Daily Mashriq

ڈیمز، چندہ، چیف جسٹس کا شکوہ

ڈیمز، چندہ، چیف جسٹس کا شکوہ

چیف جسٹس ثاقب نثار کی یہ بات یقیناً قابل غور بھی ہے اور افسوسناک بھی کہ بقول ان کے ڈیمز فنڈ کے حوالے سے حکومت غلط فہمیاں پھیلا رہی ہے، اکاؤنٹ عدالت نے کھلوایا اور حکومت تاثر دے رہی ہے کہ فنڈ اس نے بنایا، لوگ حکومت کو ایک پیسہ دینے کو تیار نہں ہے جبکہ پیسہ دینے والوں کو ادھر اُدھر گھمایا جا رہا ہے اور کئی لوگ رجسٹرار کو چیک دے کر چلے گئے، چیف جسٹس نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ڈیمز کی تعمیر پر پہرہ دیں گے اور کمیشن کسی کو کھانے دیں گے نہ بڑی اور پرتعیش گاڑیاں استعمال کرنے دیں گے، چیف جسٹس کی اس بات کا ثبوت اخبارات میں چھپنے والے ان اشتہارات سے بھی ملتا ہے کہ تقریباً ہر اخبار میں اس حوالے سے جو اکاؤنٹ نمبر دیا گیا ہے وہ متعلقہ بینک کا اپنا ہی لگتا ہے، حالانکہ اصولی طور پر اس ضمن میں ایک ہی اکاؤنٹ کا اجراء کر کے ہر بنک کو اسی اکاؤنٹ میں عطیات جمع کرنے چاہئیں تاکہ جیسے ہی اس اکاؤنٹ میں رقم جمع ہوتی رہے وہ براہ راست سپریم کورٹ کے ویب سائیٹ پر لمحہ بہ لمحہ ظاہر ہوتی رہے۔ گزشتہ روز چھپنے والے اپنے کالم میں، میں نے تاریخی حوالوں سے فنڈز کے قیام اور ملکی مسائل سے نمٹنے کی تفصیل (مختصراً) بتاتے ہوئے درخواست کی تھی کہ ڈیمز کی تعمیر کیلئے فنڈز کے اجراء کے بعد سرکاری ملازمین اپنی تنخواہوں سے مناسب کٹوتی کر کے اس کارخیر کا آغاز کریں، اگرچہ ابتدا خود چیف جسٹس نے اپنی طرف سے دس لاکھ روپے ادا کرکے کر دی تھی تاہم اس سلسلے میں یہ خبر بھی اہم اور قابل تقلید ہے کہ افواج پاکستان کی جانب سے افسران کی تنخواہوں میں سے دو دن جبکہ سپاہیوں کی تنخواہوں میں سے ایک روز کی تنخواہ فنڈ میں دینے کا اعلان ہے، یوں سرکاری ملازمین کی طرف سے افواج پاکستان اولیت کے درجے پر فائز ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک اور طبقہ بھی ہے جو ان دنوں سیاسی طور پر بہت ہی فعال ہے اور وہ ہیں سیاسی رہنماء۔ خصوصاً وہ سیاسی لوگ جو انتخابات میںشامل ہو کر اپنے انتخابات پر توکروڑوں خرچ کرنے کو تیار ہیں (یاد کریں وہ شخص جو ٹکٹ نہ ملنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ جیب میں چار کروڑ لیکر گھوم رہا ہوں، توکیا میں پاگل ہوں؟ دھرنے کے دوران صبح کے ناشتے سے رات کے کھانے تک مرغ پلاؤ اور حلوہ پوریاں ہم کھلاتے رہے اور اب ٹکٹ کسی اور کو دے دیا گیا) تو گزارش ہے کہ انتخابی معرکے پر چار کروڑ خرچ کئے جا سکتے ہیں خواہ نتیجہ ہار یا جیت کچھ بھی ہو، تو ملک وقوم کیلئے کروڑ نہیں تو کم ازکم پچاس لاکھ ہی دیدیں تاکہ آنیوالے مسائل سے نمٹا جا سکے۔ گزشتہ روز تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس حوالے سے جو بیان دیا ہے وہ بھی قابل غور ہے، اپنی پارٹی کے منشور پیش کرنے کے موقع پر انہوں نے کہا کہ میں چندہ لینے والا ہوں، دینے والا نہیں۔ اس پر ہمیں وہ فقیر یاد آگیا جو ایک ندی کے کنارے بیٹھ کر خیرات بٹورا کرتا تھا، ایک دن شدید بارش ہوئی اور ندی کنارے پھسلن پیدا ہوگئی۔ وہ فقیر اس پھسلن کی وجہ سے ندی میں گر گیا۔ بہت کوشش کی مگر باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا، کچھ لوگ اس کی مدد کیلئے آگئے اور ہر ایک اسے کہتا، بابا، اپنا ہاتھ دو، مگر وہ ہچکچاتا رہا، اتنے میں کوئی سمجھ دار شخص وہاں سے گزرا ، تو اس نے سب کو پیچھے ہٹنے کا کہہ کر فقیر سے کہا، بابا، ہاتھ لو۔۔۔ اب کی بار فقیر نے اس کا ہاتھ تھاما اور یوں اس کی جان بچ گئی، سب نے حیرت کا اظہار کیا کہ عجیب شخص ہے ہمارے کہنے پر ہمارا ہاتھ تھامنے سے فیقر نے انکار کیا مگر تمہارے کہنے پر وہ باہر آنے پر تیارہوگیا، یہ کیا ماجرا ہے؟۔ اس شخص نے کہا، دراصل یہ دینے والوں میں سے نہیں بلکہ لینے والوں میں سے ہے۔ عمران خان نے خود بھی گزشتہ روز یہی بات کی کہ میں نے ہمیشہ چندہ لیا ہے دیا نہیں، کبھی شوکت خانم اور کبھی نمل کیلئے۔ اب ایسی صورت میں موصوف سے ڈیمز کیلئے چندہ دینے کا مطالبہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ یہ تو خیر چند جملہ ہائے معترضہ تھے۔ اب ذرا مسئلے کی سنجیدہ پہلو پر مختصراً بات ہو جائے، عوام جانتی ہے کہ بھارت نے پاکستان کے حصے کے دریاؤں کا رخ بدل کر ان پر ڈیمز تعمیر کرنے شروع کئے ہیں تاکہ پاکستان کو پانی کے بحران میں مبتلا کر دیا جائے جبکہ دوسری جانب وہ افغانستان میں بھی دریائے کابل اور بلوچستان کی سمت آنیوالے آبی ذخائر پر ڈیمز بنانے میں کابل حکومت کی ہر قسم کی مدد کر رہا ہے تاکہ پاکستان کو ہر جانب سے پانی سے محروم کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں غالباً سکردو/ گلگت کی جانب سے ایسے دریاؤں کی نشاندہی کی گئی تھی جس کے پانی کو ایک خاص مقام پر آکر روک کر اور اس کا رخ تبدیل کیا جائے تو پاکستان کو آبی بلیک میلنگ سے بچایا جا سکتا ہے جبکہ ادھر دریائے چترال جو ارندو کے آس پاس افغانستان کے اندر سفر کرتا ہوا دوسرے دریاؤں کیساتھ مل کر دریائے کابل کی صورت ایک بار پھر پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے اور اب افغانستان بھارت کی شہ پر اس کا پانی روکنے کی تدابیر کر رہا ہے، اگر ارندو ہی کے قریب دریائے چترال کا رخ پاکستان کے مہمند علاقوں کی جانب پھیر دیا جائے تو جیسا کہ انڈیا نے ہمارے حصے کے دریاؤں کیساتھ کیا ہے تو ہم اس آبی بلیک میلنگ سے نجات پا سکتے ہیں، بس منصوبہ بند ی کی ضرورت ہے۔
دیکھو یہ میرے خواب تھے دیکھو یہ میرے زخم ہیں
میں نے سبھی حساب جاں برسر عام رکھ دیا

اداریہ