Daily Mashriq

امریکا میں برطانوی سفیر نے سفارتی مواصلات لیک ہونے پر استعفیٰ دے دیا

امریکا میں برطانوی سفیر نے سفارتی مواصلات لیک ہونے پر استعفیٰ دے دیا

لندن: برطانیہ کے واشنگٹن میں سفیر کم ڈیروچ نے سفارتی مواصلات لیک ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شدید تنقید کے بعد استعفیٰ دے دیا۔

واضح رہے کہ برطانوی اخبار نے رواں ہفتے برطانیہ اور امریکا کے درمیان خفیہ مواصلات عیاں کیے تھے جس کے بعد سے دونوں اتحادی ممالک میں تعلقات خراب ہوگئے ہیں۔

بعد ازاں کم ڈیروچ نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو 'بے مثال ناکام' اور امریکی صدر کو 'عدم تحفظ پھیلانے' کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کم ڈیروچ کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہیں 'انتہائی احمق شخص' قرار دیا۔

انہوں نے تھریسا مے کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور اسے 'احمقانہ' قرار دیا اور کہا کہ 'اچھا ہے کہ وہ جا رہی ہیں'۔

واضح رہے کہ کم ڈیروچ جنوری 2016 سے واشنگٹن میں موجود ہیں جبکہ انہیں رواں سال کے اختتام تک اس ہی عہدے پر رہنا تھا تاہم ایک بیان میں انہوں نے کہا 'موجودہ صورتحال میں میرا کام کرنا ناممکن ہوگیا ہے'۔

انہیں برطانیہ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے حمایت حاصل تھی، ان کے استعفے پر سیکریٹری خارجہ جیریمی ہنٹ کا کہنا تھا کہ 'بات یہاں تک نہیں آنی چاہیے تھی'۔

جیریمی ہنٹ نے امریکی صدر کے رد عمل کو 'غلط اور غیر مودبانہ' قرار دیا۔

واضح رہے کہ برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے دو مرحلوں میں بورس جونسن نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔

ماضی میں بورس جونسن کا بھی امریکی صدر سے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوچکا ہے۔

2015 میں لندن کے میئر کے عہدے پر، ڈونلڈ ٹرمپ کے برطانیہ کے دارالحکومت میں انتہا پسندی کی موجودگی کے بیان پر انہوں نے امریکی صدر کو 'کم عقل' قرار دیا تھا۔

اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ 'مجھے لگتا ہے کہ وہ اپنی بے وقوفی کو نظر انداز کر رہے ہیں جو انہیں امریکا کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے نا اہل بتاتی ہے'۔

متعلقہ خبریں