Daily Mashriq

اسلامی نظریاتی کونسل کی فعالیت کا معاملہ

اسلامی نظریاتی کونسل کی فعالیت کا معاملہ

اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے نیب آرڈیننس کی کچھ دفعات کو غیرشرعی اور غیراسلامی قرار دینے کا اقدام درست ہونے کے باوجود بے وقت کی راگنی اسلئے ہے کہ سالوں سے خاموش رہنے والے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کو اب اس وقت خیال آیا ہے جب نیب تگڑا نہیں رہا، اس کے پر کاٹے جا چکے یا پھر مزید کاٹے جانے ہیں۔ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل اگر اپنی تعیناتی کیساتھ ہی اس امر کی نشاندہی کرتے کہ نیب کے قانون میں سقم ہیں، نیب قوانین کو اسلامی قوانین سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جاسکتا، نیب کے احتساب کا عمومی تصور اسلامی تصور احتساب کیساتھ مطابقت نہیں رکھتا، نیب آرڈیننس کی متعدد دفعات شریعت سے متصادم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان کو ہتھکڑی لگانا، اس کی میڈیا پر تشہیر غیرشرعی ہے، اس کے علاوہ وعدہ معاف گواہ بننا اور پلی بارگین کی دفعات غیراسلامی ہیں، اسی طرح بے گناہی ثابت کرنا ملزم کی ذمہ داری نہیں ہوتی جبکہ ملزم کو بغیر مقدمے کے لمبے عرصے قید میں رکھنا بھی اسلامی اصول کیخلاف ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل میں مذہبی سکالرز آئینی وقانونی ماہرین شامل ہیں اور یہ ایک آئینی مشاورتی ادارہ بھی ضرور ہے، یہ ادارہ صرف مشاورتی اور جائیزاتی حد تک کی ذمہ داریاں رکھنے کی بناء پر غیرمؤثر ہے اس کی سفارشات سے حکومت کا اتفاق کرنا یا اس کی سفارشات کو نظرانداز کیا جانا اسے غیر مؤثر ادارہ ضرور بناتا ہے لیکن اپنی سفارشات پیش کرنے اور کسی قانون کا جائزہ لیکر اپنی رائے دینے میں بھی ادارے کی فعالیت کا یہ عالم ہے کہ اب جبکہ نیب قوانین میں ترامیم پر حکومت اور حزب اختلاف میں اتفاق ہو چکا ہے تو ایسے میں نامطلوب قوانین پر رائے دینا مشاورت کے زمرے میں کم اور سہولت کاری کے زمرے میں زیادہ آتا ہے، نیب کے جن قوانین کا جتنا غلط اور ناجائز استعمال ہونا تھا وہ ہوچکا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی نیب قوانین کا جائزہ اور ان کو شریعت سے عدم ہم آہنگ قرار دینا اہم امر ہے زیادہ بہتر ہوتا کہ جب اس کی ضرورت تھی اس وقت یہ سفارشات پیش کی جاتیں تاکہ نیب قوانین کو بہت سارے لوگوں کی تذلیل کیلئے بروئے کار نہ لایا جاتا یا کم ازکم ان قوانین کی شرعی واخلاقی جواز نہ رہتا۔ نیب کی تذلیل پر مبنی طرزتفتیش اور تحقیقات کے باعث ایک ریٹائرڈ بریگیڈئر خودکشی کر چکے ہیں، ایک پروفیسر کی ہتھکڑیاں لگے موت واقع ہوئی جبکہ معزز اساتذہ اور وائس چانسلر کی بھی توہین ہوچکی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان قوانین کے حوالے سے رائے دینے کا وہی وقت مناسب تھا جس میں ناکامی پر اسلامی نظریاتی کونسل کی کارکردگی اور کردار وعمل پر سوالات کا اُٹھنا اور اس پر تنقید بلاوجہ نہیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا صرف عہدوں ہی کے حصول اور تحفظ کیلئے دفاع نہ کیا جائے بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ اور اراکین کونسل کو ربڑ سٹمپ کی حیثیت کی بجائے ایک فعال ادارہ بنوانے کیلئے حکومت اور قانون سازاداروں سے رابطہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا بطور نمائشی ادارہ کا ہونا کافی نہیں۔ شرعی طور پر کوئی چیز درست ہے یا غلط اس کا فیصلہ ذاتی مطالعہ سے لیکر مفتیان کرام سے رہنمائی لینے کا آسان عوامی فورم موجود ہے قانون سازی کے وقت بھی بل تیاری اور جائزہ لینے سے لیکر ایوان سے اس کی منظوری کے وقت سیرحاصل بحث میڈیا سے لیکر ایوان تک ہر جگہ ہوتی ہے ایسے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے جائزہ لینے کی ذمہ داری کی زیادہ اہمیت نہیں رہ جاتی اس کی اہمیت تبھی ہوگی جب کونسل قوانین کا ازخود جائزہ لے اور قوانین کے شریعت سے متصادم ہونے کا جلد سے جلد رائے دے اور ان کی رائے کو اہمیت بھی دی جائے اور اس کے مطابق قوانین میں تبدیلی بھی ہو۔

متعلقہ خبریں