Daily Mashriq

وزیراعظم کا عزم اور حالات کے تقاضے

وزیراعظم کا عزم اور حالات کے تقاضے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اب تک ہم دوسروں کی لڑائیاں لڑنے کی غلطیاں کرتے رہے، اب کسی کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، ہماری سب سے بڑی کوشش ہوگی کہ ایران اور سعودی عرب میں دوستی کرا دیں۔ وزیراعظم عمران خان شدومد کیساتھ ایران امریکہ تنازعہ میں جنرل سلیمانی کے قتل سے قبل اور بعد میں ثالثی اور کردار کی ادائیگی کیلئے کوشاں اور کسی حد تک بضد ہیں وزیراعظم ایران اور سعودی عرب کی دوستی بھی کرانے کے خواہاں ہیں۔ خواہشوں کی حد تک دیکھا جائے تو وزیراعظم کی نیک خواہشات احسن ہیں لیکن اگر معروضی حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تکلیف دہ بات سامنے آتی ہے کہ وزیراعظم پاکستان کوالالمپور کانفرنس میں اپنی تجویز اور شدید خواہش کے باوجود شریک نہ ہوسکے یقینا یہ کسی ملک کا دباؤ ہی ہوگا جسے وزیراعظم نظرانداز نہ کرسکے۔ برادر اسلامی ملک سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات کی نوعیت جو بھی ہو حقیقت یہ ہے کہ ہم جن جن ممالک سے امداد کیلئے رابطہ کرتے ہیں وہ اگر بغیر کسی شرط کے بھی امداد دیں تو ان کی یہ اعلانیہ وغیراعلانیہ شرط مسلمہ ہے کہ پاکستان ان کی مرضی ومنشاء کا خیال رکھے گا اور پاکستان سے جو توقع رکھیں پاکستان کو اس پر پورا اُترنا پڑے گا۔ ان ممالک میں سرفہرست امریکہ کو قرار دیا جائے یا سعودی عرب کو وہ اپنی جگہ ان ممالک میں مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک بھی شامل ہیں۔ ثالث کا کردار دنیا میں وہی ملک اور شخص ادا کرتا رہا ہے جو مقتدر ہو اور ان کی طاقت مسلمہ ہو، ایک ایسا ملک جو دنیا کے ممالک سے معاشی میدان میں برابری کی سطح پرپورا نہ اُترتا ہو۔ اس کے مقابلے میں اسلامی ممالک کی تنظیم میں ایک غیرمسلم اور پاکستان مخالف ملک کو دعوت واہمیت دی جاتی ہو جس سے مسکینوں کی طرح کا رویہ رکھا جا رہا ہو، اس کی بات کون سنے گا ان کی مساعی کی کس قدر وقعت ہوگی اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سفارتی سطح پر پاکستان کو اس مقام پر لانے کیلئے بڑی جدوجہد کی ضرورت ہے جس کی وزیراعظم خواہش رکھتے ہیں۔ پاکستان کا ایران اور امریکہ کے تنازعے میں غیرجانبدار رہنے کا معاملہ بھی آسان نہیں۔ بہتر یہی نظر آتا ہے کہ پاکستان امریکہ ایران تنازعے کے حل میں کوئی کردار ادا کر پائے یا نہیں حکومت اگر غیرجانبدار رہنے اور اپنی سرزمین کسی کیخلاف استعمال نہ ہونے دینے کو یقینی بنانے پر کامیاب توجہ دے اور پاکستان کو پراکسی وار کے خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے تو یہ بڑی کامیابی ہوگی اور ملکی مفاد کے تحفظ کی ذمہ داری کی ادائیگی ہوگی۔

افغانستان تک ٹرین چلانے کا منصوبہ

وفاقی حکومت کا گوادر کے بعد پشاور کو ریلوے کا حب قرار دینا اور پشاور سے افغانستان کے صوبے جلال آباد کیلئے ٹرین سروس شروع کرنے کا اعلان اپنی جگہ خوش آئند ضرور ہے لیکن یہ بیل منڈھے چڑھ سکے گی یہ اہم سوال ہے کیونکہ سیاسی عناصر بغیر کسی تیاری، قابل عمل رپورٹ اور محکمے کے افسران سے مشاورت کئے بغیر عموماً اس طرح کے دعوے کرتے ہیں جسے پورا کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ پشاور سے افغانستان کے صوبے جلال آباد تک ریل ہوا میں نہیں چلائی جا سکتی، زمینی حقیقت یہ ہے کہ انگریزوں کے دور کی ریلوے لائن کی بحالی تعمیر ومرمت اور اسے ریل چلانے کے قابل بنانا نئے سرے سے ریلوے ٹریک بچھانے کے قریب قریب معاملہ ہے۔ اس کیلئے مالی وسائل کیساتھ ساتھ درکار مہارت اور اسے روبہ عمل لانا آسان کام نظر نہیں آتا۔ وفاقی وزیرریلوے کے اس منصوبے کی اہمیت وافادیت سے تو انکار ممکن نہیں لیکن یہ منصوبہ قابل عمل ہوگا یا نہیں اس کا دار ومدار وسائل پر ہوگا۔ حالات کا جائزہ لیا جائے تو اضاخیل ڈرائی پورٹ کے مکمل طور پر کام شروع کرنے کے بعد اور صرف ریلوے کے ذریعے ہی سامان کی حمل ونقل کا فیصلہ کیا جائے اور ریلوے کو خسارے میں دھکیل کر بڑے اداروں کی چلنے والی گڈز ٹرانسپورٹ کے متاثر ہونے کو برداشت کیا جائے تو اس کے بعد ہی اس روٹ کی کامیابی اور نفع بخش ہونے کا جائزہ لیا جا سکتا ہے بصورت دیگر یہ ایک لاحاصل دعویٰ ہی رہے گا۔

بھکاریوں کی روک تھام کیلئے قانون سازی

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بھیک مانگنے کو جرم قرار دیتے ہوئے قانونی مسودہ تیار کرلیا۔ قانونی مسودے میں والدین' گھر کے کسی بڑے یا دیگر منظم گروہ کی جانب سے کمسن بچوں کو بھیک مانگنے کیلئے استعمال کرنے پر5لاکھ روپے جرمانہ اور ایک سال قید یا دونوں سزائیں دی جاسکیںگی۔ مسودے میں بھکاریوں کی بحالی کیلئے دارالکفالہ کے قیام کی بھی تجویزدی گئی ہے۔ مسودے کے مطابق پولیس کسی بھی آوارہ شخص اور بھیک مانگنے پر مجبور کرنے والے افراد کو بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کرنے کی مجاز ہوگی۔ صوبے میں بھیک مانگنے کی روک تھام کیلئے قانونی مسودہ کی تیاری اس کے پوری طرح نفاذ کی شرط پر ہی احسن قرار دیا جا سکتا ہے۔ بہرحال قانون کی موجودگی کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ قانون سازی کے بعد ہی اس کے نفاذ کا مرحلہ درپیش ہوگا جس کیلئے حکومت کو قانون کی تیاری ومنظوری کے مرحلے پر ہی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بارے دورائے نہیں کہ صوبے میں مستحقین سے کہیں زیادہ تعداد میں پیشہ ورگداگر موجود ہیں جو منظم گروہ کے کارندوں کے طور پر ہی دھندہ کر رہے ہیں جس کی روک تھام کی ضرورت ہے۔ بھکاریوں کی بحالی کیلئے دارالکفالہ کا قیام بحالی وامداد کے خواہشمند اور بھیک سے احتراز کرنے پر آمادہ ہی افراد مستفید ہونے کیلئے تیار ہوں گے۔ پیشہ ور بھکاریوں کی بڑی تعداد کا تعلق اس صوبے سے نہیں ابتدائی طور پر پیشہ ور بھکاریوں کیخلاف کارروائی کے طور پر اقدامات ان عناصر کو ان کے صوبہ واپس بھجوا کر ہو تو باقی کیلئے حکومت کو زیادہ وسائل صرف کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس مسودہ قانون کی منظوری کے مراحل طے ہونے کے بعد اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں