواست اچھی سعی ضرور ہے لیکن اس پر عمل پیرا ہونے کا سوال مشکل اور حل طلب ہے۔قانون کے تحت دلہن کو ایک لاکھ روپے تک کے تحائف دئیے جاسکتے ہیں جبکہ جہیز کی قانون میں اجازت نہیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نشاندہی کرنے کا جو عندیہ دیاگیا ہے اس پر عملدرآمد مشکل نظر آتا ہے اس لئے کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جسے اگر معاشرے کے بعض افراد احسن گردانتے ہیں تو معاشرے کی ایک بڑی اکثریت اسے درست تسلیم کرنے کے باوجود اس کی دھجیاں اڑانے میں ذرا تامل نہیں کرتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قانون پر عملدرآمد ہی سے معاشرے میں جہیز کی لعنت کا خاتمہ ہوگا لیکن اس کے لئے ایک ایسا معاشرہ پیدا کرنا ہوگا جہاں لوگ جہیز کو عملی طور پر لعنت قرار دیں۔ معاشرے میں عسرت اور ناداری کے باوجود برادری میں ناک کٹنے کے جھوٹے اور برائے خوف کے باعث لوگ جس طرح قرضوں میں خود کو جکڑ کر بیٹیاں بیاہ دیتے ہیں وہ ایک المیہ ہے۔ اس ضمن میں بہتر ہوگا کہ علمائے کرام ہر جمعہ کے خطبے میں اس لعنت کے خلاف بات کریں ‘ سکولوں و کالجوں اور جامعات میں اس لعنت سے متعلق نوجوانوں کی ذہن سازی کی جائے۔ لڑکے جہیز لینے سے انکار کی مہم چلائیں تو لڑکیاں جہیز نہ لے جانے کا عزم کریں۔ اس طرح سے ہی اس لعنت کاخاتمہ ممکن ہوگا۔ اس کی بجائے لڑکیوں کو میراث میں ان کا جائز اور شرعی حصہ دینے کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ محروم بھی نہ رہیں اور جہیز کا انتظام نہ ہونے سے ان کی شادی میں رکاوٹوں کا بھی خاتمہ ہو۔

متعلقہ خبریں