Daily Mashriq


داعش : کونسی داعش

داعش : کونسی داعش

گزشتہ ماہ ایک چینی مرد اور خاتون کو کوئٹہ کے جناح روڈ سے اغواء کیاگیا۔یہ دونوں ایک ادارے میںلینگوئج ٹیچرتھے ۔ آج خبرآئی ہے کہ داعش نے ان کے قتل کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ داعش کون ہے۔ اس کی چینی لینگوئج ٹیچرز سے یا ان کے چینی مہمانداروںیعنی پاکستان سے کیا دشمنی ہے ۔ داعش کے بارے میں تقریباً ساری معلومات کی بنیاد مغربی میڈیا میںشائع ہونے والی خبریں ہیں کہ مغربی میڈیا کی رسائی عراق اور شام میں ہے جہاں داعش قائم ہوئی اوربرسرپیکار ہے۔ ان اطلاعات سے کم ازکم دو تاثرابھرتے ہیں ۔ایک یہ کہ داعش کے لوگ بہت سفاک ہیں ، برسرعام مظالم کو خوف و ہراس کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔کسی کی جان کی پروا نہیں کرتے ۔ دوسرا اہم تاثر یہ ہے کہ داعش اپنی تشریح کے مطابق اسلامی نظام رائج کرنا چاہتی ہے۔یہ اس سے بھی ظاہر ہے کہ داعش جغرافیائی اصطلاحات بھی اسلامی تاریخ کے قدیم دورکی استعمال کرتی ہے۔مثال کے طور پرسال ڈیڑھ سال پہلے خبر شائع ہوئی تھی کہ داعش نے ایک سابق طالبان کمانڈر کوافغانستان اورپاکستان میںاپنا نمائندہ مقررکیا ہے اوریہ کہ داعش افغانستان اور پاکستان کو اقلیم خراسان قراردیتے ہیں۔اقوام متحدہ نے بھی ایک مطالعہ شائع کیاتھا جس میںکہاگیاتھاکہ ہر ہفتے یورپی ممالک سے آٹھ سے دس نوجوان عراق اور شام کا سفر اختیار کرتے ہیں جہاں وہ داعش کے جہاد میںشریک ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی کہاگیاکہ داعش کا اعلان یہ ہے کہ نوجوان داعش کے علاقے میںآئیں' جہاد میںشریک ہوں' جب تک چاہیں جہاد میںشرکت کریںاورجب چاہیں اپنے وطن واپس جا کر داعش کے مراکز قائم کریں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ شام میں بے گھر ہونے والی لڑکیوں کوداعش والے نکاح کے لیے خرید لیتے ہیں۔ ان خبروںسے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتاہے کہ داعش ایک ایسی تنظیم ہے جودنیا بھر سے اپنی طرز کی سوچ رکھنے والوںکو اپنی جنگ میں شرکت کے لیے بلا رہی ہے اور اس کی خواہش یہ بھی ہے کہ اس میں شامل ہونے والے جنگجووطن واپس جاکر داعش کے مراکز قائم کریں جہاںسے مزیدجنگجو بھرتی کیے جائیںحوالہ نورین لغاری کیس۔ ان دفاتر کوداعش کی''موجودگی'' قرار نہیںدیا جا سکتا یعنی ان مراکز کے بارے میں یہ کہنا بے جاہوگا کہ یہ داعش کے تنظیمی مراکزہیں۔تنظیمی مراکز وہ ہوںگے جو داعش کی قیادت کے زیرِنگرانی کام کریںگے۔اب تک پاکستان میں داعش سے متعلق الزام میںجولوگ پکڑے گئے ہیں ان کے قبضہ سے کمپیوٹر بھی ملے ہیں۔ ان میںداعش کالٹریچر بھی ملا ہے ، عملِ تنویم کی مہارت کی نشاندہی بھی ان میںہوئی ہے اور کچھ اسلحہ بھی لیکن اتنا نہیں جتناکراچی یا فاٹا کے ذخائر سے برآمد کیاگیا۔کوئی بھی سیاسی تنظیم جو شدت پسندی کو اپنے لیے جائز قرار دے لیتی ہے وہ اپنے کاز کے جائزہونے کی تشہیر چاہتی ہے اس کے لیے وہ کسی اچانک لرزہ خیز واقعہ کا سہارا لینے کی کوشش کرتی ہے ۔لیلیٰ خالدکے طیارے کے اغوا کی واردات سے قبل کوئی الفتح کے بارے میںشاید ہی اتناجانتاہو جتنی الفتح اس واقع کے بعدمشہور ہوئی ۔داعش نے پے درپے حملہ کی وارداتیں کیں 'اپنے مخالفوں کوموٹرسائیکلوںکے پیچھے باندھ کر کھینچا ۔آج کے زمانے میںلاشوں کامثلہ کیا۔اس کے بعد داعش دنیا بھر میںایک جانا پہنچانالفظ ہے۔

