Daily Mashriq


بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

وزیر اعلیٰ کی بات پر کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے کہ بقول ان کے صوبہ نہیں ، واپڈا خود بجلی چور ہے ، بجلی چوروں کو پکڑنے کیلئے پولیس فراہم کرنے کو تیار ہیں ، ہماری ضرورت 2500میگا واٹ ہے اور ملتی 1800میگا واٹ ہے ، باقی چوری کی جارہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ 55پیسے فی یونٹ کی بجلی دس روپے 45پیسے فی یونٹ میں فروخت کی جارہی ہے ، یہ فرق بھی دیکھا جائے ۔ اس طرح صوبے کا منافع سو ارب روپے بنتا ہے ، بجلی ہمارے حوالے کی جائے تو آدھی قیمت پر دیں گے۔ وفاق بجلی کے ترسیل کے نظام پرتوجہ نہیں دے رہا ، کیا بجلی بنا کر سمندر میں ڈالیں گے ، وزیر اعلیٰ کے ان ارشادات پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی ، تاہم وہ جوسیاستدانوں نے کہا ہے کہ دوسرے کی طرف ایک انگلی اٹھانے سے تین انگلیاں خود اپنی طرف اٹھتی ہیں اس لیے ان کا بھی احساس کرنا چاہیئے ۔ یہی وجہ ہے کہ وفاق کے زیر انتظام واپڈا پر بجلی چوری کے الزامات لگانے سے پہلے اگر وزیر اعلیٰ خود اپنے ہاں ہونے والی چوری اور سینہ زور پر بھی توجہ دے دیں تو یہ جو بعض ادارے عوام کی چمڑی ادھیڑ نے پر تلے ہوئے ہیں اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز سے عوام کو لٹ رہے ہیں ، ان کا بھی محاسبہ ہو سکے گا ۔ جی ہاں ضلعی حکومت کے زیر کنٹرول عوام کو آبنوشی کے معاملات پر کنٹرول رکھنے والے واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز کی لوٹ کھسوٹ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ ادارہ عوام سے جبراً اضافی چارجز وصول کرنے کیلئے جس قسم کی تگڑم بازی کر رہا ہے اس پر عوام اگر احتجاج پر اتر آئے تو متعلقہ حکام کیلئے مسئلہ بن جائے گا ۔ سروسز فراہم کرنے والے مختلف ادارے یعنی واپڈا کے ذیلی ادارے بجلی کی فراہمی ، سوئی سدرن اور سوئی سدرن گیس کی فراہمی پر صارفین کو بل بھجواتے ہیں تو بروقت جبکہ طویل بلوں میں پانچ سات رو ز کی مہلت دیکر عوام کو اپنی سہولت کے مطابق بلوں کی ادائیگی کا وقت دیا جاتا ہے ، یہاں تک کہ ٹیلیفون کے بل تو بہت دن پہلے موصول ہو جاتے ہیں اوران کی ادائیگی میں دس سے پندرہ روز کی مہلت موجود ہوتی ہے مگر اس کے بر عکس آبنوشی کے بل گزشتہ روز یعنی 8جون کو دن کے ایک بجے کے بعد گھروں میں پھینکے گئے جبکہ یہی تاریخ ان بلوں کی ادائیگی کی بھی تھی۔ اب آپ دیکھ لیجئے کہ ان دنوں رمضان کی وجہ سے بینکوں کے اوقات کا ربھی تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ جس وقت یہ بل گھروں میں پھینکے گئے اس وقت گھر کے مرد حضرات اپنے اپنے کام کیلئے گھروں سے باہر تھے ، خود میں جب ڈھائی بجے گھر پہنچا تو 8جون کو جمع کیا جانے والا بل ، 8تاریخ ہی کو میرے متھے مار دیا گیا ، یوں مجبوراً دوسرے روز یعنی 9جون کوبینک میں اس پر بلاجواز ، غیر اخلاقی ، غیر قانونی طور پر عائد کردہ جرمانہ بھرنے کی نوبت آگئی ، اور اسی حوالے سے میں نے عرض کیا ہے کہ کیا یہ حرکت عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف نہیں ہے ؟ بلکہ اگر اسے بھتہ خوری قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ آخر ایک ادارے کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ یوں عوام کو لوٹنے کی کوشش (کامیابی سے ) کرے ۔ کیونکہ اگر یہ بل تین چار دن پہلے بھیج دیئے جاتے تو عوام کو جرمانے (زبردستی ) ادا کرنے پر مجبور تو نہ کیا جاتا ، یہ صریح زیادتی ہے اور نہ صرف ضلع ناظم ، بلکہ وزیر بلدیات کو بھی صورتحال کا نوٹس لیکر صورت احوال کی اصلاح پر توجہ دینی چاہیئے ۔

بقول جون ایلیاء

بولتے کیوں نہیں مرے حق میں

آبلے پڑگئے زبان میں کیا؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ جو خبر آئی ہے کہ بلدیاتی اداروں سے 33ارب کم وصولی کا خدشہ ہے اور حکومت نے بلدیاتی اداروں کے فنڈز میں کمی کا فیصلہ کیا ہے تو ضلعی حکومت نے ڈبلیو ایس ایس پی کو حکم دیا ہو کہ عوام کی چمڑی ادھیڑ کر کچھ تو زیادہ وصول کر کے اس ممکنہ کمی پر قابو پانے کی کوشش کرو، اور اس قسم کے اداروں کو تو ایسے ہی مواقع کی تلاش رہتی ہے ۔ بس جناب عوام کو پانی کے استعمال (جو ویسے بھی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پورا دسیتاب نہیں ہو رہا جبکہ آئے روز مختلف علاقوں میں ٹیوب ویلوں کی بندش سے مزید کم ہو جاتا ہے )کی ''سزا '' دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے دن ایک بجے کے بعد اسی روز جمع کئے جانے والے بل مہیا کر کے ان کی جیبوں پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالنے کی ترکیب ڈھونڈی گئی حال ہی میں ملک بھر میں فروٹ کی مہنگائی کے حوالے سے چلنے والی سوشل میڈیا تحریک نے اب عوام کو جگا دیا ہے اور وہ اپنے حقوق کیلئے لڑنے کا گر جان چکے ہیں ، اس لیے گزارش یہی کی جا سکتی ہے کہ صوبائی وزیر بلدیات اور ناظم اعلیٰ پشاور ڈبلیو ایس ایس پی کا قبلہ درست کرنے پرتوجہ دیں ، متعلقہ حلقوں سے اس بات کی باز پرس کریں کہ انہوں نے شہر یوں کو لوٹنے کا یہ عمل کس قانون اور اخلاق سے کیا ؟ اور کیوں پانی کی فراہمی کے بل ادائیگی کی آخری تاریخ سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے بھیجنے کی بجائے اسی روز گھروں میں پھینک دیئے جس روز ان کی ادائیگی ضروری تھی اور وہ بھی ایسے وقت جب بینکوں میں چھٹی ہو چکی تھی ۔ یوں عوام کولوٹ کر خزانہ بھر ا گیا ۔ اگر ایسا نہیں کیا جائے گا تو عوام کو مجبوراً اس قسم کے اداروں کے خلاف بھی سوشل میڈیا کا سہارا لینا پڑے گا از امکان قرار نہیں دیئے جا سکتے ۔ بقول اکبر حمیدی

خامشی جرم ہے منہ میں زباں ہواگر

کچھ نہ کہنا بھی ہے ظلم کی حمایت کرنا

متعلقہ خبریں