Daily Mashriq

انتخابات بارے شکوک وشبہات کی بڑھتی فضا

انتخابات بارے شکوک وشبہات کی بڑھتی فضا

پاکستان مسلم لیگ ن، متحدہ قومی موومنٹ اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز نے الزام لگایا ہے کہ بعض حلقے 25 جولائی کو ہونیوالے عام انتخابات کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ معروف معاصر کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کے دوران قانون سازوں نے دعویٰ کیا کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کو فروغ دینے اور دیگر کو ریزہ ریزہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اس دوران پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے قانون سازوں کی جانب سے بھی آئندہ انتخابات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجا ظفرالحق کا کہنا تھا کہ ایسا تاثر دیا جارہا ہے کہ ملک انجینئرڈ انتخابات کی طرف جارہا ہے۔ اس موقع پر سینیٹر شیری رحمن کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو ریلیوں میں خطاب کرنے سے روکا جا رہا ہے اور یہ عمل انتخابات کو متنازعہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو لیاری اور رحیم یار خان میں ریلی سے خطاب کرنے سے روکا گیا جبکہ کچھ مذہبی جماعتوں کے نام فورتھ شیڈول سے نکال کر انہیں انتخابات کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے جو باعث تشویش ہے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کیوں ہو رہا ہے۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی (نیکٹا) کے حکام کی جانب سے جاری کئے گئے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ سرکاری حکام کی جانب سے کہا گیا کہ سیاستدانوں کو خطرہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری کمیٹی کو پہلے ہی آگاہ کر چکے ہیں کہ25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے پیش نظر اشتعال انگیزی کا خدشہ ہے اور ہدایت کی کہ ان الرٹ کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ سینیٹر رحمان ملک نے یہ تجویز دی کہ صوبائی محکمہ داخلہ اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے سیکورٹی کو یقینی بنانے کیلئے فوکل پرسن کو نامزد کردیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے لیاری کے دورے کے موقع پر پیش آنے والی ناخوشگوار صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس موقع پر سنجیدہ نوعیت کی سیکورٹی لیپس تھے جنہیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابات کے حوالے سے شکوک وشبہات کے اظہار کو ان جماعتوں کے اپنے داخلی دبائو اور ان میں سے بعض کے خلاف اٹھائے گئے قانونی اقدامات اور تحقیقات کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش قرار دینے کی گنجائش اپنی جگہ ضرور موجود ہے لیکن بعض ایسے معاملات بہر حال سامنے ہیں جن کے ہوتے ہوئے سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایک مناسب فورم پر اور تقربیاً ایک جیسے مئوقف اختیار کرنے کے معاملے سے صرف نظر بھی ممکن نہیں خاص طور پر پیپلز پارٹی کے جوانسال چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو یکے بعد دیگرے روکنے کی واضح کوششیں کوئی پوشیدہ امر نہیں، قانون کا جو شکنجہ اور تحقیقات کی ضروریات پوری کرنے میں کسی کو تامل نہیں ہونا چاہئے لیکن اس کے پس پردہ مقاصد اور اس عمل کو دباؤ میں لاکر رخ موڑنے اور مل بیٹھنے پر مجبور کرنا نہیں ہونا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ طاقتور کا احتساب وطن عزیز کے عوام کا خواب ہے لیکن ان کے خواب کی یہ تعبیر شفافیت اور حقیقی احتساب ہے ایسا احتساب جس میں نہ تو آمیزش ہو نہ ہی اس کے پس پردہ کوئی مقاصد کارفرما ہوں اور نہ ہی ایسا احتساب جو کسی بھی وقت لپیٹ کر الماری میں بند کر دیا جائے اور پھر حسب ضرورت احتساب کا ڈرامہ رچایا جائے۔ سیاسی جماعتوں کی جانب سے 25جولائی کے عام انتخابات کو ہائی جیک کرنے کا الزام سنیگن ہے جس کا الیکشن کمیشن کو فوری نوٹس لیکر الزام لگانے والے رہنمائوں اور سینیٹروں سے وضاحت طلب کی جائے اور ان سے شواہد اور ثبوت پیش کرنے کا کہا جائے اگر وہ ایسا کر سکیں تو پھر الیکشن کمیشن کا امتحان ہوگا کہ وہ ان عناصر کا راستہ کیسے روکتا ہے جن کی طرف انگشت نمائی ہو رہی ہے اور اگر سینیٹرز الیکشن کمیشن کے حکام کو مطمئن نہ کر سکیں تو اس سے بھی عوام کو آگاہ کیا جائے تاکہ غلط فہمی کا ازالہ ہو اس امر کا جائزہ لیا جانا چاہئے کہ کچھ جماعتوں اور افراد کو مواقع کی فراہمی اور کچھ کا مقاطعہ کرنے کیلئے واقعی برسر زمین کچھ ہو رہا ہے یا پھر یہ محض انتخابی واویلا ہے جس کا مقصد اپنی قیادت اور جماعت کے حوالے سے معاملات سے توجہ ہٹانا ہے۔ جن جماعتوں کے رہنمائوں کے ناموں کو فورتھ شیڈول سے نکال کر ان کو انتخابات لڑنے کی اجازت دی گئی ہے یہ سنجیدہ معاملہ ہے جس سے نہ صرف اندرونی طور پر اعتراضات کا موقع مل رہا ہے بلکہ اس کے بین الاقوامی اعتراضات اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے منفی اثرات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن کی ذمہ داریوں اور ریٹرننگ افسران اور ایپلٹ کورٹس سے ان کو اجازت ملنے کا معاملہ بھی قابل توجہ ہے۔ سیاستدانوں کو سیکورٹی خدشات کے حوالے سے باربار یاد دہانی سے انتخابی عمل کے پرخطر ہونے کا معاملہ بھی سنگین اور سنجیدہ ہے۔ اگر سیاسی رہنمائوں کو سنجیدہ خطرات ہیں تو یہ نگران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف ان کو محافظین فراہم کرے بکہ جدید ذرائع کا استعمال کرکے ان کی مکمل حفاظت کا بندوبست یقینی بنانے کی ذمہ داری پوری کرے۔ اس وقت تک انتخابی عمل تسلی بخش طور پر جاری ہے اور خطرات کے باوجود سیاستدان جرأت کیساتھ انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اگر خدانخواستہ کوئی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کا اثر سارے انتخابی عمل پر بھی پڑے گا اور اس وقت جن شکوک وشبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کو اس وقت حقیقت کے قریب سمجھے جانے سے سارا انتخابی ماحول متاثر ہوگا جس کی نوبت کسی طور آنے نہیں دینا چاہئے۔ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سارے عمل کا جائزہ لے اور شکوک وشبہات کا ماحول دور کر کے محفوظ اور غیرجانبدار انتخابی ماحول کو یقینی بنائیں تاکہ عام انتخابات کا احسن طریقے سے انعقاد ہو اور قوم اپنی مرضی کے افراد کا آزادانہ چنائو کر کے حکومت میں آنے کا موقع دے سکیں۔

اداریہ