Daily Mashriq

انصاف۔۔ صرف خواص کے لئے

انصاف۔۔ صرف خواص کے لئے

آج کل تو ہر کوئی ہر جگہ خفیہ ویڈیوز لیک کرنے کے شغل میں مصروف ہے۔ ابھی چند ہفتے قبل ہی چیئرمین نیب کی ایک خفیہ انداز میں بنائی گئی ویڈیو منظرعام پر آئی اور اب نواز شریف کیخلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو نے ملکی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔مسلم لیگ نواز کی جانب سے اس ویڈیو کے بعد یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ نواز شریف کو سزا دینے والے جج صاحب نے یہ فیصلہ کسی بیرونی دباؤ میں آکر دیا جبکہ نواز شریف بالکل بے قصور ہیں جبکہ حکومتی جماعت کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل اس ویڈیو کا فرانزک تجزیہ کروانے پر مصر ہے۔ ویڈیو منظرعام پر آنے کے ایک دن بعد ہی مذکورہ جج صاحب بھی اپنی وضاحت دینے کو سامنے آگئے، ان کے مطابق انہوں نے یہ فیصلہ کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس کیس میں انہیں دباؤ میں لانے کی واحد کوشش نواز شریف کے نمائندوں کی ہی جانب سے کی گئی تھی۔

غصے، خوف اور غیریقینی کے جذبات ہمارے اجتماعی قومی وجود پر طاری ہوتے جا رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے لیک ہونے میں بھی ہمیں جابجا انہی جذبات کی تحریک نظر آتی ہے۔ چاہے وہ نواز شریف کے حامیوں کی جانب سے اس ویڈیو کے بعد ان کیساتھ ہوئی ناانصافی پر ان جذبات کا اظہار ہو یا پھر ایک مبینہ قاتل کی اس ویڈیو میں جج صاحب کیساتھ موجودگی کا شور ہو۔ کچھ اسی قسم کے جذبات کا نشانہ جج صاحب بھی بن رہے ہیں کہ ایک جج کسی ایسے فرد سے کس طرح خفیہ ملاقاتیں کر سکتا ہے جس کے لیڈر کا مقدمہ حال میں ان کی زیرسماعت آیا ہو؟ مریم نواز شریف بھی اس ویڈیو کو غلط پلیٹ فارم سے سامنے لانے پر بھی تنقید کی زد میں ہیں۔ اس واقعے کے بعد ملک کے بڑے اور باخبر صحافیوں کی جانب سے آئندہ مزید ویڈیوز لیک ہونے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ان ویڈیوز سے نظام میں ہلچل پیدا ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ مگر یہاں ایک سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اس ویڈیو میں ایسا کیا تھا جو ہم اس سے قبل نہیں جانتے تھے؟ پاکستان کا نظام عدل ایسا خودمختار کب تھا کہ وہ انصاف کی فراہمی یکساں انداز میں کرے؟ بھٹو صاحب کے ٹرائل سے لیکر حال ہی میں مسلم لیگ نواز کے لیڈروں کی گرفتاریاں یہ سمجھانے کیلئے کافی ہیں کہ ہماری عدلیہ کن کن کمزوریوں کا شکار ہے۔ اگر آپ نے اس نظام عدل میں موجود خامیوں کو تفصیل سے سمجھنا ہو تو نواز شریف اور حنیف عباسی سے متعلق ان فیصلوں کا مطالعہ کیجئے جن میں انہیں رہائی دی گئی تھی، آپ پر سب واضح ہو جائے گا۔یہ بات بھی قابل ذکر ٹھہری کہ جہاں روزانہ درجنوں ماہرین ٹاک شوز میں زیرحراست سیاستدانوں کے آلام ومصائب پر نوحہ کناں ہوتے ہیں وہیں ان لوگوں کی زبانیں پاکستان کے ان عوام کے بارے آواز اُٹھاتے گنگ ہو جاتی ہیں جو بیگناہ یا اسی سقم زدہ نظام کے نتیجے میں ناحق جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑ رہے ہیں، ان لوگوں کا سیاست میں کوئی اثر ورسوخ نہیں، مگر ان کے بارے بولنے والا، ان کا خیال کرنے والا بھی کوئی نہیں۔

