Daily Mashriq


کے پی میں نیب کی سست روی

کے پی میں نیب کی سست روی

پاکستان پیپلز پارٹی کا قومی احتساب بیورو نیب سے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے 5سالہ دور حکومت میں شروع کئے جانے والے میگا پراجیکٹس میں بدعنوانی کی تحقیقات میں تیزی لائے گا مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے تھی۔ نیب جس سست روی کا مظاہرہ کر رہی ہے اس پر خاموش بھی نہیں رہا جا سکتا۔ پی پی پی کے رہنما اور سابق صوبائی صدر سید ظاہر علی شاہ کے اسی الزام کی غیر جانبدارانہ چھان بین ہونی چاہئے کہ ایک ارب درخت لگانے کے منصوبے اور بس ریپیڈ ٹرانزٹ جیسے بڑے منصوبوں میں اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ ان کا الزام اس بناء پر سنجیدہ اور تقویت کا حامل ہے کہ نیب نے ان الزامات کی تحقیقات خود سے شروع کر رکھی ہے۔ سید ظاہر علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے صوبے کی عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کچھ نہیں کیا جبکہ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آرٹی) منصوبے سے پشاورشہر کی سڑکیں برباد کر دی گئیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کیخلاف نیب اور ایف آئی اے سرگرمی سے سرگرم عمل ہے اس کا دائرہ نا سندیدہ جماعتوں کا مکوٹھپنے تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ منظور نظر جماعت اور افراد کیخلاف بھی نیب اور ایف آئی اے اسی طرح تندہی سے کام کریں۔ سابق صوبائی وزیر نے جن امور کی نشاندہی کی ہے وہ نوشتہ دیوار ہیں جن کے حوالے سے ہر خاص وعام اور ملکی میڈیا کا عام تاثر اور رپورٹیں شائع اور براڈ کاسٹ ہوئی تھیں جس کے بعد ان معاملات کی تحقیقات میں سست روی کا سوائے اس کے کوئی اور وجہ نہیں کہ انصاف کی ایک آنکھ بند تصور کی جائے۔ نیب اس ضمن میں اب تک ضروری سرکاری ریکارڈ قبضے میں لینے اور پوچھ گچھ شروع کرنے ہی میں تذبذب کا شکار ہے جب پہلی اینٹ ہی نہیں رکھی جائے تو احتساب کے عمل کا یقین ہی کیسے کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعت کے سینئر رہنمائوں کو پریس کانفرنس کر کے مطالبہ کرنا پڑا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تحقیقات کا دائرہ صرف گزشتہ حکومت ہی تک محدود نہ رکھے بلکہ گزشتہ ادوار حکومت کے بھی مشکوک منصوبوں کا جائزہ لیکر ضرورت پڑنے پر کارروائی شروع کرے اور کڑے احتساب کا وعدہ پورا کیا جائے۔

ہر بار خراب نتائج کا نوٹس مگر بے نتیجہ

محکمہ تعلیم کی جانب سے ثانوی واعلیٰ تعلیمی بورڈوں کے زیر انتظام میٹرک کے امتحانات میں سرکاری تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور متعلقہ مضامین کے اساتذہ کی تفصیل کیساتھ نتائج برائے جائزہ طلبی اپنی جگہ سنجیدہ اقدام ضرور ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہر سال میٹرک کے نتائج کے بعد سرکاری تعلیمی اداروں کے مایوس کن نتائج پر سخت تنقید اور عدم اعتماد کے اظہار کے بعد اس قسم کی رپورٹیں طلب کی جاتی ہیں لیکن سزا وجزا کی نوبت آئے بغیر معاملہ کو سرد خانے کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ امسال بھی اگر باون ہزار طالب علموں کے فیل ہونے کے معاملے کو اسی طرح دبا دیا جاتا ہے تو یہ بڑی بدقسمتی ہوگی۔ میٹرک کے امتحانات میں صرف فیل اور پاس کوئی معنی نہیں رکھتا بلکہ جو طالب علم خواہ وہ سرکاری تعلیمی اداروں کے ہوں یا نجی سکولوں کے طالب علم ہوں نہایت اعلیٰ نمبر حاصل نہ کر پائیں تو ان کو آگے داخلہ لینے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ نتائج کی صورت میں سامنے آنے والی صورتحال میں نجی تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی اتنی اچھی نہیں، بنابریں بہتر یہ ہوگا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کیساتھ ساتھ صوبے کے درجہ اول کے نجی سکولوں میں بھی پڑھائی کا معیار اور نتائج کا جائزہ لیا جائے۔ نجی سکولوں میں میٹرک کے اساتذہ کی تعلیم وتجربہ کی چھان بین کی جائے تاکہ طلبہ کی محنت اور والدین کا پیسہ ضائع ہونے سے بچا یا جا سکے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے خراب نتائج کی تحقیقات کرتے ہوئے وجوہات کا تعین کیا جائے اور ناکامی وخراب کارکردگی کے اسباب وعلل کا تعین کرتے ہوئے خامیاں دور کرنے کو یقینی بنایا جائے تاکہ سرکاری تعلیمی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کیا جاسکے۔

متعلقہ خبریں