Daily Mashriq

نگرانو! تیری نگرانی کا سوال ہے

نگرانو! تیری نگرانی کا سوال ہے

قارئین کی جانب سے ملنے والے برقی پیغامات خواہ وہ تنقید اور سخت تنقید پر مبنی ہوں یا تعریفی ہوں میرے لئے یکساں اہمیت کا حامل ہیں۔ کسی کالم نگار کیلئے اس سے اطمینان کا لمحہ کوئی اور ہو نہیں سکتا کہ اس کے قارئین کی تعداد خاصی ہے اور اس کا کالم مختلف حلقوں میں پڑھا جاتا ہے۔ مجھے ہر کالم کی اشاعت کے بعد درجنوں افراد کے پیغامات اور شکایات موصول ہوتے ہیں۔ مجھے ان میں سے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ کونسی شکایت برموقع اور وزن کی حامل ہے، میں ان شکایات ہی کو فوقیت دیتی ہوں جس میں دلیل اور وزن ہو بلکہ مجھ کو وہی شکایات ہی بھیجی جاتی ہیں جو قابل غور ہوں اور اس میں کوئی نکتہ موجود ہو باقی برقی پیغامات سے مجھے زیادہ تر آگاہی کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ البتہ ان شکایات اور معاملات کے حوالے سے آگاہ ضرور ہوتی ہوں۔ برقی پیغامات دینے والوں سے میری یہی گزارش ہے کہ وہ اپنا نکتہ دلیل اور ثبوت کیساتھ بھیجیں، تنقید کریں تو وجہ بھی بیان کریں، البتہ جو عوامی مسائل پر مبنی شکایات ہوں ان کا صرف تذکرہ ہی اس لئے کافی ہے کہ ان معاملات سے آگاہی پہلے ہی سے ہوتی ہے۔ ان کے پس منظر سے بھی واقفیت ہوتی ہے بیشتر ایسے ہوتے ہیں جن میں صرف جگہ کا نام ہی لکھنا کافی ہوتا ہے جیسے کسی علاقے کی بنیادی صحت مرکز، زنانہ سکول، سڑکوں، گیس وبجلی کی لوڈشیڈنگ وغیرہ وغیرہ جیسے معاملات ہوں۔ صوبائی درالحکومت پشاور کے ایک شہری ارمغان عزیز نے بڑے دلچسپ انداز میں ایک ایسے مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے جو واقعی فوری توجہ کا حامل مسئلہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں سے گورنر ہاؤس کی عمارت بھی نظر آتی ہے اور عدالت عالیہ پشاور کی عمارت بھی، چیف منسٹر ہاؤس بھی زیادہ دور نہیں اور چیف سیکرٹری بھی اسی کے قریب ہی دفتر آتے جاتے ہیں۔ سی اینڈ ڈبلیو اور محکمہ بلدیات کے سکریٹری صاحبان، چیف انجینئرز بھی اسی کے اردگرد کے علاقوں میں اپنے شاندار دفاتر میں بیٹھتے ہیں، کمیشن بھی کھرے کرتے ہونگے۔ سول سیکرٹریٹ کے عملے سمیت اس پل سے دن بھر میں ہزاروں افراد گزرتے ہیں مگر انگریزوں کے دور میں قائم شدہ لوہے کے اس پل کیساتھ پیدل چلنے والوں کیلئے جو پل بنایا گیا ہے اس کی شکستگی کی کسی کو پرواہ نہیں۔ اس پل کے عین وسط میں شگاف کو سیمنٹ کی سل رکھ کر ڈھک دیا گیا ہے اور پل کا عالم یہ ہے کہ اب گرا کہ تب گرا۔ پل پر دو تین آدمی اکھٹے چلیں تو رسہ پل کی طرح جھولتا محسوس ہوتا ہے اور بندے کا دل دھک دھک کرتا رہ جاتا ہے۔ یہ پل ابھی شکستہ نہیں ہوا بلکہ یہ پل کئی سالوں سے شکستگی کا شکار ہے مگر اب یہ پل گرنے کو ہے، کوئی حادثہ ہونے کو ہے مگر کسی کو اس کا احساس نہیں۔ جوڈیشل اکیڈیمی پشاور کے عین سامنے اس پل کی شکستگی کی جو تصویر ہمارے قاری نے کھینچی ہے اس میں اضافے کی گنجائش ہے اور نہ ضرورت، جن جن کی طرف انہوں نے اشارہ کیا ہے اگر ان میں سے کسی کو توفیق ہو تو اس پر توجہ دے۔ بڈھنی کے علاقے میں کچے مکانات کیساتھ ایک شخص کے پٹرول کی فروخت کو علاقے کے مکینوں نے اپنے لئے پٹرول بم قرار دے کر خدانخواستہ ممکنہ آتشزدگی کی صورت میں خطرات کی نشاندہی کی ہے۔ بڈھنی کے گاؤں کے مکینوں کی شکایت اور فریاد بالکل بجا اور فوری طور پر قابل توجہ مسئلہ ہے، صرف یہی نہیں کہ پٹرول کی اس طرح کھلے عام فروخت ہوتی ہے بلکہ اکثر علاقوں میں گیس سیلنڈر بھرنے کا کام بھی غیر محفوظ طریقے اور غیر قانونی طور پر ہوتا ہے۔ پٹرول کی اس قسم کی فروخت پشاور کے ہر علاقے میںہوتا ہے، صرف نواحی علاقہ بڈھنی ہی میں ایسا نہیں ہوتا۔ نواب مارکیٹ حیات آباد میں بھی بوتلوں اور کنستروں میں پٹرول بکتا ہے اور یہاں پر بھی سیلنڈر سڑک پر بھرے جاتے ہیں۔ تندوروں پر سلینڈر کا غیرمحفوظ طریقے سے استعمال بھی کسی سے پوشیدہ امر نہیں۔ حاکمان شہر کو اس خطرناک طریقے سے کاروبار کرنے اور شہریوں کی جانوں اور املاک سے کھیلنے والوں کا فوری نوٹس لینا چاہئے اور قانون کو اپاہج ثابت کرنے کی بجائے طاقتور ثابت کیا جائے۔بنوں سے طالب علم ارشاد خان نے ٹیوشن کی استطاعت نہ رکھنے والے طالب علموں کی مشکلات سے آگاہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ والدین بمشکل ہی بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھاتے ہیں، اساتذہ کرام خواہ وہ نجی تعلیمی اداروں کے ہوں یا سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ کو کورس اس درجہ تفصیل سے پڑھانے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ ان کو ٹیوشن کی ضرورت نہ پڑے۔ حکومت نے بھی بجائے معیار تعلیم میں بہتری کے اُلٹا طالب علموں کو نمبروں کی گیم اور انٹری ٹیسٹ جیسے مشکل میں اُلجھا دیا ہے۔ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے کہ کسی کے کتنے نمبر آئے اور انٹری ٹیسٹ میں کتنا سکور کیا۔ جس قدر اس کھیل نے تیزی پکڑی ہے تعلیم کا معیار اس قدر کمرشل اور بے وقعت ہوتا جا رہا ہے۔ ہزار سے اوپر بلکہ تقریباً پورے کے پورے نمبر حاصل کرنے والے تو ہر سال نکلتے ہیں مگر قابل ڈاکٹروں کی کسی کھیپ کا نہیں آنا، علاج معالجے کی جدید سہولیات کے باوجود تشخیص وعلاج اور صحت یابی کا تناسب گر رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال پر توجہ دینے کا اس لئے کسی کے پاس وقت نہیں کہ ایک گھڑ دوڑ جاری ہے اور گھوڑے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کیلئے سرپٹ دوڑ رہے ہیں۔ اس کالم کے ذریعے لوگوں کے مسائل سامنے لانے کی ادنیٰ کوشش کرتی ہوں۔ صرف دکھی عوام کی آواز بننا تو کافی نہیں مگر کیا کیا جائے مسیحائی بھی تو اپنے بس سے باہر ہے۔
نمبر 03379750639 پر صرف مسیج کر یں۔

اداریہ