Daily Mashriq

چاکول چہ ما کول

چاکول چہ ما کول

خود کردہ را علاجے نیست‘ گزشتہ دو سال تک صوبائی حکومت نے محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام ثقافت کے زندہ امین پروگرام کے تحت ادباء‘ شعراء‘ فنکاروں‘ گلو کاروں‘ موسیقاروں‘ مصوروں اوردیگر متعلقہ افراد کیلئے ماہانہ بنیاد پر ایک معقول رقم تقسیم کرنے کا پروگرام شروع کیا۔ پہلے سال تو یہ سلسلہ (تقریباً) خوش اسلوبی سے تکمیل پذیر ہوا مگر گزشتہ برس اس میں بعض افراد نے کھنڈت ڈالنے اور بہر صورت خود کو بھی اس رقم کا حقدار قرار دینے کیلئے نہ صرف مخالفانہ پروپیگنڈہ مہم شروع کی بلکہ بعض لوگوں نے تو عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ سب سے پہلے تو جو 24رکنی کمیٹی اس کام کیلئے مقرر کی گئی تھی اور جس نے ’’اہل‘‘ افراد کے ناموں کو حتمی صورت دینی تھی‘ اگرچہ ان میں ہر ایک اپنی جگہ اپنے اپنے شعبے میں اپنی خدمات کے حوالے سے اہمیت کا حامل تھا اور اس سلسلے میں محکمہ ثقافت کے متعلقہ حکام نے بڑی عرق ریزی سے کمیٹی کے افراد کے نام فائنل کئے تھے جو ایک ایک درخواست کی نہایت باریک بینی سے جائزہ لیکر آگے بڑھ رہے تھے اور اس مقصد کے لئے ابتداء ہی میں محکمہ کے شائع کردہ پی سی ون کی شرائط کے مطابق ایک فارمولہ طے کرکے درخواستوں کی چھان بین کر رہے تھے‘ تاہم بد قسمتی یہ ہوئی کہ کمیٹی کے اجلاسوں کی روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پیش رفت کی خبریں لیک ہونے لگیں( ذمہ داروں کاتعین محکمہ ثقافت کو کرنا چاہئے) اس صورتحال نے ان لوگوں کے اندر بے چینی پیدا کردی جن کو یہ اطلاعات پہنچائی جاتی تھیں کہ ان کے نام فہرست میں شامل نہیں کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بلا کسی جواز کے متعلقہ کمیٹی کے ارکان پر لفظوں کی گولہ باری شروع کردی اور کلچر کمیٹی کو ’’ کچرا کمیٹی‘‘ جیسے ناموں سے مغلظات کی سان پر رکھتے ہوئے برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ اخبارات کے علاوہ فیس بک پر ایک طوفان بد تمیزی برپا کرکے پورے پراسیس کو بدنام کرنا شروع کردیا۔ اس تمام حرکات کے باوجود کمیٹی نے نہایت دیانتداری اور غیر جانبداری سے اپنا کام جاری رکھا۔ مگر ظاہر ہے کہ دو ہزار سے زیادہ درخواستوں میں سے صرف500افراد کو فائنل کرتے ہوئے درخواست کنندگان کی خدمات ان کے متعلقہ شعبوں میں مقام اور حیثیت اور دیگر عوامل کو چھان پھٹک کر ہی حتمی فہرست مرتب کی جانی تھی۔ اس ضمن میں خود کمیٹی کے ارکان کے ذہنوں میں ایک دو باتوں پر بحث ہوئی تو اس وقت کے سیکرٹری ثقافت نے خود آکر کمیٹی ارکان سے گفت و شنید کی اور جو ابہام پیدا ہوئے تھے ان کی وضاحت کرتے ہوئے محکمہ کی جانب سے شائع کردہ اشتہارات میں درج شرائط اور فارموں پر درج معلومات کے مطابق وصول شدہ درخواستوں پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔ اس کے بعد کمیٹی نے تمام تر میسر معلومات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اجلاس جاری رکھے اور بڑی عرق ریزی سے ایوارڈ یافتگان کے ناموں کو فائنل کرکے اپنا کام نمٹا دیا۔ یہاں تھوڑی سی وضاحت یہ بھی کرنا ضروری ہے کہ محکمہ ثقافت نے ہر شعبے کیلئے کوٹہ کا تعین کر رکھا تھا مثلاً اہل قلم کے لئے کتنے افراد کو فائنل کرنا ہے‘ ڈرامے کے افراد کی تعداد کیا ہوگی‘ موسیقی کے شعبے کو گلوکاروں‘ سازندوں‘ موسیقاروں‘ آلات موسیقی بنانے والوں‘ لوک فنکار بشمول لوک رقص کے حوالے سے تقسیم کیاگیا تھا۔ اسی طرح ڈرامہ فنکاروں اور فلم ایکٹرز‘ ڈائریکٹرز‘ ڈرامہ پروڈیوسرز‘ شعبہ موسیقی میں مصوروں‘ مجسمہ سازوں‘ فوٹوگرافروں وغیرہ کیلئے تعداد کاتعین الگ الگ کیا گیا تھا جو ایک الگ سے بہت ادّق کام تھا۔ اس لئے کمیٹی کو حتمی فہرست مرتب کرنے میں بہت سی دشواریوں کاسامنا تھا۔ اس دوران ایک اور صورتحال یہ پیدا ہوئی کہ اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کی جانب سے بھی ادباء و شعراء کو ماہانہ بنیادوں پر مبلغ 13ہزار روپے کے وظائف کا اعلان کیاگیا اور کسی نے یہ تجویز دی کہ جن لوگوں کو وہاں سے وظائف ملے ہیں ان کے نام یہاں سے خارج کردئیے جائیں حالانکہ میری ذاتی رائے میں یہ ایک غلط فیصلہ تھا کہ وہاں کاوظیفہ صرف 13ہزار روپے تھا اور صوبائی محکمہ ثقافت کے ایوارڈ کی مالیت 30ہزار روپے تھی اس پر بحث تو ضرور ہوئی لیکن نتیجہ وہی کہ صرف ایک جگہ سے ہی رقم لی جاسکتی ہے حالانکہ ہماری ذاتی معلومات کے مطابق کم از کم پنجاب میں ایسی صورتحال نہیں ہے اور وہاں پنجاب آرٹس کونسل سے مالی امداد لینے والوں پر اکادمی ادبیات کے وظائف کی وجہ سے کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔ بہر حال اکثریت کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ان لوگوں کے نام نکال دئیے گئے ہیں جنہیں اکادمی ادبیات سے وظیفہ جاری ہوا تھا۔اب کھنڈت وہاں آپڑی جب فہرست کو حتمی شکل دی گئی اور متعلقہ لوگوں سے ان کے اکائونٹس نمبر طلب کئے گئے۔ بس پھر کیا تھا جو لوگ محروم رہے تھے انہوں نے میڈیا پر ایک طوفان برپا کرکے نہ صرف اس پورے پراسیس کو مشکوک بنا کر رکھ دیا بلکہ بعض نے عدالتوں سے رجوع کرکے ان لوگوں کو بھی رقم سے محروم کردیا جن کے نام فائنل ہوچکے تھے یعنی سٹے آرڈر لے لیا‘ پھر وہ بھی مقابلے میں آگئے جنہیں ادائیگی ہونی تھی۔ انہوں نے بھی عدالتوں سے ریلیف لے کر پہلی قسط وصول کی مگر معاملہ اس قدر بدنام کردیاگیا کہ نیب کے کان بھی کھڑے ہوگئے اور پھر انکوائری شروع کردی گئی۔ یوں ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو جن کو شامل فہرست نہیں کیاگیا تھا انہوں نے نہ کھیڈاں گے نہ کھیڈنے دیاں گے والی صورتحال پیدا کردی تھی۔ خدا خدا کرکے یہ معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ تو گیا مگر ان لوگوں نے اس قدر گرد اڑائی تھی کہ اب حکومت نے شاید ’’ توبہ‘‘ کرلی ہے کہ مزید لوگوں کو یہ امداد نہیں دینی‘ حالانکہ شنید ہے کہ وزیر اعلیٰ نے ایک موقع پر 500افراد کی جگہ ایک ہزار مستحق ہنروروں کو رقوم دینے کا اعلان کیا تھا لیکن اب اس محاذ پر مکمل خاموشی ہے‘ اسی لئے تو ابتداء ہی میں گزارش کی ہے کہ خود کردہ را علاجے نیست!