Daily Mashriq

 غذائی سپلیمنٹس صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند؟

غذائی سپلیمنٹس صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند؟

وٹامن اور غذائی سپلیمنٹس صحت کو کسی قسم کا فائدہ پہنچانے کی بجائے فالج جیسے امراض کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ بیشتر غذائی سپلیمنٹس کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچاتے بلکہ پیسوں کا ضیاع ہوتے ہیں، جبکہ وٹامن ڈی اور کیلشیئم کے امتزاج پر مبنی سپلیمنٹس فالج کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

 اس طرح کے سپلیمنٹس اکثر ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کھائے جاتے ہیں اور ان کا استعمال درمیانی عمر کے افراد میں زیادہ ہوتا ہے، جو پہلے ہی فالج کے خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔

اس تحقیق کے دوران 10 لاکھ افراد پر ہونے والے 277 ٹرائلز کا تجزیہ کیاگیا اور دیکھا گیا کہ 16 مختلف اقسام کے نیوٹریشنل سپلیمنٹس اور 8 غذائی سپلیمنٹس کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ان سپلیمنٹس کی اکثر خون کی شریانوں سے جڑے امراض یا موت سے بچانے میں کوئی مدد فراہم نہیں کرتے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 34 فیصد بالغ افراد روزانہ وٹامنز اور سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں اور اس پر سالانہ 37 ارب ڈالرز خرچ کیے جاتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ کچھ سپلیمنٹس مختلف طبی مسائل سے تحفظ میں کسی قسم کی مدد فراہم کرتے ہیں جیسے فولک ایسڈ فالج کے خلاف کسی حد تک تحفظ فراہم کرسکتا ہے یا مچھلی کے تیل کے کیپسول میں موجود فیٹی ایسڈز کسی حد تک امراض قلب سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

تاہم ملٹی وٹامنز، وٹامن اے، وٹامن بی سکس، وٹامن سی، وٹامن ای، وٹامن ڈی اور آئرن وغیرہ صحت کو کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچاتے۔

محققین کا کہنا تھا کہ کیلشیئم اور وٹامن ڈی کے امتزاج پر مبنی سپلیمنٹس فالج کا خطرہ 17 فیصد تک بڑھاتے ہیں جبکہ دیگر سپلیمنٹس سے خون کی شریانوں کے امراض وغیرہ سے تحفظ میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

متعلقہ خبریں