Daily Mashriq

سیاسی جماعتیں اور منشور

سیاسی جماعتیں اور منشور

عام انتخابات کی تاریخ میں دو ہفتے باقی رہ گئے ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کی انتخابی مہم میں تیزی آ گئی ہے ۔ عام انتخابات جولائی 2018ء ہی میں ہو سکتے تھے ۔ یہ بات سبھی سیاسی پارٹیوں ان کے لیڈروں اور کارکنوں کو معلوم تھی لیکن پارٹیوں کے انتخابی منشور اس وقت آئے ہیں جب عام انتخابات میں تقریباً ایک ماہ باقی رہ گیا اور دوبڑی پارٹیوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے منشور تو اب آئے ہیں جب عام انتخابات کی تاریخ محض دو ہفتے دو ر رہ گئی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے منشور جاری کرنے میں تساہل کی حکمت عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے منشور پر کوئی فہمیدہ بحث میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ منشور جاری کر کے محض رسمی کارروائی کی گئی ہے۔ اگر یہ منشور پہلے جاری کر دیے جاتے تو ان پر کچھ مباحثے ‘ مذاکرے اور سیمینار ہو سکتے تھے اور ان کے نتیجے میں عام لوگوں کی کچھ تعداد کے علم میں ان کے چیدہ چیدہ نکات ذرا تفصیل سے آ سکتے تھے۔ اور اس معلومات کی بنیاد پر پارٹیاں عوام سے ووٹ کی توقع وابستہ کرتیں۔ کچھ مذاکرے اور مباحثے ہوتے تو سب سے پہلے یہ بات سامنے آتی کہ مختلف پارٹیوں نے قوم اور ملک کو درپیش کن چیلنجوں کو اہمیت دی ہے اور ان سے عہدہ برآء ہونے کے لیے انہوں نے کیا حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ عین وقت پر ہی سہی منشور اگر جاری کر دیے گئے ہیں تو بھی غنیمت ہے۔ اس سے کم ازکم یہ تو ہو گا کہ ان منشوروں کی کچھ نقول بعض لوگوں کے پاس محفوظ رہ جائے گی اور وہ سیاسی پارٹیوں کے اقتدار میں آنے کے بعد یا اقتدار سے محروم رہ جانے کے بعد ان دستاویز کی روشنی میں یہ سوال کر سکیں گے کہ انہوں نے اپنے منشور کو آگے بڑھانے کیلئے کتنی کوشش کی۔
پانی کا بحران ملک کا اہم ترین مسئلہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 2025ء میں پاکستان قحط سالی کا شکار ہو سکتا ہے اور آج صورت حال یہ ہے کہ زراعت کیلئے پانی کم ہے اور ملک میں صرف بیس فیصد پانی ایسا دستیاب ہے جو پینے کے لائق ہے۔ لہٰذا صحت کیلئے خطرہ اپنی جگہ اہم ہے۔ تینوں کے منشور میں اس طرف توجہ دی گئی ہے لیکن اس بحران سے نمٹنے کیلئے تفصیلی حکمت عملی نہیں دی گئی ۔ خاص طور پر پینے کے پانی کی آلودگی کے بارے میں امید افزاء حکمت عملی موجود نہیں۔ ملک میں نوجوان ووٹروں کی تعداد کے زیادہ ہونے پر سب کی توجہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے منشور میں کہا گیا ہے کہ ہر سال چالیس لاکھ نوجوانوں کیلئے ملازمتیں یا کاروبار درکار ہیں۔ مسلم لیگ ن نے کہا ہے کہ ہر سال ملازمتوں کے بیس لاکھ مواقع پیدا کیے جائیں گے اور تحریک انصاف نے وعدہ کیا ہے کہ ملازمتوں کے ایک کروڑ مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ پہلے عمران خان کہتے تھے کہ حکومت میں آنے کے سو دن کے اندر وہ یہ وعدہ پورا کریں گے تاہم اس وعدے کو پانچ سال پر محیط سمجھ لیا جائے تو بھی مسلم لیگ ن کے منشور کے نزدیک ہی بات پہنچ جاتی ہے جس نے ہر سال ملازمتوں کے بیس لاکھ مواقع پیدا کرنے کی بات کی ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ ایک نئی کارگاہ یا کاروباری ادارے میں بیس افراد کی ملازمت کی گنجائش ہو گی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر سال ایک لاکھ نئے کاروباری یا صنعتی ادارے کھلیں گے۔ ظاہر ہے یہ کام پرائیویٹ سیکٹر میں ہوگاتو کیا ملک میں اتنا سرمایہ ہے اور نیا کاروبار اس قدر آسان ہے اور اس کی لاگت اتنی قابلِ برداشت ہے کہ ہر سال ایک لاکھ نئے ادارے وجود میں آسکیں۔ اس کیلئے سرمایہ کاری کہاں سے آ ئے گی اور کن شعبوں میں ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ تینوں پارٹیوں کو اس بارے میں وضاحت کرنی ہو گی سرمایہ کار کو راغب کرنے کیلئے امن وامان ‘ قانون کی حکمرانی ‘ کرپشن سے آزاد معاشرہ اور مہارتوں اور تعلیم سے مسلح ملازمتوں کے طلب گاروں کی ضرورت ہو گی۔ کیا ہمارا نظام تعلیم ایسے نوجوان پیداکرتا ہے جو نئے کاروبار یا صنعتوں میں قبول کر لیے جائیں۔ پیپلزپارٹی نے فلاحی منصوبوں کا وعدہ کیا ہے ‘کسان کارڈ جاری کیے جائیں گے ‘ جن سے اشیاء کی قیمتوں میں اعانت ملے گی۔ صحت کارڈ جاری کیے جائیں گے جن سے علاج معالجے کی سہولت ملے گی۔ اس سے ملتا جلتا پروگرام تحریک انصاف نے بھی کیا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہیلتھ کارڈ اور کسان کارڈ سب کو دیے جا سکتے ہیں۔ کیا حکومت اس بات کی ذمہ دار نہیں ہے کہ صحت کی سہولتیں سب کو بہم پہنچائے۔ یہ لوگوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی بجائے سرکاری امداد کا طلب گار بنایا جانا مقصود ہے۔ اس کے باوجود پیپلزپارٹی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اگر حکومت ایسی فلاحی سکیمیں جاری کرے گی تو ان کے اخراجات کیلئے وسائل کہاں سے آئیں گے۔ سبھی سیاسی رہنما کہتے ہیں کہ ملک کے قرضے کم کیے جائیں گے ۔ یہ بہت خوش آئند بات ہے لیکن قرضوں کی ادائیگی کیلئے زرِمبادلہ کی ضرورت ہے جس کابڑا ذریعہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں لیکن اب حالات ایسے نہیں ہیں کہ زیادہ محنت کش بیرون ملک برآمد کیے جا سکیں ۔ اس کیلئے ضروری ہو گا کہ صنعتی پیداوار کی برآمد پر زور دیا جائے۔ صنعتوں کی پیداوار کیلئے ان کی لاگت میں کمی آنی چاہیے جبکہ انہیں تھرمل بجلی مل رہی ہے جس کی قیمت پن بجلی سے زیادہ ہے ۔ اگر کارخانوں کی لاگت زیادہ ہوگی تو ان کی مصنوعات بین الاقوامی منڈی میں گاہک کیسے تلاش کر سکیں گے۔ جب کاروباری لاگت زیادہ ہو گی تو ملک میں بھی مہنگائی کس طرح کم کی جائے گی؟ ہمارے ملک میں سیاسی جلسوں میں کم‘ مباحثوں اور سیمیناروں میں بہت ہی کم لیکن ٹی وی کے ٹاک شوز میں بالعموم سیاست اور ملک مسائل زیرِ بحث آتے ہیں۔ میڈیا سیاسی لیڈروں کے بیانات پر متوجہ ہے۔ لیکن قومی چیلنجوں اور سیاسی جماعتوں کی ان سے عہدہ برآء ہونے کی صلاحیت‘ اہلیت اور توجہ کی طرف کم متوجہ ہے۔ ٹی وی والے مائیک سامنے کر کے عام لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ آپ کس کو ووٹ دیں گے ۔ یہ نہیں پوچھتے کہ کس پارٹی کے پروگرام کوووٹ دیں گے۔

اداریہ