Daily Mashriq

ورلڈکپ سیمی فائنل: انگلینڈ اور آسٹریلیا کی تاریخ

ورلڈکپ سیمی فائنل: انگلینڈ اور آسٹریلیا کی تاریخ

کرکٹ کے بارہویں ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں دفاعی چیمپیئن آسٹریلیا اور میزبان انگلینڈکے درمیان کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے تاہم دونوں ٹیموں کی ورلڈ کپ کی تاریخ میں سیمی فائنل میں کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو 5 مرتبہ کی چیمپیئن آسٹریلیا کو واضح برتری حاصل ہے۔

ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان برمنگھم میں کھیلا جائے گا جبکہ آسٹریلیا کی ٹیم کو رواں ورلڈکپ میں بھی انگلینڈ پر واضح برتری حاصل ہے جہاں انہیں دو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ انگلینڈ کو 3 میچوں میں شکست ہوئی۔

آسٹریلیا نے 25 جون کو لارڈذ کے تاریخی گراؤنڈ میں گروپ میچ میں انگلینڈ کو 64 رنز کے واضح مارجن سے شکست دے کر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی تھی۔

ورلڈ کپ کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو انگلینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیمیں پہلی مرتبہ 1975 میں اولین ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں آمنے سامنے آئی تھیں جہاں آسٹریلیا نے انگلینڈ کو چاروں شانے چت کرکے فائنل میں جگہ بنائی تھی لیکن ویسٹ انڈیز نے فائنل میں انہیں شکست دے دی تھی۔

انگلینڈ اور آسٹریلیا کا 1987 ورلڈکپ کے فائنل میں بھی مقابلہ ہوا اور ایک مرتبہ پھر انگلینڈ کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں آسٹریلیا پہلی مرتبہ کرکٹ کا چیمپیئن بن گیا تھا۔

کرکٹ ورلڈ کپ کی ابتدائی تاریخ میں انگلینڈ نے زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی تینوں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک رسائی کی جبکہ 1979 میں کامیابی بھی حاصل کی۔

 انگلش ٹیم ورلڈکپ 1979 کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو شکست دے کر فائنل میں پہنچی تھی جہاں انہیں ویسٹ انڈیز سے شکست ہوئی تھی۔

ورلڈ کپ 1987 کے بعد انگلینڈ کی ٹیم مسلسل دوسری مرتبہ 1992 کے ورلڈکپ میں بھی سیمی فائنل میں پہچنے میں کامیاب تو ہوئی لیکن فائنل میں ایک مرتبہ پھر اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب اس کے سامنے آسٹریلیا نہیں بلکہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان کا چیلنج درپیش تھا۔

تاہم 27 سال کے عرصے کے دوران انگلش ٹیم عالمی کپ کے دوران کبھی بھی کوارٹر فائنل مرحلے سے آگے نہیں بڑھی اور تقریباً تین دہائیوں بعد پہلی مرتبہ اسے اپنے ہوم گراؤنڈ میں آئن مورگن کی قیادت میں سیمی فائنل تک پہنچنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں کبھی شکست نہیں ہوئی

دوسری جانب آسٹریلیا کا ورلڈکپ کا سفر انتہائی شان دار ہے، آسٹریلیا کو سب سے زیادہ 5 ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل ہے اس کے علاوہ سیمی فائنل میں کبھی بھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور 7 فائنلز میں صرف دو مرتبہ شکست ہوئی۔

آسٹریلیا نے پہلی مرتبہ 1975 میں سیمی فائنل میں انگلینڈ کو شکست دی اور دوسری مرتبہ 1987 میں پاکستان کو شکست دے کر فائنل تک رسائی کی اور چمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

پاکستان، بھارت اور سری لنکا کی میزبانی میں 1996 کا ورلڈ کپ کھیلا گیا اور آسٹریلیا نے ایک مرتبہ پھر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیمی فائنل تک رسائی کی اور کامیابی بھی حاصل کی۔

آسٹریلیا نے 1996 ورلڈکپ میں ویسٹ انڈیز کو شکست دی تھی جبکہ فائنل میں اس وقت کی ناتجربہ کار سری لنکا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اسٹیووا کی قیادت میں آسٹریلیا نے 1999 کا ورلڈ کپ کھیلا جہاں انہوں نے سیمی فائنل میں ڈرامائی انداز میں جنوبی افریقہ کو شکست دی جو کرکٹ کی تاریخ کا منفرد سیمی فائنل ہے جبکہ فائنل میں وسیم اکرم کی قیادت میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کرنے والی پاکستانی ٹیم کو یک طرفہ مقابلے کے بعد شکست دے کر دوسری مرتبہ چمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

آسٹریلیا نے 1999 میں چیمپیئن بننے کے بعد ریکارڈز قائم کرتے ہوئے مسلسل کامیابیاں حاصل کی اور 2003 اور 2007 کے ورلڈ کپ میں بھی چیمپیئن کا تاج پہن لیا، 2003 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں سری لنکا کو شکست دی تھی اور فائنل میں بھارت کو ہرایا تھا۔

آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ 2007 کے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں مدمقابل آئی تھیں لیکن آسٹریلیا کا پلڑا ایک مرتبہ پھر بھاری رہا اور فائنل تک رسائی کرتے ہوئے مسلسل دوسری مرتبہ سری لنکا کو شکست دے کر ورلڈ کپ جیتنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کی تھی۔

رکی پونٹنگ کی قیادت میں آسٹریلیا نے ورلڈ کپ جیتنے کی ہیٹ ٹرک کی تھی لیکن 2011 کے ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل تک رسائی ممکن ہوئی لیکن 2015 میں ورلڈ کپ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مشترکہ طور پر کھیلا گیا۔

آسٹریلیا کو کرکٹ کی تاریخ میں ہوم گراؤنڈ میں ورلڈ کپ جیتنے والی دوسری ٹیم بننے کا اعزاز حاصل ہوا اس سے قبل بھارت نے 2011 میں ہوم گراؤنڈ میں سری لنکا کو شکست دے کر یہ ریکارڈ بنایا تھا۔

تین دہائیوں بعد اب ایک مرتبہ پھر آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیمیں سیمی فائنل میں مدمقابل ہیں، انگلینڈ کو ہوم گراؤنڈ کا فائدہ بھی حاصل ہے جبکہ آسٹریلیا کے پاس ورلڈ کپ کی تاریخ میں انگلینڈ کو اہم میچوں میں شکستوں سے دوچار کرنے کا ریکارڈ بھی ہے۔

آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں کی موجودہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہوگا کہ کون سی ٹیم سیمی فائنل باآسانی جیتے گی جبکہ تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے تو آسٹریلیا کو برتری حاصل ہے تاہم گزشتہ دونوں ورلڈ کپ میں فاتح میزبان ٹیمیں رہی ہیں اور اس حوالے سے بھی ہیٹ ٹرک بھی ہوسکتی ہے۔

انگلینڈ کی فتح کی صورت میں ورلڈ کپ کی تاریخ میں آسٹریلیا کو سیمی فائنل میں پہلی مرتبہ شکست ہوگی جبکہ آسٹریلیا کی فتح کی صورت میں گزشتہ دو ورلڈ کپ میں میزبان ٹیم کے فاتح بننے کی روایت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل جیت کر تاریخ بدل دیتی ہے یا آسٹریلیا اپنی کامیابی سے آخری دونوں ورلڈ کپ کی تاریخ کو پاش پاش کرے گا یہ فیصلہ تو برمنگھم کے میدان میں ہی ہوگا۔

متعلقہ خبریں