Daily Mashriq


اپنی موٹر اپنی دھول

اپنی موٹر اپنی دھول

ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید بن سلطان النہیان اسلام آباد تشریف لائے تو ہوائی اڈہ 21توپوں کی سلامی سے گونج اٹھا ، آپ وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے بغل گیر ہوئے دونوں نے ایک دوسرے کے رخسار کا بوسہ لیا، ان کا تاریخی اور فقید المثال استقبال ہوا ، معزز مہمان کے اعزاز میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، یہ کوئی نئی یا اچھوتی بات نہیں تھی ،

وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے

کبھی ہم ان کو، کبھی گھر کو دیکھتے ہیں

پاکستان میں جب بھی کسی دوست مملکت کا سربراہ آیا اس کا استقبال ہمیشہ اس ہی روایتی جوش اور جذبے سے کیا جاتا رہا، لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ وزیر اعظم پاکستان آنے والوں کا ڈرائیو ر بن گیا ہو ،شاید ہمارے ملک کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے ۔ جب ہی ہمارے ملک کے الیکٹرانک میڈیا نے اپنے تمام تر تبصروں اور تجزیوں کی توپوں کا رخ اس ان ہونی بات کی طرف موڑ دیا۔ وزیر اعظم پاکستان نے ایسا کرکے جانے کیا غضب ڈھا دیا جس کا چرچا برقی اور ورقی ذرائع ابلاغ کے علاوہ مختلف مکاتب فکر کے ہاں بڑے چبھتے انداز سے ہونے لگا،اپوزیشن والوں کو تو گویا تنقید و تنقیص کا ایک موضوع ہاتھ لگ گیا ، بھلا کب زیب دیتا تھا انہیں ایسا کرنا ، وہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کے وزیر اعظم تھے کچھ تو خیال رکھتے اس عظیم المرتبت منصب کا ، وہ ڈرائیور بن بیٹھے ، کیا سوچتا ہوگا ابوظہبی کا شہزادہ ، کیا یہی اوقات تھی پاکستان کے وزیر اعظم کی ، ، یہ اور اس قسم کی بہت سی کڑوی کسیلی باتیں ملتی رہیں ہمیں سننے کو ، اگر وزیر اعظم پاکستان خود گاڑی چلا کراپنے مہمان کو وزیر اعظم ہاؤس نہ بھی لے جاتے تب بھی تنقید برائے تنقید اور مخالفت برائے مخالفت کرنے والے کوئی نہ کوئی بہانہ گڑھ لیتے ان کے خلا ف بولنے کا ، اگر اپوزیشن والے نہ ہوتے تو سربراہان مملکت مطلق العنان بن جاتے اور وہ سب کچھ کرتے رہتے جو ان کے من میں آتا ، لیکن عمران خان نے بھی تو وہی کچھ کیا ہے جوان کے من میں آیا۔ انہوںنے ولی عہد ابو ظہبی کی گاڑی خود ڈرائیو کرکے گویا انہیں یہ باور کروایا کہ میں آپ کی گاڑی کی ڈرائیوری کرتا رہوں گا اگر آپ نے ہماری ڈوبتی معیشت کو سہارا دے دیا تو،آخر انہوں نے اپنے پرکھوں کے اس فرمان کی تعمیل بھی تو کرنی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا

ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے

اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے

وزیراعظم ہاؤس میں ولی عہد ابوظہبی کے اعزاز میںشاندار استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی اور پھر اگلے روز کے اخبار میں ہمیں یہ خوش کن خبر پڑھنے کو ملی کہ عرب امارات کی طرف سے پاکستان کو3ارب ڈالر کی گراں قدر امداد دی جائے گی ۔ہمارے کشکول بدست وزیر اعظم نے ملکوں ملکوں گھوم کر قرضوں کے بوجھ تلے دفن ملکی معیشت کو تقویت دینے کی جو مثال قائم کی اسے دیکھ کر ہمیں سرسید احمد خان یاد آگئے جنہوں نے 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں کی بگڑتی حالت زار کو سدھارنے کے لئے تحریک علی گڑھ چلائی اور علی گڑھ میں کالج تعمیر کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کے نت نئے جتن آزمائے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کبھی میلوں ٹھیلوں میں جاکر شبلی نعمانی کی ڈگڈگی کی تال پر بھالو بن کر ناچنے لگتے اور کبھی طوائفوں کے بازار میں پہنچ کر ان کو مسلمانوں کی حالت سدھارنے کا واسطہ دیکر ان سے چندہ بٹورتے رہتے۔ کہتے ہیں کہ بازار حسن کی طوائفوں نے سرسید احمد خان کی از دل خیزد و بر دل ریزد تقریر سن کر اپنے سارے زیور اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دئیے ، پر یار لوگوں نے سرسید احمد خان کی اس حرکت کا خوب ٹھٹہ اڑایا، تنقید و تنقیص کے ڈونگرے بجاتے ہوئے انہوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ بازار حسن سے حاصل کیا گیا چندہ غلیظ ہے جس کے جواب میں سرسید نے کہا کہ اگر یہ پیسہ غلیظ ہے تو میں چندے کی اس رقم سے علی گڑھ کالج کے غسل خانے اور لیٹرینیں بنوائوں گا ، دھن کے پکے تھے سو انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ، آج عمران خان بھی ہاتھ میں کشکول لئے نگری نگری گھوم رہے ہیں ،

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

میاں خوش رہو ہم دعا کرچلے

مرز ا محمود سرحدی نے کہا تھا کہ

ہم نے اقبال کا کہا مانا اورر فاقوں سے مرتے رہے

جھکنے والوں نے رفعیتں پائیں اور ہم خودی کو بلند کرتے رہے

کسی قیمتی چیز کو اٹھانے کے لئے جھکنا پڑتا ہے، ریگ زار عرب کی زمین پٹرول اور پٹرولیم کی مصنوعات کی صورت سونا اگلتی رہتی ہے ، لیکن سچ پوچھیں تو ہمارے وطن کی مٹی بھی کسی سے کم نہیں ، ہمارے کھیت اور کھلیانوں میں بھوک کے ساتھ ساتھ ہنر مندوں کے سنہری ہاتھ بھی اگتے رہتے ہیں ، ہم ان سنہری ہاتھوں کوعرب دیس کے لاڈلوں پر بیچ دیتے ہیں اور یوں وہ جو کہتے ہیں نا کہ چلتی کا نام گاڑی ہے کے مصداق ان کی گاڑی چلتی رہتی ہے، لیکن اس گاڑی کو وہ خود نہیں چلاپاتے سو اس کے لئے ڈرائیور ہم مہیا کرتے ہیں ، گاڑی ان کی ڈرائیور ہمارے ، لیکن جب ہم نے ولی عہد ابو ظہبی کا استقبال کیا تواس گھڑی گاڑی بھی ہماری تھی اور ڈرائیور بھی اپنا ہی تھا۔ یہ الگ بات کہ اب بھی ہم دکھ بھرے انداز میں کہتے نہیں تھکتے کہ

اپنی موٹر اپنی دھول

دھول میں دوڑتے اپنے پھول

مہکا ہے گلزار

سندر سپنا دیس ہے اپنا

اپنا ہے گھر بار

متعلقہ خبریں