پاکستان میں بھی سانحہ صفوراکی واردات ہوئی ۔اس کا مقصد غالباً ایسے ممکنہ جنگجوؤںکو متوجہ کرناہوگا جن کی موجودگی کے بارے میںگمان تھا کہ وہ ہیں۔اگر یہ واردات داعش کی بطورتنظیم موجودگی کا اعلان ہوتی تو ایسا کوئی نشان چھوڑا جاتا جو نہیںچھوڑاگیا ' نہ ذمہ داری قبول کرنے کااعلان کیاگیا۔لہٰذا یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں داعش کے وطن واپس آنے والے جنگجوؤں کے مراکز تو ہیں۔ شاید ان کے درمیان کوئی رابطہ بھی ہوا ہواورانہوں نے مستونگ کے قریب کوہ ماہاں کی پہاڑیوں میں کوئی کانفرنس کرنے کے لیے رابطے بھی کیے ہوں۔ جن کا پاک فوج کے سرچ آپریشن کی ٹیموں سے تصادم ہوگیا اور ان میں 10سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوئے۔ یہ لوگ جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے آئے تھے انہیںکیاضرورت تھی کہ وہ چینی باشندوں کے اغواء میںاستعمال ہونے والی گاڑی کو بھی اپنے ٹھکانے کے نزدیک ہی چھوڑ دیتے۔ اس لیے یہ ممکن ہے کہ داعش کے واپس آنے والے جنگجو جوممکن ہے داعش کی کسی ذیلی تنظیم سے وابستہ ہوں اپنا قومی سطح کا مرکز قائم کرنے کی کوشش میں ہوںجو پاک فوج نے ناکام بنا دی (حالانکہ داعش نے پہلے ہی اقلیم خراسان کے سربراہ کا اعلان کر رکھا ہے) لیکن چینی اساتذہ کے قتل کی واردات ان کے ذمے نہیںلگائی جا سکتی کیونکہ ان کے اغواء میں استعمال ہونے والی گاڑی متذکرہ غاروںکے قریب پائی گئی ہے جسے غاروں میںمشاورت کرنے والے اپنے سراغ کے لیے نہیںچھوڑ سکتے تھے۔ البتہ چینی جوڑے کے قتل کی واردات میں بھارت کی خفیہ ایجنسی راء کی ذمہ داری ہونے میں کسی شک کی گنجائش بہت ہے۔اغواء میںاستعمال ہونے والی کار سپلنجی کے غاروںکے قریب چھوڑی ہی اس لیے گئی تھی کہ اغوا کاالزام وہاں روپوش ہونے والوں پر آئے۔سپلنجی کے غاروں میں مارے جانے والے جنگجوؤں کی ہلاکت کے ایک دن بعد چینی باشندوں کے قتل کا اعلان کیا گیاہے ' یہ بھی اس قتل کوداعش کے ساتھ جوڑنے ہی کی چال ہے۔ بھارت کی را کے کلبھوشن یادیو نے بلوچستان اور کراچی میں اپنے نیٹ ورک قائم کیے ہیں جو اس کے بیانات سے ظاہر ہے۔ یہ نیٹ ورک اپنی شناخت کوچھپانے کے لیے داعش کی شہرت سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیںَاس لیے تخریب کاری کی یہ واردات اور ایسی ہی دوسری وارداتیں داعش کی بجائے داعش کے پردے میںرا کی بھی ہو سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں