Daily Mashriq

بڑھتی آبادی اور خاندان کا تشکیلی پراسس

بڑھتی آبادی اور خاندان کا تشکیلی پراسس

کثرت آبادی کے مسئلہ کو سماجی علوم بالخصوص معاشیات اور سماجیات میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس موضوع پر سب سے پہلے تھامس مالتھس نے1978 میں ایک مضمون شائع کیا جو بعد میں علم آبادیات کی بنیاد بنا، مالتھس کا کہنا ہے کہ انسانی آبادی میں اضافہ جیومیٹریکل (Geometrical) انداز میں ہوتا ہے جیسے 2۔4۔8۔16 جبکہ اس کے بالمقابل غذائی اجناس کی پیداوار ارتھمیٹکل (Arithmetical) انداز میں ہوتی ہے جیسے 1۔2۔3۔4۔5۔ مالتھس کے مطابق انسانی آبادی ہر 25سال میں دوگنی ہوجاتی ہے جبکہ زرعی پیدوار میں اس شرح سے اضافہ نہیں ہوتا۔ یعنی کسی ملک کی آبادی2000ء میں ایک کروڑ تھی تو وہ 2025ء میں دو کروڑ ہوجائے گی۔ اس لئے اگر آبادی کے اضافہ کی رفتار پر قابو پانے کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو دنیا کو سخت بحرانی حالات سے دوچار ہونا پڑیگا۔ ایسے ممالک میں پاکستان سرفہرست ہے جہاں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کا مسئلہ انتہائی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے۔ ہمارے سیاستدان اور دانشور حضرات دہشتگردی، مہنگائی، توانائی کا بحران اور بیروزگاری کو پاکستان کے بڑے مسائل قرار دیتے ہیں لیکن کثرت آبادی کا مسئلہ جو ان تمام مسائل کی جڑ ہے اس کی طرف کبھی خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔پاکستان انسانی ترقی کے لحاظ سے147ویں درجے پر ہے جبکہ اس کی تیس فیصد کے قریب آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ شرح خواندگی اب تک صرف 58فیصد ہے جبکہ کئی کے نزدیک یہ بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ہر سال آبادی میں ہزاروں بچوں کا اضافہ ہوتا رہا تو پاکستان کیلئے147واں نمبر برقرار رکھنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ ایک اور تشویشناک بات شہری آبادی میں تیز اضافہ ہے جو بڑے شہروں کے نازک انفراسٹرکچر پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ مردم شماری کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ مردم شماری کے مقابلے میں اب شہری آبادیوں میں لامحدود اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ شہری اور دیہی آبادی کی واضح تعریف نہ ہونے کی وجہ سے یہ حقیقت بھی مردم شماری میں نہیں نظر آئی کہ پاکستان شہری آبادی میں اضافے کی تیز ترین شرح رکھتا ہے چنانچہ مجموعی آبادی کا صرف 36.4فیصد شہری ہونا بھی غیرحقیقی محسوس ہوتا ہے۔آبادی کے معاملے کو فطری انداز میں دیکھنا چاہئے، فطری انداز وہی ہے جو عقلِ عام پر مبنی ہو۔ خاندان کو سماج کی اکائی مانا گیا ہے۔ اگر خاندان مضبوط اور توانا ہوگا تو سماج بھی طاقتور ہوگا۔ خاندان میاں بیوی کے رشتے سے قائم ہوتا اور بچوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ یوں رشتوں کا ایک خوبصورت گلدستہ وجود میں آتا ہے۔ اگر میاں بیوی صحت مند ہوں اور ان کے پاس اتنے وسائل ہوں کہ وہ بچوں کو بہتر تعلیم دے سکیں، ان کی اچھی تربیت کر سکیں اور ان کی دیگر مادی واخلاقی ضروریات پوری کر سکیں تو ایسا خاندان خوشحال ہوگا اور ساتھ ہی وہ پورے معاشرے کیلئے باعث خیر بھی۔ اب یہ خاندان کے سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ خاندان کی فلاح اور بہتری کیلئے منصوبہ بندی کرے۔ ہمارے سماجی نظام میں یہ حیثیت مرد کو حاصل ہے۔ اس کو دیکھنا ہے کہ بیوی کی صحت کیسی ہے جس کے گرد گھر کی چکی گھوم رہی ہے۔ بچوں کو کیا مناسب تعلیم اور تربیت مل رہی ہے؟ اگر وہ بیمار پڑ جائیں گے تو کیا ان کے علاج معالجے کیلئے اہتمام کیا جا سکتا ہے؟ خاندان کا ایک اچھا سربراہ وہی ہے جو ان سب امور کو سامنے رکھتا ہے۔ موجودہ دور میں زیادہ آبادی کے بجائے ہنرمند، تعلیم یافتہ اور صحت مند آبادی کو معاشی ترقی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ بے تحاشا بڑی آبادی جو تعلیم اور ہنر سے بے بہرہ ہو اور جو صحت مند نہ ہو وہ ملک اور معاشرے کی ترقی میں کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے الٹا بوجھ بن جاتی ہے۔ آج کے جدید تعلیمی سسٹم کے تحت کلاسز کے مختلف سیکشن تشکیل دئیے جاتے ہیں، ایک سیکشن میں زیادہ سے زیادہ20 بچے ہوتے ہیں تاکہ اساتذہ ان پر خوب توجہ دے سکیں اور ان کی تعلیم میں کوئی کسر باقی نہ رہے، اس ضمن میں دیکھا جائے تو کیا ہر گھر اور خاندان کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنے وسائل اور ہمت کو دیکھ کر خاندان کی منصوبہ بندی کریں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش اور ایران جیسے دیگر مسلم ممالک نے اپنی آبادیوں پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، اس کا ثبوت ان کے پاس انسانی ترقی کے بہتر اشاریوں کی صورت میں ہے۔ ہمارے ہاں جب تک خاندانی منصوبہ بندی کے فروغ کی کوششیں نہیں کی جائیں گی، تب تک شرح آبادی میں اضافہ ہوتا رہے گا اور اگر یہی صورتحال رہی، تو2030 تک پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا اور انڈونیشیا کو بھی پیچھے چھوڑ دیگا۔ آبادی کے حوالے سے آج اکیسویں صدی میں بھی ہمارے سماج میں کئی طرح کے ابہامات اور تضادات پائے جاتے ہیں، ایک بڑی تعداد پاکستان کی بڑھتی آبادی کو سرے سے مسئلہ تصور نہیں کرتی، طرفہ تماشا تو یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے ایسے طبقے کی ذہن سازی اور بڑھتی آبادی کی شدت سے آگاہ کرنے کا کوئی معقول بندوبست نہیں ہے، اگر کوئی انفرادی طور پر آبادی کے حوالے سے کوشاں نظر آتا ہے تو ریاست کی سرپرستی نہ ہونے کی بناء پر اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو پاتے، اس تناظر میں دیکھا جائے تو ملک کو لاحق ان تمام مسائل کو تب تک حل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ آبادی کنٹرول میں نہیں لائی جاتی۔ ہوسکتا ہے کہ دیر ہو چکی ہو، مگر اب بھی اگر ریاست اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے، تو حالات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں