Daily Mashriq

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

اکیسویں صدی میں زندگی تیز سے تیز تر ہوتی چلی جارہی ہے لوگوں کے پاس وقت ہی نہیں ہے جسے دیکھئے بھاگ رہا ہے وقت کی کمی نے لوگوں کو چڑچڑا کر دیا ہے اگر آپ کسی مصروف شاہراہ پر سست روی سے چل رہے ہیں تو اب یہ بھی ایک طرح کی بدتہذیبی سمجھی جاتی ہے کیونکہ آپ کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو تیز چلنے میں دشواری پیش آتی ہے آپ ان کیلئے رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اسی طرح کسی مصروف فٹ پاتھ پر کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے ملنا اور گپ شپ شروع کر دینا بھی خلاف تہذیب ہے کیونکہ آپ کی محبت بھری ملاقات بہت سے لوگوں کیلئے تکلیف کا سبب بن رہی ہوتی ہے۔ جب زندگی اتنی تیز رفتار نہیں تھی تو لوگوں میں برداشت کا مادہ بھی بہت تھا وہ صبر وتحمل سے ایک دوسرے کی غلطیاں معاف کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے تھے۔ مصروفیت جہاں بہت بڑی نعمت ہے وہاں ایک بہت بڑا عذاب بھی ہے، رات دن کولہو کے بیل کی طرح مشقت کی چکی میں پستے رہنا جدید طرززندگی کی ضرورت بن کر رہ گیا ہے۔ بقول الطاف حسین حالی

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

اب ٹھہرتی ہے دیکھئے کہ جا کر نظر کہاں

غریب آدمی نان شبینہ کیلئے بھاگ رہا ہے، اسے یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ بچوں کیلئے رزق کا بندوبست کرے، آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کا مقابلہ کرے، کتاب مہنگی ہے دوائی مہنگی ہے اشیائے خوردنی کی قیمیتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں، یہ وہ ضروریات زندگی ہیں جن کی ہر حال میں ضرورت پڑتی ہے۔ امتحانوں کا مہینہ جہاں اپنے ساتھ بہت ساری خوشیاں لیکر آتا ہے وہاں غریب کیلئے کچھ پریشانیاں بھی اپنے ہمراہ لئے آتا ہے۔ یہ بچوں کے امتحانی نتائج کے دن ہوتے ہیں بچے خوش ہوتے ہیں، نتیجہ نکلے گا نئی جماعت ہوگی نئی کتابیں کاپیاں ہوں گی۔ سفید پوش ماں باپ کو جہاں اپنے بچوں کے پاس ہونے کی خوشی ہوتی ہے وہیں یہ فکر بھی ہوتی ہے کہ نئے داخلے، نئے بستے، نئی کتابیں کاپیاں بھی خریدنی ہیں۔ نجی سکول مالکان زیادہ سے زیادہ کمانے کے چکر میں ایسا چکر چلاتے ہیں کہ والدین کو اپنے بچوں کیلئے نئی کتابیں ہر حال میں خریدنی پڑتی ہیں اورکتابوں کاپیوں کے ایک سیٹ کی قیمت ہزاروں میں ہوتی ہے۔ ہر سال نصاب میں کچھ تبدیلیاں ضرور کی جاتی ہیں اب غریب کا بچہ اپنے بہن بھائی کی کتابیں بھی استعمال کرنے سے رہا۔ نجی سکول مالکان اب لاکھوں پتی نہیں رہے بلکہ کروڑوں میں کھیل رہے ہیں لیکن مال کی محبت مزید بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ اگر دو بہن بھائی کسی سکول میں اکھٹے پڑھ رہے ہوں تو ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق ان کی فیس آدھی ہوتی ہے لیکن یہاں عدالت عظمٰی کی کون سنتا ہے اور پھر پوچھنے والا کون ہے؟ قاعدے قانون پر ایک واقعہ ذہن میں آرہا ہے یہ بھی پڑھ لیجئے۔ کسی علاقے میں دو حکیم صاحبان اپنا مطب چلاتے تھے، اچھی خاصی آبادی والا علاقہ تھا لوگوں کی بدقسمتی کہئے کہ ایک حکیم صاحب کے پاس حکمت کی جو سند تھی وہ جعلی تھی (آپ سند کو ڈگری کہتے ہیں جیسے ہمارے کچھ سیاستدانوں کے پاس جعلی ڈگریاں تھیں) ایک دن وہ جعلی سند والے حکیم صاحب سچ مچ کے حکیم صاحب سے ازراہ مذاق کہنے لگے کہ جناب آپ تو جانتے ہیں کہ میری حکمت کی سند جعلی ہے اور آپ طبیہ کالج دہلی کی مستند سند رکھتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ ہم دونوں کے پاس آنے والے مریضوں کے مرنے کی اوسط ایک جیسی ہے، میں یہ سوچ سوچ کر بڑا حیران ہوتا ہوں کہ آپ کی اصلی سند کا کیا فائدہ ہوا؟ حکیم صاحب نے کہا جناب جو مریض ہم سے علاج کروانے کے باوجود اللہ کو پیارے ہو جاتے ہیں وہ کسی قاعدے قانون کے تحت مرتے ہیں لیکن جو مریض آپ مارتے ہیں وہ بغیر کسی قاعدے کے ملک عدم کو سدھار جاتے ہیں اور ان کی اس رخصتی میں آپ کا بھرپور تعاون شامل ہوتا ہے۔ کالم کے آغاز میں تہذیب کے حوالے سے بات چلی تھی پھر عوامی مسائل زیربحث آگئے، اب جسے دیکھئے سرپٹ بھاگ رہا ہے ہم میں کتنے ایسے ہیں جو صبح وسویرے اٹھ کر چڑیوں کی چہکار سنتے ہیں، رات کو دیر تک ٹی وی دیکھنا اور پھر صبح دیر سے اُٹھنا۔ ایک اور مسئلہ بھی توجہ طلب ہے آج ہر دوسرا شخص نیٹ پر کام کرتا ہے، سیل فون اس کی انگلیوں کی زبان سمجھتا ہے، ادھر اشارہ ہوتا ہے اور ادھر سیل فون اور نیٹ آپ کے حکم کی تعمیل میں جت جاتے ہیں اس سے آپ کا ذہن کچھ اس طرح ہو جاتا ہے کہ آپ انسانوں سے بھی اتنی ہی تیزی کیساتھ کاموں کی توقع کرتے ہیں لیکن انسان تو انسان ہے وہ کمپیوٹر یا سیل فون تو نہیں ہے، جب اتنی تیزی سے آپ کے احکامات کی تکمیل نہیں ہوتی تو آپ کا پارہ چڑھ جاتا ہے۔ سیانے کہتے ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر غضب ناک ہو جانا کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہے اور اس کا نقصان سب سے پہلے اسے ہی ہوتا ہے جو غصہ کرتا ہے اور پھر غصے میں انسان کو نہ صرف یہ سمجھ نہیں آتی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے بلکہ وہ اپنے مخاطب کی بات بھی نہیں سنتا، اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بات مزید بگڑتی چلی جاتی ہے!

متعلقہ خبریں