Daily Mashriq

’’گلے کا پھندا معاہدے‘‘

’’گلے کا پھندا معاہدے‘‘

بجلی بنانے والی کمپنیوں کے بارے میں ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’’بجلی پیداکرنے والے کارخانوں کے ساتھ معاہدے گلے کا پھندا بن گئے ہیں۔‘‘ عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے اس مقدمے کی سماعت کی۔ بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کے وکیل نے کہا کہ ’’حکومت کی پاور کنسٹرکشن کارپوریشن بجلی کی طلب کا تخمینہ لگاتی ہے اور جب یہ بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کو بتاتی ہے وہ بجلی بناتے ہیں۔‘‘ بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں کے وکیل کے جواب پرتبصرہ کرتے ہوئے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے: ’’بجلی پیداکرنے والوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے ہمارے گلے کا پھندا بن گئے ہیں‘ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے یہ معاہدے کیے ‘ خواہ بجلی پیدا کی گئی خواہ نہیں کی گئی رقم دے دی گئی۔یہ لوگ محبوب تھے۔ گردشی قرضے کروڑوں اربوں تک پہنچ گئے۔ نہ عوام کو بجلی ملی نہ صنعتوں کو ‘لیکن بجلی پیدا کرنے والے کارخانوںکو رقم ملتی رہی۔ ‘‘

بنچ کے معزز ارکان کے ریمارکس سے نہایت تکلیف دہ اور دل جلانے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔ حیرت ا س بات پر ہے کہ اس مقدمے کی بنیاد نہ کسی ہوش مند اور محب وطن پاکستانی کی درخواست بنی ‘ نہ کسی رکن پارلیمنٹ کی شکایت پر یہ مقدمہ زیرِ سماعت آیا ‘ نہ کسی باخبر صحافی کی تحقیق کی بنا پر یہ مقدمہ سپریم کورٹ کے زیرِ غور آیا ‘ نہ بار کے کسی رکن کی درخواست پر‘ نہ وزارت خزانہ یا وزارت پانی و بجلی کے کسی رکن کا اختلافی نوٹ اس مقدمے کی بنیاد بنا بلکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے از خود نوٹس لینے کی بنیاد پر زیرِ سماعت آیا ۔ پی ٹی آئی کی حکومت کرپشن کے خلاف مہم کے نتیجے میں منتخب ہوئی ۔ اس کے وزرائے خزانہ اور پانی و بجلی کی طرف سے بھی یہ معاملہ نہ اٹھایا گیا ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دوران سماعت کہا ہے کہ ہم یہ معاملہ نیب کو بھیج رہے ہیں۔ نیب کا دائرہ تفتیش کہاں تک وسیع ہو گا اس کا تعین جب ہو گا تب ہو گا تاہم پہلی بات یہ زیرِ غور ہونی چاہیے کہ آیا یہ معاہدے جن کی شرائط میں یہ شامل ہے کہ خریدار یعنی حکومت اگر بجلی نہیں بھی ملے گی تو وہ اس کی قیمت ادا کرے گی۔ آیا معاہدہ کہلانے کے مستحق ہیں؟

کیا کوئی فریق ایسا معاہدے کر سکتا ہے جو قرین انصاف نہ ہو؟ یعنی اس میں اس کا نقصان واضح نظر آتاہو؟ کیا کوئی یہ معاہدہ کر سکتا ہے کہ دوسرا فریق کسی کو گولی مار دے ۔ ایسا معاہدہ کیوں کہ اس کی شرط غیر قانونی ہے معاہدہ نہیں ہو گا۔ کیاکوئی یہ معاہدہ کر سکتا ہے کہ دوسرا فریق اسے مار مار کر ادھ موا کرے یا قتل کر دے۔ کیونکہ اس میں شرط ایک فریق کے نقصان کی ہے اس لیے ایسا معاہدہ نہیں کہلا سکتا۔جب ان معاہدوں کی قانونی حیثیت ہی نہیں ہے تو قیاس چاہتا ہے کہ ان معاہدوںکو کالعدم سمجھتے ہوئے انہیں فریب کاری کی ملی بھگت ہی کہا جا سکتا ہے۔

