Daily Mashriq


شنگھائی تعاون تنظیم

شنگھائی تعاون تنظیم

پاکستان اور بھارت شنگھا ئی تعاون تنظیم کے کل وقتی رکن بنالیے گئے ہیں ۔ مغرب میں اس تنظیم کو نیٹو طاقت کے توازن کے طو رپر دیکھا جا رہا ہے ۔ روس نے تنظیم کے اجلا س میں بھارت کی کل وقتی رکنیت کے لیے وکالت کی جبکہ چین نے پاکستان کی حما یت کی۔ یہ تنظیم 2001ء میں وجو د میں آئی تھی، جس کا مقصد معاشی ، اقتصادی ، تجا رتی اور دیگر شعبو ں میں علا قائی ملکو ں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور مسائل کو حل کر نا ہے مگر مغربی دنیا کی اس بارے میں سوچ الگ ہی رہی ہے ان کا گما ن ہے کہ چین اب باہر کی دنیا کی طرف قدم بڑھا رہا ہے اور اپنی طا قت کا مظاہرہ کر نا مقصود ہے چنانچہ وہ بیر ونی ملک اپنے اڈے قائم کر نے کی تگ ود و میں ہے تاکہ ایک سپر پاور کی حیثیت حا صل ہو جا ئے۔ اسی طرح رو س کے بارے میں یہ گما ن کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی کھو ئی ہو ئی عالمی طا قت کو جلد سے جلد بحال کر نے کی مساعی میں ہے ۔ جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھر ا تھا تو اس لمحے امریکا نے رو س کی علا قائی بالا دستی کو تسلیم کیا تھا اور سوویٹ یو نین کے ممالک کو روس کی دولت مشتر کہ اسی طرح تسلیم کرنے کا اعلا ن کیا تھا جس طرح برطانو ی دولت مشترکہ کو تسلیم کیا گیا تھا۔ روسی دولت مشتر کہ کو تسلیم کر نے کا مطلب یہ تھا کہ امر یکا نے عالمی سطح پر یہ یقین دہا نی کرائی تھی کہ امریکا اور اس کے اتحا دی سوویت یونین ریا ستوں میں کوئی مخالفت نہیں کر یں گے مگر آنے والے دنو ں نے دیکھا کہ امریکا نے روس کے لیے مسائل پید ا کیے جس کی وجہ سے روس اور امریکا میں طاقت کی ایک اور خامو ش جنگ کا آغاز ہو ا جو مشرق وسطیٰ کے حالا ت میں عیا ں ہو چکا ہے۔پاکستان علا قہ کا ایک ایسا ملک ہے جس کو نظر اند ازکر نا کسی طا قت کے بس کی بات نہیں ہے ، افغانستان کے معاملے میں امریکا چاہے کتنا ہی لا ڈ بھارت کے اٹھائے مگر جو کر دار افغانستان میں پاکستان ادا کر سکتا ہے اس کا عشر عشیر بھی بھارت کے بس کی بات نہیں ہے ، بھارت کی سب سے زیا دہ ضرورت توانائی کے شعبے کو ترقی دینا ہے جبکہ شنگھائی تعاون کے ممالک میں خاص طور پر اسلا می ریاستیں توانائی کی دولت سے مالا مال ہیں جن سے بھارت مستفید ہو سکتا ہے اور اس کے علا وہ بھارت جس کو اپنی تجارت کے فروغ کا بھی مسئلہ ہے تووسطی ایشیا کی مسلم ریا ستو ں سے فائد ہ پا سکتا ہے لیکن یہ سب اس کو پاکستان کے تعاون کے بغیر حاصل کرنا ممکن نہیں ہے چنا نچہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے بھارت کو پا کستان کے ساتھ بنا کر رکھنا ہو گی اور اس کر دار سے اجتنا ب کر نا ہو گا جو وہ سارک ممالک میں ادا کرتا رہا ہے جیسا کہ اس نے پا کستان میں منعقد ہو نے والی سارک کا نفر نس کا پاکستان دشمنی میں بائیکاٹ کر کے کا نفرنس کا ستیا نا س کیا۔ اگر ایسا ہی کردار وہ ایس سی او میں بھی کر تا رہا تو شاید اس تنظیم کے دوسرے ممالک برداشت نہ کر پائیں گے۔ پھر خود بھا رت کے بھی مفا د میں نہیں ہے کہ وہ دشمنی کی سیاست ایسے عالمی ادارو ں میں پھیلا ئے ۔ بھارت کے لیے یہ لمحہ فکر یہ ہو نا چاہیے کہ وہ علا قہ میں امن کے بغیر ترقی اور استحکا م پاسکتا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان نے چینی صدر کی اس تجو یز سے بھی اتفاق کیا کہ ایس سی او کے رکن ممالک کے درمیا ن اچھی ہمسائیگی کا آئندہ پانچ سالہ معاہد ہ ہو نا چاہیے ۔ پا کستان کی جانب سے اس تجو یز کی حمایت اس امر کی دلیل ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے میں مخلص ہے پا کستان کے وزیر اعظم نو از شریف کا یہ دعویٰ درست بنیا دپر ہے جیسا کہ انہو ں نے افغانستان میں مو جو د ملا فضل اللہ کے بارے میں بتایا۔ یہ قابل تو جہ بات ہے کہ افغانستان جو آئے دن پا کستان پر الزام تراشی کرتا ہے وہ عالمی برادری کو جو اب دے کہ مبینہ طور پر معروف اس دہشت گردکے خلا ف افغانستان نے کیا کر دار ادا کیا۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کو بھی اپنے رویے کا جا ئزہ لینا چاہیے او رچینی صدر پر کھل کر اپنا مو قف بیان کر نا چاہیے کہ وہ اس بات سے کس حد تک متفق ہے ۔ کیو ں کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طا قت ہیں سرحدو ںپر کشید گی پائی جاتی ہے اس سے محدو د جنگ کا آغاز محسو س کیا جا سکتا ہے ، بھارت کی یہ پالیسی تھی کہ محدود جنگ کو روبہ عمل لا یا جائے نا معلو م بھارت کے پالیسی ساز کس سوچ کے تحت محدو د جنگ کی اسٹریٹجی کو روبہ عمل لا نا چاہتے ہیں اس بارے میں یہ کھلی بات ہے کہ دونو ں ممالک جو ہر ی طاقت ہیں۔ ایسے میں محدو د جنگ ممکن تو کہلا ئی جا سکتی ہے مگر فیصلہ کن قر ار نہیں پاسکتی ۔علا وہ اڑھائی عشرو ں سے دنیا میں جنگ کے انداز تبدیل ہو گئے ہیں اب ہا ئی بر ڈ جنگ کا زما نہ ہے جو سفارتی ، معاشی ، سیا سی اور معلو ما تی بنیا دو ں پر لڑی جاتی ہے جس کا مقصد دشمن پر چڑھا ئی کرنے کی بجائے اس کو ان شعبو ں میں زک پہنچا کر مفلو ج کر نا ہو تا ہے اور اپنا مطیع بنا نا ہو تا ہے مگر یہ پاکستان کے بارے میں خواب کی باتیں ہیں ۔ پاکستان کی پالیسی ہے کہ بھارت کشمیر کے مسئلے کو مسلمہ اصولو ں پر طے کرے۔ اب تو بھارتی نیتاؤ ں نے بھی تسلیم کرلیا ہے کہ کشمیر بھارت کے ہا تھو ں سے نکلا جا رہا ہے ، دوسری پاکستان کی پا لیسی یہ ہے کہ بھارت پا کستان کے ساتھ برابری کی بنیا دپر تعلقات قائم کر ے ۔ پا کستا ن کو طفیلی ملک نہ گردانا جائے ۔ بہر حال شنگھائی کا نفر نس کے ممالک ان دونو ں ممالک کے درمیان بھی تعلقات میں خوشگواری پید اکر نے میں کر دار اد ا کرسکتے ہیں ۔ اس کے ساتھ دونو ں کو خود بھی سوچنا چاہیے دونو ں سارک تنظیم کے بھی اور شنگھائی تعاون تنظیم کے بھی ممبرہیں اور دونو ںتنظیموں کا علاقے کے لیے اہم ترین کر دار بن سکتا ہے۔ دونو ں کی اہمیت مسلمہ ہے اسی لیے دونو ں ممالک خطے کی تنظیمو ں میںشامل کیے جاتے ہیں کیو ں کہ ان کے بغیر ایسی تنظیمیں بے سود قرار پا تی ہیں ۔

متعلقہ خبریں