Daily Mashriq


یکساں نصاب تعلیم کی ضرورت

یکساں نصاب تعلیم کی ضرورت

ملک میں یکساں نصاب تعلیم نہ ہونے سے پیدا ہونے والی قباحتوں اور طبقاتی امتیازات پر دو آراء ہر گز نہیں۔ مگر جس بنیادی سوال کو اس معاملے میں ہمیشہ نظر انداز کیاگیا وہ یہ ہے کہ کیا چار پانچ یا اس سے زیادہ جتنے بھی نصاب ہائے تعلیم پڑھائے جا رہے ہیں وہ اس خطے کی ثقافت‘ تہذیب‘ تاریخ‘ سماجی ضرورتوں پر پورا اترتے ہیں‘ کیا نصاب ہائے تعلیم سے روشن فکری اور انسان دوستی کو بڑھاوا ملتا ہے؟ اسلام آباد میں اگلے روز قومی نصاب کونسل کے پہلے اجلاس میں وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور دیگر مقررین نے جن خیالات کا اظہار کیا وہ حکومتی حکمت عملی کے تحت تو درست ہوسکتے ہیں لیکن یہ سوال اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ قوم کی تعریف کیا ہوگی۔ مذہبی قومیت یا یک قومی تصور یا پھر پاکستان کی جغرافیائی حدود میں اس کے قیام سے قبل ہزار ہا برس سے آباد لوگوں کی قدیم قوم تہذیبی و تاریخی شناختیں جن سے اس ریاست کے معرض وجود میں آنے کے اولین دن سے ہی انکار کردیا گیا؟ بلا شبہ اس ملک کو ایک ایسے نصاب تعلیم کی ضرورت ہے جو سب کے لئے قابل قبول ہو اور آئندہ نسلوں کو علم و شعور کی دولت سے مالا مال کردے اور یہ نسلیں اپنے اپنے عہد میں تعمیر و ترقی اور تحقیق سمیت دیگر شعبوں میں مثالی کردار ادا کریں۔ اسلام آباد میں منعقدہ قومی نصاب کونسل کے اجلاس میں وفاقی و صوبائی وزراء ‘ اہل دانش علماء دیگر شخصیات کو ٹھنڈے دل سے اس امر پر غور کرنا ہوگا کہ ایسے نصاب تعلیم جو اپنی زمینی تاریخ و تہذیب سے متصادم ہوں ان کے اب تک عمومی اثرات کیا مرتب ہوئے اور اگر نیا یکساں نصاب تعلیم وضع کرتے وقت بھی بنیادی حقیقتوں کو نظر انداز کردیاگیا تو کیا اس سے کوئی بڑی تبدیلی آپا ئے گی؟

پاکستان میں اس وقت پانچ قسم کے نصاب ہائے تعلیم سکولوں اور کالجوں میں اور چار دینی مدارس میں پڑھائے جا رہے ہیں یہ غالباً دنیا کا واحد ملک ہے جس میں ایک دو نہیں 9نصاب ہائے تعلیم پڑھائے جاتے ہیں۔ اسلامی مدارس کے معاملے کو وقتی طور پر الگ سے اٹھا رکھیں تو بھی یہ سوال دریافت کرنا پڑے گا کہ جو پانچ نصاب سرکاری و غیر سرکاری سکولوں کالجوں میں پڑھائے جا رہے ہیں ان میں اس خطے کی تاریخ و تہذیب‘ سماجی ارتقا کے موضوعات کا کتناحصہ ہے۔ مثال کے طور پر اس خطے کے ان بلند ہمت کرداروں کا نصاب تعلیم میں کتنا ذکر ہے جنہوں نے اپنے اپنے عہد میں بدیسی حکمرانوں اور حملہ آوروں کے خلاف شاندار مزاحمت کی اور قربانیاں دیں۔ ثانیاً وہ روشن فکر کردار نصاب تعلیم میںشامل کیوں نہ کئے گئے جنہوں نے سماجی مساوات کو مقصد زندگی قرار دیتے ہوئے آخری سانسوں تک مساوات و انصاف کے قیام ذات پات اور طبقات کی بالا دستی کے خلاف جدوجہد کی۔ اسلامی مدارس میں پڑھائے جانے والے چار نصاب ہائے تعلیم چار مسلم مکاتب فکر کی اپنی اپنی مسلکی فہم پر مبنی ہیں اب کیا حکومت چاروں مکاتب فکر کے علماء کو آمادہ کرلے گی کہ وہ اسلامی مدارس میں یکساں نصاب تعلیم کو رائج کریں اور یہ کیسے ممکن ہوگا کہ کوئی اپنے مسلکی حق سے دستبردار ہوجائے؟۔

تحریک انصاف کی حکومت نے قومی نصاب کونسل کی تشکیل میں وہی روایتی طریقہ کار اختیار کیا جو اس قسم کی کونسلوں اور اداروں کے قیام کے لئے ماضی کی حکومتیں روا رکھتی رہیں۔ کیا وہ لوگ جو سماج کی ارتقائی ضرورتوں اور تعمیر و ترقی‘ تحقیق کو ریاست کی ضرورت کے تناظر میں دیکھتے ہوں یا اپنے عقیدے کو حتمی حق قرار دیتے ہوں وہ انسانی بنیادوں پر سماج کی تشکیل کی بنیادی ضرورت پر اتفاق کرلیں گے۔

مکرر عرض ہے یکساں نصاب تعلیم میں دو بڑی رکاوٹیں ہیں اولاً طبقاتی تضادات جس کا اس سماج کو سامنا ہے ثانیاً اسلامی مدارس کا مسلکی فہم جو دوسرے مسلک کو قبول کرنا تو دور رہا مساوی حق دینے کو تیار نہیں۔ اولین طور پر ان دو خرابیوں کا علاج تلاش کئے بغیر اہداف کا حصول ممکن نہیں۔ ثانیاً یہ کہ کیا یکساں نصاب تعلیم مرتب کرنے والوں میں اتنا حوصلہ ہوگا کہ وہ اس امر کو تسلیم کریں کہ قدیم مقامی زبانوں اور ان میں موجود علوم کو نصاب تعلیم میں حصہ دئیے بغیر بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ ثالثاً کیا یکساں نصاب تعلیم مرتب کرنے والے مادری زبانوں کو ابتدائی درجوں میں ذریعہ تعلیم بنانے کی اہمیت کو مد نظر رکھیں گے رابعً کیا قومی نصاب کونسل کے موجودہ ارکان کے پیش نظر یہ بات ہے کہ 14اگست 1947ء تک جو کردار اس خطے کی اقوام کے نزدیک ولن تھے 15اگست 1947ء کو انہیں ان کا قومی ہیرو بنا دیاگیا اور جو ہیرو تھے ان کے کردار کو مسخ کرکے پیش کیا جانے لگا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یکساں نصاب تعلیم کی ضرورت اہمیت و افادیت سے کسی کو انکار نہیں غور طلب امر یہ ہے کہ کیا بدیسی اثرات سے پاک اپنی سماجی ضرورتوں پر مبنی نصاب تعلیم وضع کرتے ہوئے اس امر کو بطور خاص مد نظر رکھا جاسکے گا کہ آئندہ نسلیں اپنے اصل سے نہ کٹنے پائیں۔ صاف سیدھی بات یہ ہے کہ ہمارا اصل اور ہمارا چہرہ رحمن بابا‘ بلھے شاہ‘ خواجہ غلام فرید‘ مست توکلی‘ شاہ لطیف بھٹائی ہیں کوئی حملہ آور ہر گز نہیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ اگر یکساں نصاب تعلیم کی تیاری کے مراحل میں انسان سازی کی بنیادی ضرورتوں کو پیش نظر رکھا گیا اور اسلامی مدارس کو قدامت پسندی کے ماحول سے نکال کر نئی دنیا سے متعارف نہ کروایاگیا تو کیا بہتری کی امید درست ہوگی؟ ہمیں امید ہے کہ قومی نصاب کونسل کے اراکین ان معروضات پر تحمل و برد باری کے ساتھ غور فرمانے کی زحمت کریں گے۔

متعلقہ خبریں