Daily Mashriq


جیب کترے اور نوسر باز

جیب کترے اور نوسر باز

کل پشاورکے مشہور و معروف سٹیڈیم چوک میںایک جیب کترے نے ایک شخص کی جیب سے دو لاکھ روپے نکال لیے ۔ہمیں یہ خبر پڑھ کر زیادہ حیرت تو نہیں ہوئی کیونکہ یہ حادثے تو گلستاں میں عام ہوتے ہیںلیکن ذہن میں بہت سے دریچے کھل گئے ڈاکو، چور، جیب کترے اور نوسربازوں کے بارے میں پڑھا ، دیکھا اور سنا ذہن کی سکرین پر روشن ہوگیاان سب کا اپنا اپنا طریقہ واردات ہوتا ہے اگرچہ مقصد ایک ہوتا ہے یعنی دوسروں کو کسی نہ کسی طرح ان کی دولت سے محروم کرنا !ہمارے یہاں بجلی گیس اور دوسری ضروریات زندگی کی کمی کا رونا تو عوام ہر وقت روتے ہی رہتے ہیں۔ اگر کوئی چیز ہمارے معاشرے میں وافر مقدار میں موجود ہے تو وہ نوسربازی ،دھوکااور فراڈ ہے جسے دیکھیے بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے جس میں ہم یقینا خود کفیل ہیں ایک قدیم چینی کہاوت ہے کہ ہم چھوٹے چوروں کو سزادیتے ہیں اور بڑے چوروں کو سلام کرتے ہیں!ہمارے یہاں بھی تو یہی کچھ ہورہا ہے جب کوئی بڑا آدمی کرپشن جیسے گھٹیا جرم میں پکڑا جاتا ہے تو اسے قید میں ہر وہ سہولت مہیا کی جاتی ہے جو اسے اپنے گھر میں میسر ہوتی ہے۔ کیا یہ بات بھی کسی قانون کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے ؟اس سے پہلے کہ ہم بات آگے بڑھائیں پہلے ڈاکو، چور، جیب کترے اور نوسربازکے طریقہ واردات پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں تاکہ بات سمجھنے میں آسانی رہے۔ ڈاکو اور چور کے کام کرنے کا انداز آپس میں ملتا جلتا ہے۔ اسی طرح جیب کترے اور نوسرباز کے طریقہ واردات میںکافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ڈاکو اور چور کی واردات سے ہم بالکل متاثر نہیں ہوتے اس میں زبردستی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ یہ کیا کہ پستول دکھا کر شکار سے سے اس کا سیل فون اور جیب میں پڑی ہوئی نقدی زبردستی چھین لی اور اگر اس نے مزاحمت کی تو بیچارے کو وہیں ڈھیر کردیا۔ فی زمانہ تو ڈاکو اس درجہ گرچکے ہیں کہ موٹر سائیکل پر سوار ہوکر آتے ہیں اور رکشہ میں بیٹھی ہوئی اپنے سیل فون کے ساتھ کھیلتی ہوئی خاتون کے ہاتھ سے اس کا سیل فون چھین کر فرار ہوجاتے ہیں۔ جیب کترے اور نوسر باز بھی بندے کو اس کی جمع پونجی سے محروم کردیتے ہیںلیکن بڑی فن کار ی اور چابکدستی کے ساتھ! یہ اپنے ذہن کا بہترین استعمال کرتے ہوئے بڑی ذہانت اور نفاست کے ساتھ شکار کے ساتھ ہاتھ کرجاتے ہیں ان کی واردات کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہوتا ہے کہ شکار کو کوئی ذ ہنی دھچکا نہیں لگتا اچانک صدمہ نہیں پہنچتااس کی جان محفوظ رہتی ہے ا س کی بے عزتی نہیں کی جاتی اسے اپنے مال ومتاع سے محرومی کی خبر بہت دیر سے ہوتی ہے۔ آپ یقینا اس جیب کترے کی ذہانت کو ضرور داد دیں گے جو آ پ کے کوٹ کی سب سے محفوظ ترین جیب کو اتنی خوبصورتی اور فن کارانہ مہارت کے ساتھ کاٹتا ہے کہ آپ کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہوتی ۔اس گروپ کا آخری فن کار نوسر بازہے جسے عرف عام میںفراڈیابھی کہا جاتا ہے۔ اس کا کام یقینا مہا کاج ہوتا ہے۔ یہ وہ ہستی ہے جسے آپ اپنی مرضی اور خوشی سے بہ رضاو رغبت اپنی ساری جمع پونجی عنایت کردیتے ہیں۔یہ آپ کو اس طرح شیشے میں اتارتا ہے کہ آپ اس کی ہر بات پر بلا خوف و خطر یقین کر لیتے ہیں! آپ اسے ایک منجھا ہوا نفسیات دان (کوئی بھائی غلطی سے سیاست دان نہ پڑھ لے )بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ آپ کی شخصیت کی ایک کمزوری (لالچ )پر اپنا ہنر آزماتا ہے۔ یقین کیجیے ہم نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں سائل کو دس روپے دیتے ہوئے جن کی جان نکلتی ہے مگر نوسرباز کے ہاتھ پر لاکھوں روپے اپنی خوشی سے رکھ دیتے ہیں۔نوسر بازی ایک ایسا شعبہ ہے جس کی کوئی انتہا نہیں ہے اس میں ایک ان پڑھ سے لے کر بہت زیادہ پڑھے لکھے اور بڑے بڑے عہدوں پر براجمان لوگ موجود ہیں۔ یوں کہیے ان کا بنیادی کام عوام الناس کو الو بنانا ہوتا ہے۔ ان کے کام کی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ صرف نقدی ، سونا چاندی اور جائیداد پر اکتفا نہیں کرتے یہ آدمی سے اس کی پہچان بھی چھین لیتے ہیں۔ ان کا کام افرادتک محدود نہیں ہوتا طاقت کے نشے میں سرشار ترقی یافتہ اقوام آپ کی تہذیب و ثقافت ، علم، نظریاتی اساس تک بدل ڈالتی ہیں اور آپ کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ آپ اس سب کچھ کے باوجود خوشی سے پھولے نہ سمارہے ہوتے ہیں ! آج کل ہمارے ساتھ یہی کچھ تو ہورہا ہے ہماری مثال آدھا تیتر آدھا بٹیر کی سی ہے کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ مغرب سے ایک شوشہ چھوڑا جاتا ہے۔ کوئی نظریاتی میزائل داغا جاتا ہے اور ہم مطالعہ نہ ہونے کی وجہ سے یا اس کے پس منظر سے عدم واقفیت کی وجہ سے اس پر ایمان کی حد تک یقین کر بیٹھتے ہیں۔ اور فراڈیے کا پھیلایا ہوا جال اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ ہمارے لیے اس سے نکلنے کی کوئی صورت بھی نہیں ہوتی۔ غیروں کی بات تو رہی ایک طرف وطن عزیز میں بھی بہت بڑے پیمانے پر اس قسم کے کھیل کھیلے جارہے ہیں۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو اس وقت ان کا سب سے بڑا ہتھیار تو ووٹ ہی ہے۔ ووٹ کے نام پر پچھلے ستر برسوں سے عوام کو جو سبز باغ دکھائے جارہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ یہ وہ کلاس ہے جس کے سامنے ڈبل شاہ بیچارے کیا حیثیت رکھتے ہیں! ۔

متعلقہ خبریں