ان مبینہ معاہدوں کی شرائط کے مطابق بجلی بنانے والے کارخانے خواہ بجلی بنائیں خواہ نہ بنائیں ‘خواہ حکومت کو پوری بجلی فراہم کریں‘ کم بجلی فراہم کریں یا بجلی فراہم نہ کریں انہیں ان کی صلاحیت کے مطابق ادائیگی ہوتی رہے گی۔ اس میں دوسرے فریق کی نا برابر حیثیت اور اس کا نقصان واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اب رہا بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا سوال تو سابق وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں اس پر تفصیل سے روشنی ڈالی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ کارخانے بجلی بنانے کے لیے حکومت سے فرنس آئل کا کوٹہ لیتے ہیں‘ اس سے صلاحیت کے مطابق بجلی بنانے کی بجائے فرنس آئل کو مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت کر دیتے ہیں۔ انہوں نے نہایت چابکدستی سے اس حوالے سے کسی قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے عدالتوں سے احکام امتناعی لے رکھے ہیں۔ لہٰذا ان پر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ملک میں بجلی کا بحران رہا اور بجلی بنانے والی کمپنیوں کا فرنس آئل کا کوٹہ بازار میں مہنگے داموں فروخت ہوتا رہا اور ان کارخانوں کو ان کی پیداواری صلاحیت کی بنیاد پر ادائیگی ہوتی رہی ۔ اور آج ان کے گردشی قرضے ایک ارب روپے سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ یہ سوال اہم ہے کہ سابقہ اور موجودہ حکومت نے احکام امتناعی کو ختم کرنے کی کتنی درخواستیں دائر کیں اور کس قدر مستعدی سے ان کی پیروی کی‘ سابقہ حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے ایک خطیر رقم قرض لے کر انہیں ادا کر چکی ہے۔ خواجہ آصف کے اس بیان سے واضح ہو جاتا ہے کہ بجلی بنانے والے کارخانوں کی نیت ہی صلاحیت بجلی کے مطابق بجلی پیدا کرنا نہیں تھی وہ فرنس آئل کا کوٹہ بازار میں مہنگے داموں فروخت کر کے منافع کماتے رہے۔ ملک میں بجلی کا بحران جاری رہا۔ پانی و بجلی کے اہل کاروں نے ان سے صلاحیت کے مطابق بجلی فراہم کرنے کا مطالبہ نہیںکیا۔ اور انہیں بغیر بجلی کی ضروری مقدار فراہم کیے صلاحیت کی بنیاد پر ادائیگی ہوتی رہی ۔ چیف جسٹس کے ریمارکس میںکہاگیا ہے کہ یہ معاملہ نیب کو بھیجا جا رہا ہے تاہم پہلے یہ طے ہو جاناچاہیے کہ آیا زیرِ نظر معاہدے قانونی معاہدے ہیں یا غیر قانونی سمجھوتے تھے۔ غیر قانونی معاہدوں کے مطابق انہیں ادائیگی کی جا سکتی ہے یا نہیں۔ جہاں تک نیب کا تعلق ہے توقع کی جانی چاہیے کہ اس معاملے کی تحقیقات کا دائرہ کافی وسیع ہو گا۔ فریق ‘محض معاہدوںپر دستخط کرنے والوں کی بجائے معاہدوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے بھی ہوں گے۔ وہ جنہوں نے حکومت کو نقصان پہنچانے والے معاہدوں کی تجاویز پیش کیں۔ ان کی حمایت میں نوٹ لکھے‘ وہ جنہیں ان غیر قانونی معاہدوں کی بنا پرفائدہ پہنچا اور وہ جنہوں نے ان معاہدوں کی تجاویز پر صاد کیا۔ اگر انہوں نے اس بنیاد پر کوئی فائدے اٹھائے تو وہ کیا تھے؟ کوٹہ کے فرنس آئل کی فروخت اور خرید میں کون ملوث تھے۔ ان سب کے بارے میں تفتیش ضروری ہو گی۔

متعلقہ خبریں