Daily Mashriq


سینیٹ کی سفارشات

سینیٹ کی سفارشات

سینیٹ میں مالیاتی بل 2017ء اور سالانہ بجٹ گوشوارے پر 250سے زائد سفارشات کی متفقہ طور پر منظوری دیتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 20فیصد اضافہ ، قومی مالیاتی کمیشن کے جلد اجراء ، سینیٹ آف پاکستان کو مالی اختیار دینے کی سفارش کرد ی گئی ہے۔ سفارشا ت قومی اسمبلی کو ارسال کردی گئیں ، ان سفارشات میں کہا گیا ہے کہ حکومت این ایف سی ایوارڈ میں مزید تاخیر نہ کرے ، چھوٹے صوبوں اور قبائلی علاقہ جات کے حقیقی مطالبات پر توجہ دیتے ہوئے ان کے سماجی ، معاشی ، معاشرتی تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ احساس محرومی میں کمی ہو سکے موثر چیک اینڈ بیلنس کیلئے سینیٹ آف پاکستان کی اتھارٹی کو تسلیم کیا جائے ، قومی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی ) بھی بحث کیلئے سینیٹ میں پیش کیا جائے ، کمیٹی اراکین نے خدشہ ظاہر کیا کہ قومی اسمبلی میں سینیٹ کی تجاویز پر عمل نہیں کیا جاتا ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سینیٹ کو یقین دہانی کرائی کہ قابل عمل سفارشات کو بجٹ اور فنانس بل کا حصہ بنایا جائے گا ، گزشتہ سال بھی سینیٹ کی 20سفارشات کو شامل کیا گیا تھا ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کا آئین بنانے والوں نے اگر چہ آبادی کے لحاظ سے قومی اسمبلی میں زیادہ نشستوں پر صوبہ پنجاب کی ''ڈکٹیٹر شپ '' کو روکنے کی تد بیر سینیٹ میں تمام صوبوں کو برابر نشستیں دیکر روک لگانے کی کوشش ضرورکی تھی لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول گئے تھے کہ اگر قومی اسمبلی میں کسی ایسی پارٹی کی حکومت آجائے جو صوبوں میں بھی اقتدار میں آجائے تو سینیٹ میں بھی اسے اکثریت ملنے کی وجہ سے وہ پھر بھی اتنی طاقت حاصل کر سکے گی کہ پھر چھوٹے صوبوں کے مفادات کا حصول مشکل امر ہو جائے گا ۔ دوسرا یہ کہ مالیاتی بل کو سینیٹ کے سامنے پیش نہ کرنے کے اصول کو تسلیم کرنے سے بھی بہت سے مسائل جنم لے سکتے ہیں ، یوں دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال میں سینیٹ کی کوئی خاص اہمیت نہیں رہ جاتی اور چھوٹے صوبوں کے مفادات کا تحفظ ایک مشکل امر بن چکا ہے ، اس لئے جب بجٹ پر سینیٹ میں بحث ہی نہیں کی جاسکتی تو حکومت سے سفارشات پر عمل کروانا ممکنات میں سے نہیں رہتا ۔ بد قسمتی سے ملک کے اندر ارکان پارلیمنٹ جب چاہیں اپنی تنخواہوں اور مراعات میں تو اضافہ کر کے اس پر عمل در آمد بھی کروا لیتے ہیں لیکن جہاں تک سرکاری ملازمین اور پنشنرزکا تعلق ہے ان کے ساتھ گزشتہ کئی برس سے انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا جارہا ہے اور قومی اسمبلی کے اراکین سٹیر یو ٹائپ کے بیانات دے کر صرف ''حاضری '' تو لگوالیتے ہیں مگر حقیقی معنوں میں اس مظلوم طبقے کی مشکلات کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا نہیں کرتے ۔ اب جبکہ سینیٹ نے حاضر سروس اور پنشنرز کیلئے 20فیصد اضافے کی سفارشات دے دی ہیں تو ممبران قومی اسمبلی کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ان سفارشات میں اپنی آواز شامل کرتے ہوئے حکومت کو آمادہ کریں کہ وہ ان سفارشات کو فنانس بل کا حصہ بنائے ، اگر چہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ تو ضرورکہا ہے کہ ان سفارشات کو بجٹ اور فنانس بل کا حصہ بنایا جائے گا تاہم ساتھ ہی انہوں نے اس کے ساتھ ''قابل عمل '' کی شرط بھی عاید کردی ہے اور ظاہر ہے سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہوں اور پنشن کے اضافے کو قابل عمل کا سرٹیفیکیٹ بڑی مشکل سے ہی نصیب ہونے کے امکانات ہیں۔ ظاہر ہے حکومتوں کو اپنے اللوں تللوں کیلئے اخراجات کرنے میں تو کوئی مشکل نہیں ہو سکتی لیکن جہاں غریب ملازمین کو فائدہ پہنچانے کا سوال آجائے تو وزارت خزانہ کے ہر افسر اور کار کن کی تیوریاں چڑھ جاتی ہیں۔ بہر حال ضروری ہے کہ حکومت فضول خرچیوں سے اجتناب کرتے ہوئے سرکاری ملازمین اور پنشنر ز کو مسائل سے نمٹنے میں مدد دینے میں کردار ادا کرے اور 20فیصد اضافے کی سفارشات کو تسلیم کرتے ہوئے جلد از جلد اعلان کر دے ۔

پانچ مرلے کے مکانات

یہ بات خوش آئند ہے کہ صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں اس بات کی وضاحت کر دی ہے کہ پانچ مرلے کے ذاتی مکانات پر کسی قسم کا پراپرٹی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا ، حالانکہ بجٹ تقریر سے اس قسم کا غلط تاثر ضرور ابھرا تھا ، چونکہ پانچ مرلے کے ذاتی مکانات پر ٹیکس ایم ایم اے کے دور حکومت میں ختم کیا گیا تھا جس کو بعد میں آنے والی کسی بھی حکومت نے بحال نہیں کیا تھا اس لئے کہ پانچ مرلے کے مکانات غریب اور متوسط طبقے کے افراد ہی کی ملکیت ہیں جو مشکل ہی سے پراپرٹی ٹیکس ادا کرنے کے قابل ہوتے ہیں ، اس لئے اس فیصلے کو برقرار رکھنے پر ہم صوبائی وزیر خزانہ کی تحسین کئے بنا ء نہیں رہ سکتے۔

متعلقہ خبریں