Daily Mashriq


 تیسرے کھلاڑی کی آمد کا خوف

تیسرے کھلاڑی کی آمد کا خوف

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی جاری ہے اور ایک کرکٹ میچ سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں ملکوں میں تعلقات معمول پرآرہے ہیںمگر یوں لگتا ہے کہ کلبھوشن یادیو کیس میں پاکستان کا جو پائوں بھارت کی دُم پر پڑا تھا اس کی ٹیسیں اب جانے کا نام نہیں لے رہیں ۔کلبھوشن یادیو کا پاکستان میں قید رہنا اس بیانیے کو غلط ثابت کرنے کے لئے کافی ہے جس کا چورن بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی ملکوں ملکوں یہ کہہ کر بیچ رہے ہیں کہ پاکستان دنیا میں دہشت گردی برآمد کرنے والا ملک ہے اور ''مظلوم ''بھارت اس کے ہاتھوں زخم اُٹھا رہا ہے ۔کلبھوشن کی موجودگی اور اعترافات بھارت کی اس معصومیت کے آگے ایک سوالیہ نشان ہے ۔اس لئے بھارت کلبھوشن یادیو کو چھڑانے کے لئے اپنے ترکش کا آخری تیر عالمی عدالت انصاف میں جا کر استعمال کرچکا ہے ۔بھارت کے حکمرانوں کو یہ احساس ہے کہ کہیں وہ عالمی عدالت انصاف میں جا کر کوئی غلطی تو نہیں کر بیٹھے ۔اس کا احساس بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کا یہ تازہ بیان ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر عالمی عدالت انصاف میں نہیں اُٹھا سکتا کیونکہ شملہ معاہدے اور اعلان لاہور کے دونوں ملک اختلافات کو باہمی طور پر حل کرنے کے پابند ہیں۔سشما سوراج کے باہمی طور پر حل کرنے کی بات سے اس طویل اور پیچیدہ کھیل میں کسی تیسرے کھلاڑی کے داخل ہونے کا خوف جھلک رہا ہے ۔ایک مدت تک بھارت امریکہ سے یہ خوف محسوس کرتا رہا ۔نوے کی دہائی میں جب کشمیر میں مسلح جدوجہد کا آغاز ہو رہا تھا اور بھارت امریکہ کو اپنی منڈیوں تک رسائی دینے میں متامل تھا تو بھارت کو خدشہ تھا کہ امریکہ کشمیر کو ایک بفر سٹیٹ بنانے کی راہ پر چل رہا ہے ۔اب بھارت امریکہ کی طرف سے مطمئن ہو چکا ہے اور اب بھارت کو چین کی طرف سے اسی طرح کا خوف لاحق ہے ۔اس کے ساتھ ہی اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف کا جو خوف بہت کم تر درجے پر تھا کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت انصاف میں جانے سے اس کاگراف بھی بلند ہو گیا ہے۔ سشما سوراج کی طرف سے مسائل کو باہمی طور پر حل کرنے کا اعلان اقوام متحدہ کی طرف سے کچھ اشاروں کے فوراََ بعد سامنے آیا ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹرس نے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ایک بار پھر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت پر زور دیا تھا کہ وہ دوطرفہ مذاکرات سے اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔عین اسی دوران اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی امور کے شعبے نے جموں وکشمیر کا نام الگ ملکوں کی فہرست کے ساتھ جار ی کیا ہے ۔اس فہرست میں شام کی اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کا نام بھی شامل ہے ۔ابھی تک نہ بھارت کی طرف سے اس فہرست میں کشمیر کانام شامل کرنے پر احتجاج کیا گیا اور نہ اقوام متحدہ کے متعلقہ شعبے نے اسے سہو قرار دے کر دفاعی انداز اختیار کیا ہے ۔اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی امور کے شعبے کے اس صفحے کی اہمیت یہ ہے کہ اس میں شامل علاقوں سے تعلق رکھنے والی این جی اوز کو اقوام متحدہ کی اقتصادی اور سماجی کونسل میں مشاورتی درجہ حاصل ہوتا ہے ۔جب دنیا کے کسی علاقے کو اقوام متحدہ کے کسی شعبے میںالگ ملک کے طور پر شامل کیا جاتا ہے تو اس علاقے میں سرگرم تنظیم کو مبصر کا درجہ حاصل ہوتا ہے،تنظیم کا نمائندہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار بھی کر سکتا ہے اور اسے کچھ معاملات میں ووٹ کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔اس سے پہلے گوگل ،ٹوئٹر اور فیس بک بھی کشمیرکو پاکستان کا حصہ ظاہر کر چکے ہیں ۔جس کے بعد ہی بھارتی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک بل متعارف کرایا تھا جس کے مطابق اروناچل پردیش کوچین اور کشمیر کو پاکستان کا حصہ دکھانے والے کسی ادارے یا شخص کے لئے سخت سز ا تجویز کی گئی تھی ۔یہ سزا سات برس قید اور ایک سو کروڑ جرمانہ مقرر کی گئی تھی ۔اقوام متحدہ کو کشمیریوں ،پاکستان اور بھارت کے بعد مسئلے کا چوتھا اہم ترین کھلاڑی اور فریق قرار دیا جا سکتا ہے ۔گوکہ یہ ادارہ ستر برس سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی اہم پیش رفت نہیں کرسکا مگر کشمیر کے مقدمے کا اول سے آخر تک گواہ یہی ادارہ ہے ۔ ستر برس کاعرصہ گزر گیا ہے اوراس عرصے میں زمینی حقیقتوں اور تاریخی سچائیوں کو چھپانے اور بدلنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر حالات کا پرنالہ وہیں ہے جہاں اقوام متحدہ کے دروازے پر بھارتی وزیر اعظم پنڈت نہرو کی دستک کے وقت تھا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ حالات اس سے مزید ابتر ہوگئے ہیں ۔اس صورت حال میں اقوام متحدہ جیسے عالمی ادارے کو اشاروں کنایوں سے آگے بڑھ کر کچھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے ۔اب نقشے چھاپ کر یا آزادملکوں کی فہرست میں کشمیر کانام شامل کرکے ''صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں'' والا کھیل ختم کرکے اس ادارے کو فعال اور عملی اقدامات کرکے برصغیر کے عوام کے سروں پر منڈلانے والے ایٹمی جنگ کے خطرے کو محدود یا بتدریج ختم کرنا ہوگا ۔

متعلقہ خبریں