ہمارا نظام عدل عام لوگوں کیساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے اس کی ایک مثال جنید حفیظ کا کیس ہے جو مبینہ طور پر توہین مذہب کے الزام میں کئی سالوں سے جیل میں قید ہے۔ ریاست کی نظر میں وہ یا اس کا کیس کسی بھی خاص توجہ کا مستحق نہیں۔ سال2016 کی ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس کے سابقہ وکیل کو صرف اس پاداش میں قتل کر دیا گیا کہ اس نے جنید کا کیس لڑنے کی حامی بھری تھی، اس مقتول وکیل کے بعد نئے آنے والا وکیل متعدد درخواستوں اور کاوشوں کے باوجود عدالت کو کیس لاہور منتقل کرنے پر قائل نہیں کر پائے کیونکہ عدالت کی نظر میں وکیل کی طرف سے اپنی، ملزم اور ملزم کے گھر والوں کی جان کو درپیش خطرات اور ملنے والی دھمکیوں کے بارے میں پیش کردہ ثبوت ناکافی ہیں۔ یہ ملزم سالہا سال سے قیدتنہائی میں انصاف کا منتظر ہے اور ہم یہاں ایک ملزم، ایک جج اور ایک ویڈیو پر واویلا مچائے ہوئے ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ اگر لیک شدہ ویڈیو میں نظر آنے والے جج صاحب کو شریف خاندان کی طرف سے دباؤ کا سامنا تھا تو اتنا عرصہ وہ کیوں خاموش رہے؟ انہوں نے اس بابت کوئی شکایت درج کیوں نہیں کرائی؟ اس سب کے حل کے طور پر سالوں سے یہ تجویز دی جاتی رہی ہے کہ ججوں کو ہائی پروفائل کیسوں کی سماعت کے دوران کسی بھی قسم کے دباؤ سے محفوظ رکھنے کیلئے ان کی اور ملزمان کی شناخت کو خفیہ رکھنا چاہئے۔ ہمارے ملک کے سابق چیف جسٹس کے فیصلوں کو اب ان کے بعد آنے والے جج صاحبان واپس لے رہے ہیں۔ موصوف کی جانب سے سلیبریٹی سٹیٹس لینے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ افسوس کہ ہماری سیاسی قیادت بھی صرف اسی وقت عدلیہ سے خوفزدہ نظر آتی ہے جب وہ خود اس کے عتاب کا نشانہ بن رہے ہوں۔ جیسے عمران خان اسی وقت عدلیہ پر ناقد نظر آئے جب ان کی جانب سے دھاندلی کی درخواست پر کارروائی تاخیر کا شکار رہی، نواز شریف تب تک خاموش رہے جب تک عدلیہ کا سارا زور پیپلز پارٹی کی طرف تھا، یہ سال2008تا 2013 دور کی بات ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی پاناما کیس میں عدلیہ کی تمام تر کارروائی پر خاموشی سے بیٹھی رہی۔ گویا ان سب کو ایک ایسا سقم زدہ نظام عدل چاہئے جسے وہ اپنے مفاد کیلئے توڑ مڑور سکیں البتہ اگر کبھی وہ خود اسی نظام کے تحت پکڑے جائیں تو ان کی جانب سے تنقید کے نشتر نکال لئے جاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پورے نظام عدل میں اصلاحات لائی جائیں تاکہ سب کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اب چاہے وہ سابق وزیراعظم ہوں یا سندھ دھرتی کی ایک ہندو لڑکی۔ جب تک کہ اہم اس نظام میں پائے جانے والے بڑے بڑے مسائل کو حل نہیں کریں گے، تب تک انفرادی سطح پر سب کو انصاف کی فراہمی صرف ایک خواب ہی رہے گا۔

(بشکریہ: ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں